| امریکی فوج لیبیا چھوڑنے والے مصریوں کی مدد کریں گے |
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن 4 مارچ 2011 - صدر باراک اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے تیونس کی سرحد پار کرنے والے مصریوں کو واپس گھر پہنچنے میں مدد دینے کیلیے امریکی فوج کے ہوائی جہازوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ لیبیا کے لوگوں کے خلاف ہولناک تشدد کے خلاف امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک "غم و غصہ" کی کیفیت میں ہیں۔ پنٹاگون سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سیکٹری دفاع رابرٹ ایم گیٹس نے لیبیا کی صورتحال کے حوالے سے منصوبہ بندی کیلیئے یو ایس افریقی کمان کو احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ محکمہ دفاع ضرورت کے مطابق سینٹ ڈپارٹمنٹ اور دوسری یتنظیموں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔ 17 فروری سے لیبیا کے لوگ معمر قذافی جو کہ 1969 سے لیبیا پر حکمرانی کر رہا ہے، کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس وقت سے لیبیا کی حامی فورسز پورے ملک میں مظاہرین پر تشدد ڈھا رہی ہیں، جبکہ لیبیا کی فوج دونوں طرف تقسیم ہو چُکی ہے۔ تقریباً 180000 لوگ لیبیا چھوڑ کر تیونس کی سرحد کے پاس اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اوبامہ نے کہا کہ امریکہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت پابندیاں لگا کر قذافی حکومت کو جواب دہ کرنے کیلیے اور لیبیا کے لوگوں کی آرزؤں کی مدد کے لیے خطے میں جو انسانی ضروریات ابھر رہی ہیں اور امریکہ ان کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ مختلف ممالک کے لاکھوں لوگ لیبیا سے فرار ہو رہے ہیں۔ ہم مصر اور تیونس کی حکومتوں کی طرف سے مثبت جواب کی قدر کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی سیاسی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ صدر نے کہا کہ میں نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ لیبیا سے فرار ہونے والے لوگوں کو اضافی ہوائی جہاز مہیا کریں تاکہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ صدر نے کہا کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے عالمی تنظیموں کی کوششوں کی بھی معاونت کر رہے ہیں۔ میں نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کو بھی لیبیا کی سرحد پر امدادی ٹیمیں بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ تاکہ وہ اقوام متحدہ غیر سرکاری تنظیموں (NGOs ) اور دوسری عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر لیبیا کے اندر لوگوں کی ہنگامی ضروریات پوری کر سکیں ۔ صدر نے کہا کہ امریکہ یہ واضع پیغام بھیجنا جاری رکھے گا کہ لیبیا میں تشدد رکنا چاہیے اور قذافی کو چلے جانا چاہیے۔ اوبامہ نے کہا کہ لیبیا کے حکمران نے قیادت کی قانونی حیثیت کھو دی ہے اور اب اسے کرسی چھوڑ دینی چاہیے۔ جو لوگ لیبیا کے لوگوں پر تشدد کر رہے ہیں انہیں اس کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اور آزادی، جمہوریت اور عظمت کے لیے لیبیا کے لوگوں کی آرزوئیں ضرور پوری ہو گیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















