| ٹی ایف سٹیل کے ملازمین کی سرکشوں کے خلاف کامیاب حکمت عملی |
منجانب , ISAF Public Information Office شئیرمتعلقہ خبریں
خوست، افغانستان (28 جنوری، 2010) – جنرل مکرسٹل کی جون 2009 میں آمد کے بعد سے سرکشوں کے خلاف کامیاب حکمت عملی میں مقامی لوگوں سے رابطے اور ان کی حفاظت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ چوتھی بریگیڈ کے کامبیٹ ٹیم، 25ویں انفینٹری ڈویژن کے فوجی جنوری 2009 سے کوائن (COIN) کا کامیابی سے نفاذ کر رہے ہیں۔ پچھلے گیارہ مہینوں سے ٹاسک فورس سٹیل کے فوجی افغان بارڈر پولیس کے ساتھ مل کر روزانہ گشت کر رہے ہیں۔ "سال پہلے ایسا کچہ بھی نہیں تھا" ٹاسک فورس سٹیل کے سارجنٹ میجر راجر جیکبز نے کہا۔ " جے او سی [جوائنٹ آپریشنز سنٹر] کا قیام کچھ مہینے پہلے ہی عمل میں لایا گیا۔ یہ [اے بی پی] ہمارے سی او پی [کامبیٹ آپریٹنگ پوسٹ] میں تھے، مگر یہ روزانہ گشت پر نہیں جاتے تھے۔ چند ہی ساوں میں ہم گشت اب تقریبہَََ روزانہ کر رہے ہیں۔" ان میں سے ایک گشت نے سی او پی نریزہ سے جنوری 25 کو ویسٹ فیلڈ، نیویارک کے پیدائشی آرمی فرسٹ لیفٹیننٹ کے زیر انتظام کیا۔ امریکی اور اے بی پی کی اکٹھی گشت کے مشن کا مقصد شابو خیل کے مقامی قبائلی سرداروں سے ملنے کے لۓ گاؤں تک جانا اور تاکہ مقامی لوگ صوبے کے گورنر کو سن سکیں اور تازہ ترین مقامی خبروں سے آکاہ رہ سکیں، ان کو ایف ایم/اے ایم ریڈیو فراہم کرنا تھا ۔کیٹل کے مطابق، ریڈیو کے دو مقاصد ہیں، چونکہ یہ صرف اے بی پی ہی کے ذریعے فراہم کیۓ جاتے ہیں، یہ مقامی لوگوں سے مثبت میل جول کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس سے آي ای ڈی کے مقامات کے بارے میں اطلاعات میں اضافہ ہوتا ہے۔جب یہ ایک گاؤں میں پہنچتے ہیں تو یہ ٹی ایف سٹیل کے حمایتی فوجی اور اے بی پی کے کمپنی کمانڈر تاغ علی کی زیر نگرانی گشت کرتے ہیں۔ " تو جب ہم ایک گاؤں میں پہنچے اس کے بعد سب کچہ تاغ علی [اے بی پی] کے کمانڈر کی رہنمائی میں ہوا تھا۔" کیٹل نے کہا۔ "وہ ہی قبیلے کے بزرگوں کو بلا کر لائے۔ اُنہی ہی نے بزرگوں سے خطاب کیا۔" اے بی پی گاؤں میں اپنے پہلے قدم کے بعد مقامی لوگوں کی تلاش شروع کی جو کہ اسکول کے صحن کی بیرونی دیوار کے قریب بنی ایک مسند پر جمع تھے۔ اس دوران ٹی ایف سٹیل کے فوجیوں نے 360 ڈگری کا مدار قائم کیا جس کے درمیان 100-75 گاؤں والے تھے۔ "ہماری مقامی لوگوں کے ساتھ شمولیت اور ان کے ساتھ بات چیت کا انداز بدل رہا ہے،" کیٹل نے کہا۔ "[ہم] پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ افغان حکومت، جی آی آر او اے [حکومت اسلامی جمہوری افغانستان] سے حمایت کے لیۓ رابطہ کریں ۔
کیٹل نے کہا،" ہم ان سرحدی گاؤں میں مصروف ہیں تاکہ ہم ان کو بتا سکیں کہ ہم یہاں ہیں اور ہم یہیں رہیں گے، اور صرف ہم ہی نہیں، ان میں اے این اے [افغان نیشنل آرمی] یا اے این پی [افغان نیشنل پولیس] بھی شامل ہیں۔" علی اور دوسرے افغان بارڈر پٹرول [سرحدی گشتی دستے] نے ہجوم میں ہر کسی کو ریڈیو دیا، ایک مسکراتے ہوےنوجوان نے اپنے لیے دو رکھ لیے۔"
میرے خیال میں یہ مثبت رہا۔" توپچی اور بلیوفیلڈ، ویسٹ ورجینیا کے پیدائشی آرمی پی ایف سی جوناتھن ولفرڈ ٹی ایف سٹیل نے کہا، "ان کو معلوم ہے کہ وہ ہم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ہی کوائن [کی یہ حکمت عملی] ہے کہ باہمی اعتماد قائم کیا جاۓ۔" "ہم اے بی پی کو گاؤں کے رہنما بزرگوں کے ساتھ بات چیت کے عمل میں مصروف دیکھنا چاہتے ہیں،" کیٹل نے کہا۔ "یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم چاہتے ہیں کہ گاؤں میں دیکھیں۔ ہمارا کردار یہ ہے کہ ان کو باہر جا کر کاروائیاں کرنے میں حمائت اور مدد فراہم کرنا ہے۔ ہم اپنی کاروائیاں خود کرتے ہیں لیکن ہماری کاروائیوں کا بڑا حصہ افغان سرحدی پولیس کے ساتھ مل کر ہوتا ہے۔ سکول میں تقریبا ایک گھنٹے کے بعد ہجوم آہستہ آہستہ چھٹنا شروع ہو گیا، فوجی اور اے بی پی اپنی گاڑیوں میں چڑھ کر واپس سی او پی کی طرف روانہ ہوگئے۔ "آج کا مشن غیر حرکی تھا،" کیٹل نے کہا۔ "یہ مکمل طور پر طالبان سے لڑائ میں نہیں گزرا۔ یہ طالبان کے اختیار کی جڑیں کاٹنےاور طالبان کے رہے سہے جواز کو کاٹنے میں گزرا تھا۔"
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























