| استاد، فوجی، طبیب، ڈاکٹر: ایک اے-این-اے فوجی خدمت کے جذبے کے ساتھ |
منجانب Lance Cpl. Kenneth Jasik, Regimental Combat Team 6
افغان نیشنل آرمی کے سارجنٹ عباس، طبی، سیکینڈ بریگیڈ، 215 ویں کور، 7 اپریل کو فارورڈ آپریٹنگ بیس دلآرام II، افغانستان میں ایک مریض کی ٹوٹی ہوئی ناک کا علاج کرتے ہوۓ۔ ( فوٹو منجانب کینیتھ جیسک)
فارورڈ آپریٹنگ بیس دلآرام II، افغانستان (11 اپریل، 2012) – پچھلے تیس سال افغان قوم کے لیۓ بہت سخت رہا ہے، لیکن ایک شخص، جو ان سب حالات سے گزرا ہے، کے خوابوں کی تعبیر نے اُسے افغانستان کو ایک پُر امن مستقبل کی طرف بڑھنے میں مدد دینے کے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ سارجنٹ عباس کے لیۓ، افغان نیشنل آرمی میں ایک طبی عملے کا رکن بننا اس کے ڈاکٹر بننے کے مقصد تک پہنچنے کا ایک راستہ تھا جبکہ اس دوران ان کے پاس اپنے ہم وطنوں کی خدمت کرنے کا موقع بھی تھا۔ سارجنٹ. عباس نے 2007 ء میں شمولیت اختیار کی، لیکن اس سے پہلے اس 45 سالہ کا ایک طویل کیریئر تھا۔ 18 سال کی عمر میں اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، عباس دے کندی صوبے میں اپنے گھر کے قریب ریاضی اور سائنس کے استاد بن گۓ۔ عباس نے کہا کہ میں معلم بن گیا کیونکہ مجھے لوگوں کی مدد کرنا اچھا لگتا ہے ۔ میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ طالبان کے وقت سے پہلے کی بات ہے۔ طالبان کے دور میں، عباس افغانستان کی سمت کے بارے میں خوش نہیں تھے۔ عباس نے کہا کہ انھوں نے میرا سکول بند کر دیا ۔ طالبان اسے جلا دینا چاہتے تھے۔ عباس نے مزید کہا کہ مقامی لوگ طالبان پر اعتبار نہیں کرتے تھے کیونکہ ان میں سے بہت سے غیر ملکی تھے اور افغانستان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ انھیں اپنی نوکری سے نکالنے کے بعد، عباس طالبان کے بہت سے ظالمانہ اصولوں کے حامی نہیں تھے۔ عباس نے کہا کہ جب امریکی آۓ، ہم طالبان سے تنگ آ چکے تھے ۔ یہ طالبان کے جانے کا وقت تھا۔ ہم اپنی آزادی واپس چاہتے تھے۔ دس سال سے زیادہ وقت تک انھوں نے چھوٹے موٹے کام کیے جب بھی وہ کر سکے، 2004 میں عباس نے افغانستان نیشنل پولیس میں شمولیت اختیار کر لی اور وہ ایک پہرہ دار پولیس کے طور پر قندھار میں تعینات تھے۔ عباس نے کہا کہ میں نے اے- این- پی میں شمولیت اختیار کی کیونکہ میں اپنے ملک کی مدد کرنا چاہتا تھا ۔ اس سے مجھے اپنے خاندان کی مدد کرنے کا موقع بھی ملا۔ 2007 میں، عباس نے اے-این-اے کے لئے اے-این-پی کو چھوڑ دیا تاکہ وہ مزید پیسے کمانے اور افغان سروس کے ارکان کی ایک مختلف انداز میں مدد کر سکیں۔ عباس نے کہا کہ طبی عملے کا رکن بننے نے انھیں اس کیریئر،جو وہ چاہتے ہیں، میں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ عباس نے کہا کہ میں لوگوں کی زندگیاں بچانا پسند کرتا ہوں ۔ میں مستقبل میں ایک ایمرجنسی کا ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔ عباس یونٹ کے ڈاکٹر فرسٹ لیفٹننٹ جلالی عزیز سیکینڈ بریگیڈ، 215 ویں کور، سے جو بھی سیکھ سکتے ہیں سیکھ رہے ہیں۔ عزیز نے کہا کہ عباس ایک تعلیم یافتہ شخص ہے۔ انہیں اپنے ملک کی خدمت کرنا پسند ہے، اور انھیں یہ پتہ ہے کہ ایک طبی رکن ہونا مدد کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ عباس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک ڈاکٹر بننے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ طبی اسکولوں کی کمی ہے۔ عباس نے کہا کہ ہمارے پاس امریکہ کے جیسے ڈاکٹروں کو پڑھانے کے لئے استاد نہیں ہیں ۔ میں اپنے ڈاکٹر سے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں وہ تمام چیزیں جو مجھے جاننے کی ضرورت ہیں۔ عباس فوجیوں کو صحت مند رکھنے میں اتنی دلچسپی رکھتا ہے کہ وہ اصل طبی خیمے میں رہتا ہے۔ وہ وہاں ایک پلنگ پر سوتا ہے جبکہ ان کے باقی ساتھی سونے کے لئے اپنے کمروں میں جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ فوجیوں کا علاج کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور ہمیشہ دوسرے طبی پیشہ ور افراد سے مزید سیکھنے کی تلاش میں رہتا ہے۔ عباس نے کہا کہ پانچ سال میں مجھے اُمید ہے کہ میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کندک کے ساتھ ہوں گا ۔ میں واقعی اپنے لوگوں کے ساتھ کام کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں لطف اٹھاتا ہوں۔ عباس کی محنت ان کے اعلٰٰی افسران نظر انداز نہیں کرتے۔ لوگر صوبے سے 40 سالہ عزیز نے کہا کہ میں عباس کے بارے میں بہت سی باتیں کہہ سکتا ہوں۔ میں ان کے بارے میں سارا دن اچھی باتیں کر سکتا ہوں ۔ آسان الفاظ میں، وہ بہترین میں سے ایک ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















