| امریکی بحریہ نے ایرانی ماہی گیروں کو بحریہ عرب میں بچیایا |
منجانب US Naval Forces Central Command شئیرمتعلقہ خبریںبحیرہ عرب [ جنوری 6، 2012] کل شمالی بحیرہ عرب میں امریکی مال برادر کشتی جان سٹینس نے ایرانی ماہی گیروں کو قزاقوں سے بچایا ۔ تقریباً ساڑھے بارہ کے قریب مال برادر کشتی سے ایرانی ماہی گیروں کی کشتی المولائی کوSH 60S سی ہاک سمندری جہاز نے گائیڈڈ میزائل یو ایس ایس کڈ ڈسٹرویر [ڈی ڈی جی 100] کے زریعے ایک مشتبہ قزاقی کشتی کے قریب پایا۔ اُسی وقت الموالائی کے سربراہ سے مدد کی پکار وصول ہوئی کہ قزاقوں نے انھیں یرغمال بنا رکھا ہے۔ کڈ کی ایک آمد، تلاش اور حراست میں لینے والی ٹیم، المولائی پر سوار ہوئی اور وہاں پر 15 مشتبہ قزاقوں اور 13 ایرانی ممبران جن کو انھوں نے کئی ہفتوں سے یرغمال بنائے رکھا تھا، آزاد کرا دیا۔ ایرانی ماہی گیروں کے عملے کے مطابق خیلج فارس میں المولائی کی کشتی کو قزاقوں نے ایک "مرکزی کشتی" کے طور پر قزاقی کاروائیوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ قزاقوں نے فوراً ہتھیار ڈال دیے اور کشتی پر سوار ہوتے ہوئے مزاحمت نہیں کی۔ بحریہ کے مجرموں کی تحقیقاتی ٹیم کے نمائندے جان شیمنکی جو کہ کڈ پر سوار تھے نے کہا کہ الموالائی کی کشتی کو لگ بھگ 40-45 دنوں کے قریب قبضے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے عملے کو یرغمالی بنایا گیا اور انھیں محدود راشن فراہم کیا، مزید برآں شاید قزاقوں نے انھیں انکی مرضی کے خلاف قزاقی کاروائیوں میں بھی شامل کروایا ہو۔ کڈ کے عملے کے مطابق ایرانی یرغمال عملے نے انھیں بتایا کہ قزاقوں نے انھیں سخت حالات میں رکھا اور انھیں دہمکا کر، انکے راشن اور طبی امداد کو محدود کر دیا۔ شیمنکی نے کہا کہ ہم نے انھیں پانی، خوراک اور طبی امداد فراہم کیں۔ یہ عملہ بہت سخت حالات سے گُزرا تھا اور ہم بڑھ چڑھ کر اس ماہی گیر عملے کے ساتھ عزت اور ہمدردی سے پیش آئے۔ کشتی اور اس پر سوار تمام اشخاص کو حفاظت تک پہنچانے کے بعد ہم نے دونوں کو، ایرانی یرغمالی ماہی گیروں اورمشتبہ قزاقوں کو، کھانا اور پانی فراہم کیا اور پھر اپنے عمومی عملیات کے مطابق انسداد قزاقی کی تحقیقات میں مصروف ہو گئے۔ کڈ کے عملے نے اگلے دن تک قزاقوں کو امولائی پر حراست میں رکھا، جہاں سے وہ یو ایس ایس جان سٹینس پر منتقل کر دیے جائیں گے اور یہ معاملہ مقدمے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ فی الحال، وہ سٹینس پر ہی رہیں گے۔
شیمنکی نے کہا کہ المولائ کے کپتان نے انکی مدد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انھیں یہ ڈر تھا کہ ہماری مدد کے بغیر شاید وہ وہاں مہینوں تک پھنسے رہتے۔
قزاقی ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چُکی ہے اور یہ تمام ملاحوں کے لیے ایک خطرہ بنی ہوئی ہے۔ امریکی بحری کشتیوں کی اس سمندری علاقے میں موجودگی نقل و حمل کی آزادی اور سمندر پار کرنے والوں کی حفاظت کو فروغ دیتی ہے۔ کاروائی دیرپا آزادی کو حمایت فراہم کرتے ہوئے جان سٹینس کی مال برادر کشتی پانچویں فلیٹ کے علاقے میں سمندری حفاظت فراہم کر رہی ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















