| پینٹاگان کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اور ایران تناؤ میں کمی ہو رہی ہے |
منجانب Jim Garamone, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن [11 جنوری، 2012] - پینٹاگون کے حکام نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ دنوں میں ٹھنڈی پڑ رہی ہے۔ نامہ نگاروں کے ساتھ ملاقات کے دوران، پینٹا گون کی وزارت اطلاعات و نشریات جارج لٹل نے کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں اور ان حالیہ دنوں میں ہمارے خیال میں حالات تھوڑے سے پرسکون ہیں۔ بحریہ کے کیپٹن جان کربی، جو کہ پینٹا گون کے ترجمان ہیں نے کہا کہ امریکی مرکزی کمان کی کارروائیوں کے علاقے میں دو امریکی کیریئر گروپوں کی موجودگی صرف مسلح کمانڈر کی طرف سے مقرر کردہ ضروریات کے مطابق محتاط فورس کا طرز عمل ہے، اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ کربی نے ذکر کیا کہ 5ویں بیڑے کے علاقے میں دو کیریئر گروپوں نے دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک تقریباً مسلسل علاقے میں امریکی بحریہ کی تعیناتی جاری رکھی ہے۔ اس کی موجودگی میں ہر وقت تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اس میں ضرورت کے مطابق اور مسلح کمانڈر کی طرف سے مقرر کی گئی اور مشترکہ افواج سے سربراہ اور دفاع کے سیکریٹری کی طرف سے منظور شدہ ضروریات کی بنیاد پر تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ کہ ایک جنگی جہاز کو تربیت دینے کے لئے اور تعیناتی میں کئی ماہ لگتے ہیں، کپتان نے کہا کہ دو کیریئرز کی موجودگی کا ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ آج تہران میں یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ کے ایک سائنسدان اور ان کے باڈی گارڈ ہلاک ہو گۓ تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ کسی کو یہ تاثر ملے کہ آج ایران میں جو ہوا ہم کسی وجہ سے ان دونوں جہازوں کو وہاں 'زبردستی' بھیج رہے ہیں، بلکہ ایسی کوئی بات بھی نہیں ہے۔ کربی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں دو کیریئرز موجود ہیں اور یہ ایران کے لئے ساتھ کسی کشیدگی کی وجہ سے وہاں پر موجود نہیں ہیں۔ کربی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی کیریئر گروپ آبنائے ہرمز کےاندر نہیں ہے۔ یہ آبنائے مشرق وسطی کے تیل کو دنیا بھر میں صارفین تک پہنچنے کے لئے ایک بین الاقوامی بحری راستہ ہے اور ایک اہم سمندری لین ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم چیک پوائنٹ ہے، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ بحریہ اس علاقے میں بین الاقوامی پانیوں میں تجارت کے آزاد بہاؤ کی حفاظت میں مدد کرنے کے لئے ایک قوت بنی ہے اور یہ جاری رہے گی۔ کربی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران بحری راستے کو اپنی رسائی سے انکار کی صلاحیت استعمال کرتے ہوۓ عارضی طور پر بند کر سکتا ہے، جیسا کہ آرمی جنرل مارٹن ڈمپسی مشترکہ افواج سے سربراہ نے سی بی ایس کے 8 جنوری کے پروگرام "قوم کا سامنا" کے دوران بھی کہا، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کسی بھی قسم کی بندش مختصر مدت کی لیۓ ہو گی۔ کپتان نے کہا کہ ہم ان صلاحیتوں کے بارے میں جو ہمارے پاس ہیں اور جو اس خطے میں ہماری شراکت داریاں ہیں اور اپنے وعدوں کے بارے میں بہت مطمئن ہیں۔ ہم اس بات پر بہت بھی مطمئن ہیں کہ ہم ان ضروریات اور ان وعدوں کو پورا کر سکیں گے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















