| ٹیکساس گارڈ یونٹ تعمیرنو کے لیے افغانستان جانے والے یونٹوں کو سیکیوریٹی کی فراہمی |
منجانب David Bruce, Camp Atterbury Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
کرنل ہیلن پریٹ 11 جنوری کو ضلع نوزاد، صوبہ ہلمند میں نۓ مرمت شدہ خواتین سنٹرکے اندر تصویر بنوانے کے لیۓ کھڑی ہیں۔ سنٹر کی عمارت کا افتتاح سرکاری طور پر ایک تقریب میں ہوا۔ ( ڈی او ڈی فوٹو منجانب کارپورل میریڈتھ براؤن)
ایڈنبرا، انڈیانا (24 جنوری، 2012) – امریکیوں کی سوچ میں سیکورٹی کا مقصد اپنے گھروں اور گاڑیوں کو تالے لگانا ، یا یہ جاننا ہے کہ کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں یا ہمارے بینک اکاؤنٹس ہیک ہونے سے محفوظ ہیں۔ ایک افغان کے لئے، سڑک کنارے نصب ایک بم یا پھرایک جنگجو باغی ارادے کا سامنے کرکے بچ جانا ہی سیکیورٹی کی ایک تصویر ہے۔ افغانستان کے عوام اور وہاں پر مقیم فوجیوں کے لئے، سیکورٹی کا مطلب اور بھی بڑھ جاتا ہے اور یہ ایک بہت تشویش کن مسلہ ہے۔ صوبائی تعمیرنو کی ٹیموں کی اگلی باری کے لئے سیکورٹی کی فراہمی کی زمہ داری فرسٹ بٹالین، 143ویں (فضائی) انفینٹری، جو الاسکا، رہوڈ آئی لینڈ اور ٹیکساس آرمی نیشنل گارڈ سے فوجیوں پر مشتمل ہے ۔ لاکوسٹ، ٹیکساس کے لیفٹیننٹ کرنل شان میک گارتھ جو کہ فرسٹ بٹالین 143ویں (فضائی) انفینٹری کے کمانڈر ہیں انھوں نے کہیا کہ سیکورٹی فورس کا مشن پی آر ٹی کا ان کے مشن کی کامیابی میں ان کی مدد کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی عناصر حکمت عملی کی مہارت فراہم کرتے ہیں تاکہ پی آر ٹی کے ماہرین ان کے تفویض کردہ صوبوں میں تعمیرنو کی کوششیں اور مختلف منصوبوں کی نگرانی بخوبی کرسکیں ۔ پی آر ٹی اور افغان عوام کے لئے نقل و حرکت کی آزادی فراہم کر کے، سیکورٹی فورس پی آر ٹی کو ان کے مقاصد پورا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ، میک گارتھ نے کہا کہ ہر پی آر ٹی کے پاس ان کا اپنا ایک حکمت عملی کا مشیر ہوتا ہے جو ان کو سیکیوریٹی اور تحفظ کے فیصلوں میں مدد دیتا ہے ۔ پی آر ٹی مشترکہ سروس یونٹس ہیں جو کہ ایئر فورس، فوج (دونوں فعال اور رزرو)، بحریہ اور نیشنل گارڈ سے لی گئی یونٹس پر مشتمل ہے۔ ہر پی آر ٹی افغانستان کے ایک صوبے کے لیۓ مختص ہے جو افغان حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کا کام کرتی ہے۔ دیگر شعبوں کے ساتھ کام کرنا ایک مشکل کام ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ نیوی اور ایئر فورس کا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے لیکن میک گارتھ کا کہنا ہے کہ دیگر شعبوں کے ساتھ کام کرنا ایک مثبت تجربہ رہا ہے۔ میک گارتھ نے کہا کہ ان لوگوں کو کمانڈ کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے ۔ ان میں سے کچھ جہاز کے کمانڈر اورکچھ ایف 16 اور ایف 18 کے پائلٹ بھی رہے ہیں ۔ ہم پی آر ٹی کے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لۓ ان کے کمانڈروں کو اپنے کمانڈ کے ماحول کی ترقی میں مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میک گارتھ نے کہا کہ پی آر ٹی کو جو بٹالین سیکورٹی فراہم کرنے کے مشن کے لئے منتخب کرتی ہے ان فوجیوں کو انسداد بغاوت کی جدید تربیت، ثقافتی تربیت، ، آپریشن چلانے، قافلے کی سیکورٹی اور گشت کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بیان دیا کہ ہم افغانستان میں یونٹوں سے مسلسل خبریں موصول کرتے ہیں، تاکہ ہم وہاں کی حالیہ صورتحال پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں ۔ عام طور پر تعیناتی کے لیے تربیت 45 دنوں کی ہوتی ہے۔ افغانستان کے لئے ہمارے پاس اپنی تربیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور اسے بہتر بنانے کیلئے صرف70 دن ہیں۔ سیکینڈ لیفٹیننٹ ٹمتھی مینجس جو کہ کلین، ٹیکساس سے ہیں اور ہیڈ کوارٹرز کمپنی، فرسٹ بٹالین، 143ویں (فضائی) انفینٹری کے کے ساتھ پلاٹون لیڈر ہیں، انھوں نے کہا کہ غیر کمیشنڈ افسران ان کی پلاٹون کی طاقت کے لئے ایک اہم عنصر ہیں۔ مینجس نے کہا کہ ہم غیر کمیشنڈ افسران کے تجربے کے بغیر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے، ان میں سے کچھ تین یا چار دفعہ تعینات ہو چکے تھے ۔ ہمارے پاس ایک بہت اچھی ٹیم ہے۔ تجربہ کار نان کمیشنڈ افسران تربیت کی سہولت میں مدد دیتے ہیں، نوجوان فوجییوں کو سکھاتے ہیں کہ میدان جنگ کے بارے میں وہ کس طرح کی توقع رکھیں۔ مینجس نے کہا کہ ان کی پلاٹون کابل کے علاقے میں کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ایک انسداد بغاوت آپریشن ہے ۔ ہم فارورڈ آپریٹنگ بیس کے ارد گرد کے لوگوں سے بات چیت کریں گے اور ان سے دوستی قائم کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خطرات سے جلد از جلد نمٹنے کے قابل بھی ہونا ہے۔ میک گارتھ نے کہا کہ ان تعلقات کو مضبوط بنانا افغانستان کے استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔ میک گارتھ نے کہا کہ میرے خیال میں ایک کامیاب افغانستان سب کے مفاد میں ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کو ایک ایسا نظام دیا جاۓ جو پائیدار ہو۔ اگر ہم ان کو ایسی چیزیں دیں جن کو وہ برقرارہ نہیں رکھ سکیں، تو پھر وہ تمام اوزار غیر موثر ہیں۔ ہم ان کو ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جو افغانستان کو مستقبل میں لے جاۓ اور کم از کم ان کو خوشحالی کی طرف واپس لے آئے جو کہ سوویت یونین سے پہلے ابتدائی 70 کی دھائی میں موجود تھی۔ پی آر ٹی کو ان کے مشن میں کامیابی کے لیے ضروری سیکیوریٹی مہیا کرنے کے لیۓ بٹالین تقسیم کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر پی آر ٹی کو بٹالین لائن کمپنی میں سے ایک رائفل پلاٹون تفویض کر دی گئی ہے۔ مینجس نے کہا کہ پی آر ٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے اس مشن کو پورا کرنے کے لئے، فرسٹ بٹالین، 143ویں انفنٹری (فضائی)، کے فوجیوں نے گاڑیوں اور پیدل گشت لگانے، دھماکہ خیز آلات، ابتدائی طبی امداد، بائیومیٹرک آلات کا استعمال، ہتھیاروں، انسداد بغاوت کا نظریہ، ثقافتی تفہیم اورمقامی زبانوں کی تربیت حاصل کی۔ دنیا بھر کے لوگ اب جب اپنے کیلنڈروں پر 2014 کو فغانستان سے ہمارے نکلنے کی نشاندہی کر رہے ہیں، اتنی دور کی سوچ بھی فرسٹ بٹالین، 143ویں انفنٹری (فضائی) کے فوجیوں کا مشن تبدیل نہیں کرتی۔ مینجس نے کہا کہ ہم اپنے مشن کو جاری رکھیں گے ۔ کسی بھی تنازعے میں ایک سیاسی اور فوجی پہلو ہوتا ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ میرے لوگ مشن پر توجہ مرکوز رکھیں اور باقیوں کو دوسری چیزوں کے بارے میں فکر کرنے دیں۔ انھوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے لوگوں کو محفوظ طریقے سے گھر واپس پہنچانے کے لیۓ جو کچھ بھی کر سکتا ہوں وہ کروں گا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















