| امریکہ اور عراق کے روابط حسب معمول کے مطابق |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن، اکتوبر 24، 2011 – پینٹاگان کے ایک ترجمان نے آج کہا کہ امریکی اور عراقی افسران نے اپنی فوجوں کے درمیان روابط حسب معمول استوار کیے ہیں اور جس طرح امریکہ کے دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں یہ تعلقات بھی اسی قائدے کے مطابق ہوں گے۔ بحریہ کے کیپٹین، جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم اسی کوشش میں جُٹے ہوئے ہیں کہ ہماری فوجوں کے درمیان تعاون روایتی اور معمول کے مطابق ہو۔ انھوں نے اضافہ کیا کہ آجکل ہم اس اہم نقطے کے بارے میں بات چیت میں مصروف ہیں۔ کربی نے اخبار نویسوں سے صدر کے بیان کے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 21 کو صدر اوباما کے دیے گئے بیان کے مطابق امریکہ معائدے کے تحت اس سال کے آخر تک عراق سے افواج نکال لے گا۔ یہ معائدہ تین سالوں سے جاری ہے لیکن دونوں اطراف کے افسران پچھلے چند مہینوں سے اسی گفت و شنید میں مصروف تھے کہ شاید چند ہزار امریکی فوجی عراق میں عراقی افواج کی مدد کے لیے وہاں رُک جاتے۔ صدر اوبامہ نے وزیر اعظم نور المالکی سے بات کرنے کے بعد یہ واضح کر دیا کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اکتوبر 21 کو صدر اوبامہ نے کہا کہ تقریباً 9 سالوں کے بعد عراق سے امریکی فوج کے انخلا کا وقت آ گیا ہے اور آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس سال کے آخر تک معائدے کے مطابق ہماری باقی تعین شدہ افواج بھی عراق سے نکل آئیں گی۔ اوبامہ نے عراق سے ایک مضبوط اور دیرپا دوستی کا وعدہ کیا ہے۔ کربی نے کہا کہ تقریباً 150 امریکی فوجی بغداد میں امریکی سفارت خانے میں موجود ہیں اور ایسا دنیا بھر میں معمول کے مطابق سکیورٹی کاروائیوں کے دفاتر میں ہوتا ہے اور وہ وہیں پر موجود رہیں گے۔ کربی نے کہا کہ دونوں حکومتوں نے عراق میں امریکی تربیت کار رکھنے سے گریز کیا ہے بلکہ یہ مشترکہ فوجی تربیتی مشقیں تقریباً ساری افواج کی شراکت داری کا حصہ ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 39000 سے تھوڑے زیادہ امریکی فوجی عراق میں رہیں گے اور اس سال کے آخر تک وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















