صفحہ اول | خبریں | خبریں | جنرل نے کہا کہ امریکی فورسز نے عراق میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں
جنرل نے کہا کہ امریکی فورسز نے عراق میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں
منجانب , American Forces Press Service

واشنگٹن [12 اکتوبر، 2011] - امریکی افواج عراق کے ترجمان اورحکمت عملی اثرات کے ڈائریکٹر نے آج کہا کہ امریکی افواج سال کے آخر تک عراق سے واپسی کے لئے مکمل طور پر "پٹری پر ہیں" جبکہ امریکی اور عراقی حکام کُچھ فورسز کے ذیادہ عرصے تک وہاں قیام کے امکان پر بات چیت کر رہے ہیں۔

فوج کے میجر جنرل جیفری ایس بکانن نے بغداد سے ہونے والے پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوۓ کہا کہ امریکی افواج  نے عراق میں ہماری تمام ذمہ داریاں پوری کردی ہیں اور 2008 کا دوطرفہ معاہدہ جو یہ کہتا ہے کہ 31 دسمبر تک امریکی فوجی مشن ختم ہو جاۓ گا اسکے مطابق اپنے فوجیوں اور ساز و سامان کو دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں.

بکانن نے کہا کہ امریکی فورسز عرق میں 1.6 ملین کے قریب آلات کو بارہا بھیج چکے ہیں اور اب 000،800 باقی لے جانے رہ گۓ ہیں۔ صرف پچھلے ہفتے کے دوران 399 کانواۓ میں شامل 900،13 ٹرکوں نے آلات، ایندھن اور خوراک عراق سے واپس نکالی ہے۔

عراق میں امریکی فورسز کی تعداد تقریبا" 500،43 ہے، جو کہ جنوری 2009 کے مقابلے میں 000،100 کم ہے۔ بکانن نے کہا کہ تقریبا" اتنی ہی تعداد آپریشن نئی صبح کے دوران جو کہ ستمبر 2010 کو شروع ہوا تھا کے دوران برقرار رہی تاکہ مشن کو لچک مہیا کی جا سکے۔ فوجیوں کی بڑی تعداد بہت کم عرصے میں گھٹانے سے ملٹری کے مشن نئی صبح کی عراقی سیکیوریٹی فورسز کو مشاورت، تربیت اور مدد اور "انجان سے نمٹنے" کی صلاحیت میں کافی کمی کر دیتی ہے۔

بکانن نے کہا کہ عراق کے ساتھ لمبے عرصے کی شراکت کے منصوبے کے  ایک حصے کے طور پر ملٹری نے عراق کو جاری مدد کو سٹیٹ کے محکمے کو منتقل کر دیا جس میں بین الاقوامی سیکیوریٹی کے سٹیٹ کے دفتر کا افتتاح شامل ہے جس میں 200 کے قریب ملٹری اور شہری کارکن غیر ملکی ملٹری کو کی گئی فروخت کی نگرانی کے لیۓ کام کریں گے۔

جنرل نے کہا کہ امریکی فوج کے کُچھ ارکان کی عراق میں 31 دسمبر کے بعد تک رک جانے کے بارے میں امریکہ اور عراقی حکام میں بات چیت جاری ہے اور مزید یہ کہا کہ ان کے مستقبل میں کردار کے بارے میں کُچھ سوالات ہیں۔  انھوں نے کہا کہ رُک جانے والے فوجیوں کو قانونی تحفظ مہیا کرنے کا سوال کا جواب دیتے ہوۓ، عراق میں رہ جانے والے کوئی بھی امریکی فوجی اپنا موجودہ قانونی تحفظ برقرار رکھے گا۔ اسی دوران، بہت سی قومیں جن میں اٹلی بھی شامل ہے ملک کی ملٹری اور پولیس فورس کو ماہرانہ تربیت دینے کے لیۓ نیٹو کے مشن میں حصہ لیں گے۔

عراق میں آج مختلف دھماکوں کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ جنرل نے اعتراف کیا کہ عراق ابھی بھی ایک خطرناک جگہ ہے۔ جب ان سے تاریخی طور پر غیر مستحکم  صوبے انبر کے بارے میں سوال کیا گیا تو بکانن نے کہا کہ حال ہی میں بھی القاعدہ بہت دفعہ وہاں سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ انھوں نے کبھی بھی عراقی عوام او حکومت کے درمیان نفاق کی خواہش کو پیچھے نہیں چھوڑا۔

انھوں نے کہا کہ فرق اب یہ ہے کہ لوگ مجموعی طور پر فرقہ ورانہ مسادات کی طرف واپس نہ لوٹنے کا مصمم عزم کیۓ ہوۓ ہیں۔ انھوں نے عزم کر رکھا ہے کہ ان دشمنوں کو دہشت گرد جانیں گے۔ ماضی کے بر خلاف، ان سے اب مجموعی طور پر نفرت کی جاتی ہے اور وہ اکیلے ہو کر رہ گۓ ہیں۔

بکانن نے کہا کہ عراقیوں کے پاس ابھی وہ سیکیوریٹی نہیں ہے جس کی ان کو ضرورت ہے، لیکن یہ بہت حد تک بہتر ہو گئی ہے۔  روزانہ حملوں کی تعداد اب پورے ملک میں اوسطا" 14 ہے، جو کہ 2007 میں 145 روزانہ سے گھٹی ہے۔

2003 میں جو کاروائی شروع ہوئی تھی اس میں امریکیوں اور عراقیوں کی قربانیاں اب وہاں جمہوریت میں بدل گئی ہیں ۔ جب ہمسایہ ممالک کے شہری اپنی حکومت سے اپنی بات منوانے کے لیۓ پچھلی بہار اور موسم گرما میں "عرب سپرنگ" کے دوران لڑائی لڑ رہے تھے  توعراقی اپنی حکومت سے بہتر خدمات کے لیۓ احتجاج کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ دوسرے مقامات پر لوگوں کے پاس اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی اختیار نہیں تھا۔ عراق میں ایسا نہیں ہے اور وہ اس بات کو جانتے ہیں۔
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+