| امریکہ عراق میں جنگی کاروائیوں کا خاتمہ وقت پر کر دے گا |
منجانب Elaine Wilson, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
نائب صدر جوزف بائیڈن جونیئر نے 4 جولائی کو آل فاء محل کیمپ جیت میں یوم آذادی کے موقع پر امریکی شہریت دینے کی ایک تقریب سے خطاب کیا۔ بائیڈن کے ساتھ سفر کرنے والے عہدہ داروں کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق میں جنگی کاروائیوں کا خاتمہ وقت پر کر دے گا۔
بغداد ( 3 جولائی 2010) – نائب صدر جو بائیڈن کے ساتھ سفرکرنے والے انتظامیہ کے سینئر عہدہ دارں نے ہفتے کے دن کہا کہ امریکہ عراق میں جنگی کاروائیوں کا خاتمہ اس موسم گرما میں دیۓ گئے وقت سے پہلے ہی کر دے گا اور ایک مستقل حکومت کی عدم موجودگی اس منصوبے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ لیکن ایک عہدہ دار نے غیر سرکاری طور پر بتایا کہ ہم اور عراقی عوام یہ دیکھنا چاہیں گے کہ عراقی حکومت کی تشکیل جتنی جلدی ممکن ہو سکے مکمل ہوجائے۔ مارچ کے انتخاب کے بعد سے عراق میں سیاسی جوڑ توڑ ابھی جاری ہے اور ایک مستقل حکومت کا تشکیل ہونا ابھی باقی ہے۔ عہدہ دار نے کہا کہ اس اختتام ہفتہ پر نائب صدر کی عراق میں موجودگی کے دو مقاصد ہیں اور وہ یہ ہیں کہ چار جولائی کی چھٹی کے دن امریکی دستوں سے ملاقات اور سینئر عراقی قیادت سے ملاقات کی جائے جو کہ حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور یا کہ اگلی حکومت کی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج نائب صدر عراق میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے ایڈ ملکرٹ سے ملے جس کے بعد انہوں نے عراق میں امریکی فورسز کے کمانڈر فوجی جنرل ریمنڈ اوڈیرنو اور عراق میں امریکی سفیر کرسٹوفرہل سے ایک ملاقات کی۔ بائیڈن نے اوڈیرنو اور ہل کے ساتھ ملاقات کے آغاز پر نامہ نگاروں سے سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں شروع سے ہی اس پر بہت پرامید رہا ہوں کہ یہاں پر تشکیل پائے جانے والی حکومت ایک نمائندہ حکومت ہو گی جوکہ تمام جماعتوں کی نمائندگی کر سکے گی۔ درایں اثنا ایک عبوری نگران حکومت کام کر رہی ہے جو سلامتی فراہم کر رہی ہے اور عراقیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مگر عراق میں خواہ ایک عبوری نگران حکومت ہو یا ایک مستقل حکومت امریکہ اب بھی عراق میں جنگی کاروائیوں کا خاتمہ وقت پر کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں عراق میں فوجی موجودگی کم ہوتی جا رہی ہے بنیادی طور پر امریکہ ایک فوجی مشن سے ایک شہری، سیاسی اور معاشی مشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 2008 سے فوج میں اضافے کےدوران 165،000 سے فوجیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کم ہو کر آج 82،000 رہ گئی ہے اور یہ امریکی فوجی ہی ہیں جو کہ عراق میں خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ امریکی – عراقی سکیورٹی کے سمجھوتے کے مطابق یہ تعداد موسم گرما کے آخر میں گھٹ کر 50،000 تک رہ جاۓ گی اور دستوں کا کردار صرف"مشورہ دینے اور مدد کرنے" تک رہ جاۓ گا اور سمجھوتے کے مطابق تمام امریکی دستوں کو 2011 کے آخر تک عراق کو چھوڑنا ہو گا۔ عہدہ دار نے زور دے کر کہا کہ لیکن یہ تبدیلی ایک رات میں تو نہیں آ پائے گی۔ ہم 31 اگست کو روشنی کا بٹن پلٹ نہیں رہے ہیں، جنگی کاروائیاں ختم ہو جائیں گی لیکن جنگی دستوں کی موجودگی ختم نہیں ہو گی۔ اس وقت بھی ہمارے دستے خاصی تعداد میں جنگی استعداد کے ساتھ یہاں موجود ہوں گے۔ جنگی مشن سے ایک مشورہ دینے اور مدد کرنے کے مشن میں تبدیلی پہلے ہی بہت حد تک وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ گذشتہ سال جب سے امریکی فوجی عراقی شہروں سے باہر نکلے ہیں یہ قیادت عراقیوں نے سنبھال رکھی ہے۔ عہدہ دار نے کہا کہ اوڈیرنو نے بتایا کہ ان کو اس منصوبے پر "مکمل اعتماد" ہے۔ اپنے دیۓ ہوۓ وقت کے مطابق امریکہ اپنے دستے نکال رہا ہے اور عراق سے ساز و سامان نکالنے کے حوالے سے یہ دیۓ گئے وقت سے بھی پہلے مکمل ہو رہا ہے۔ ایک دوسرے عہدہ دار نے اضافہ کیا کہ اوڈیرنو کو عراقی سکیورٹی فورسز پر اعتماد ہے۔ درحقیقت حملے مجموعی طور پر"تاریخی نچلی" سطح پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوے کہا کہ عراق نے اپنی سکیورٹی فورسز کی قیادت میں سکیورٹی فراہم کر کے انتخاب منعقد کیۓ ہیں اور حالیہ مہینوں میں عراق میں القاعدہ کے سینئر رہنما یا تو مار دیۓ گۓ ہیں یا ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عراقی فورسز نے عراقیوں کی جمع کی ہوئی خفیہ معلومات پر عمل کر کے اس کاروائي کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمبروں ا، 2، 3، اور 4 – کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ گنتے کیسے ہیں، عراق میں القاعدہ کے سارے سینئر ارکان کو عراقیوں نے میدان سے ہٹا دیا ہے۔ عہدہ دار نے عراق میں زمین پر"زبردست تبدیلی" کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ اب ریسٹورانٹ کُھل رہے ہیں، لوگ جمع ہو رہے ہیں اور عمومی مصروفیت بڑھ گئ ہے۔ انہیں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ عراق پر توجہ نہیں دے رہا یا اس سے لا تعلق سا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی چیز بھی سچ سے اتنی دور نہیں کہ ہم ادھر کی قوم سے لا تعلق ہو رہے ہیں، بلکہ ہمارے تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ہم حقیقت میں عراق کو دوبارہ ابھرتے دیکھ رہے ہیں۔ "عملا" ہر دفعہ جہاں بھی رکاوٹیں پیش آتی رہیں اورعراقیوں نے راستہ ڈھونڈ نکالا۔ ایسا ہمیشہ سے آسانی سے نہیں ہوا ہے اور اس میں وقت لگا ہے، لیکن سیاسی عمل کے ذریعے عراقیوں نے راستہ ڈھونڈ ہی نکالا ہے۔ عہدہ دار نے کہا کہ بائیڈن عراق میں موجودگی کے دوران اپنی قوم کے عزم کی طرف توجہ دلائیں گے اور ان کی قیادت کو سنیں گے اور ان کو جب ان سے پوچھا جائے گا صرف اسی صورت میں مشورہ دیں گے ۔ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عراق میں یہ بائیڈن کا چوتھا اور ان کی بیوی ڈاکٹر جل بائیڈن کا جو کہ اس سفر میں اپنے شوہر کے ہمراہ تھیں پہلا دورہ ہے۔ کل بائیڈن امریکی دستوں کو شہریت دینے کی ایک تقریب میں شرکت کریں گے جس کے بعد وہ امریکی دستوں اور سینئر عراقی عہدہ داروں سے ملاقات کریں گے- |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















