| امریکہ اور پاکستان کا دفاعی منصوبہ بندی میں تبالہ |
منجانب , U.S. Embassy, Islamabad, Pakistan شئیرمتعلقہ خبریںامریکہ اور پاکستان کا مشترکہ بیان پاکستان اور امریکہ کا دفاع ورکنگ گرو میں حکمت عملی پر تبادلہ خیال دفاعی منصوبہ بندی میں تبالہ اسلام آباد (10 جون، 2010) – پاکستانی اور امریکی دفاعی افسران نے راولپنڈی میں پاکستان کے مشترکہ عملے کے صدر دفتر میں جون 10-7 کے دوران حکمت عملی پر تبادلہ خیال کے تحت باہمی مفادات کے بارے میں ملاقات کی۔ دفاعی ورکنگ گرو، جو کہ دفاعی منصوبہ بندی میں تبالے کے نام سے جانا جاتا ہے مارچ میں واشنگٹن ڈی۔سی۔ میں اس سال ہونے والے وزارتی سطح پر امریکہ اور پاکستان کے ڈائیلاگ اجتماع کے بعد یہ پہلا ورکنگ گرو کا احتماع تھا۔ پاکستان کی طرف سے اس کی رہنمائی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اطہر علی، پاکستان کے دفاعی وزیر اور امریکہ کی طرف سے مسٹر ڈیوڈ اوچومنک، فورس کی ترقی کے امریکی نائب وزیر دفاع اور مسٹر ڈیوڈ سیڈنی، افغانستان کے لیۓ امریکی ڈپٹی نائب وزیر دفاع، پاکستان اور مرکزی ایشیا۔ دونوں طرفین کی مدد کے لیۓ متعلقہ شعبوں اور وزارتوں کے افسران موجود تھے۔ دونوں جانب سے دفاعی تعلقات میں تعاون کا جائزہ لیا گیا اور اس پر گفتگو کی گئی اور کئی سالوں کے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سے متعلقہ باہمی مشکلات اور دفاعی اور سیکیوریٹی کے طریقہ کار کو مربوط بنانے اور فوقیت دینے کے لیۓ جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے مستقبل کے ممکنہ سیکیوریٹی کے تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گيا۔ امریکی وفد نے تشدد والی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیۓ پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور اس جرات اور پاکستان کی فوج کی جانب سے دی جانے والی غیرمعمولی قربانیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی تشدد والی شدت پسندی کے خلاف جنگ کو بھی سراہا۔ پاکستان کی جانب سے بھی پاکسان کی سیکیوریٹی فورسز کو شدت پسندی کے خلاف امریکی مدد اور تعاون کو سراہا گیا۔ یہ بات چیت بہت خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی اور دونوں فریقین نے دفاعی منصوبہ بندی میں تبالے کے سلسلے میں دوبارہ ملنے پر اتفاق کیا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















