صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیۓ مذاکرات
امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیۓ مذاکرات
منجانب , American Forces Press Service

واشنگٹن (23 مارچ، 2010) یہاں آج پینٹاگون کے زرائع ابلاغ کے نمائندے جیف مورال نے کہا کہ پاکستانی اور امریکی عہدہ داروں  کے درمیان مذاکرات کا یہ مقصد ہے کہ  دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مضبوت، گہرے اور وسیع ہوں۔

 

پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعلی' سطحی کے مذاکرات کو اِس طرح سے تشکیل دی جا رہی ہے کہ جوں جوں پیش رفت ہو تو یہ  دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کا راستہ متعین کرتے چلیں۔ ایک فوجی عہدہ دار نے پس منظر کے بارے میں بات کرتے ہوۓ کہا کہ "یہ ملاقات دو برابر کے ملکوں کے درمیان میں ہیں اور دونوں ممالک کے لیے یہ بات چیت مفید ثابت ہو گی۔" 

امریکی وزیر دفاع  رابرٹ گیٹس اور بحریہ کے چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائک مولن بھی ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ لیکن یہ حکمت عملی کے مزاکرات کے نام سے جانے جانے والے مزاکرات محض سکیورٹی کے بارے میں نہیں ہیں۔

وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن امریکی وفد کی قیادت کریں گی اور ان کے ہم منصب  پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ان کے مقابل ہونگے۔ مزاکرات کا زور سکیورٹی معا ملات  سے بہت آگے بڑھ کر امریکہ اور  پاکستان  کے تعلقات پر ہو گا۔ صدر اوباماکے افغانستان اور پاکستان  کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے  پـچھلے ہفتےکہا کہ" یہ دونوں قومیں باہمی عزت و وقار اور اعتماد کی بنیاد پر باہمی تعلقات کو مضبوط اور ایک وسیع تر شراکت داری تعمیر کرنے کے مشترک عزم کی علامت ہیں"


ملاقاتیں کل وزارتِ خارجہ میں شروع ہونگی اور یہ مزاکرات امریکہ اور پاکستانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔ ان  میں وزیر دفاع احمد مختار، وزیر اعظم کےمعاشرتی مسائل کے مشیروزیرعلی، وزیرعلی زراعت اور پانی کے مشیر ماجد اللہ، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی اور بہت سے دوسرے رہنما بھی شامل ہوں گے۔

امریکی وفد میں زراعت کے وزیر ٹام ولسیک، نائب وزیر خارجہ جیک لیو، خزانے کے نائب وزیر نیل وولسن، قومی سلامتی کونسل کے سینئر ڈائرکٹر ڈیوڈ لپٹن، امریکی ایجنسی بین الاقوامی تعمیر نو کے انتظامیہ راجیو شاہ اور دوسرے اور لوگ بھی شامل ہیں۔

مورل نے کہا کہ " یہ مزاکرات محض لین دین کے بارے میں نہیں ہوں گے یہ دونوں ملکوں کےدرمیان طویل المدت حکمت عملی اور شراکت داری بہتر بنانے کے لۓ تشکیل کیے جائیں گے۔" فوجی عہدہ دار نے کہا ہے کہ امریکا اور پاکستانی تعلقات کے سارے پہلوؤں پر تبادلہء خیال ہوگا۔  زراعت کے طریقوں اور آب پاشی کے نۓ ذرائع کے بارے میں بھی باچیت ہو سکتی ہے، آجکل  پانی اور بجلی پاکستان کے روزمرہ کے مسائل بنتے جا رہے ہیں یقینا ہم ان موضوعات کے بارے میں تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔"

عہدہ دار نے کہا کہ تعلیم فراہم کرنا اور اس کے ساتھ ہی شہری انتطامیہ  کا موثر ہونا بھی اہم چیزیں ہیں۔ علاوہ ازیں مزاکرات کے شرکاء پاکستانیوں میں امریکہ کے بارے عام تاثرات کو بہتر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کریں گے۔  

گیٹس اور مولن نے کل پینٹاگون میں جنرل کیانی سے ملاقات کی اوراِن کا دوبارہ جمعرات کو پھر سے ملاقات کا ارادہ تھا۔ پاکستانیوں کی بغاوت کے خلاف  کاروائیوں  کے تجربے، خفیہ معلومات کے باہمی تبادلے اور تربیت پر بھی بات چیت ہو گی۔  

دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ پریسلر ترمیم کی وجہ سے  پچھلے 12 سالوں سے امریکی فوج  پر پاکستانیوں کے ساتھ کام کرنے پر بندش عائد کر دی گئ تھی، دونوں ممالک اِس ترمیم کے اثرات  سے نجات حاصل کرنے کی کوششں کر رہے ہیں ۔ عہدہ دار نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان مزید مشقیں، مل کر مزید تربیت اور مزید فوجی تبادلوں کی ضرورت ہے اور اِس کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔  

اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان دونوں جمہوریتیں ہیں اورمل کر کام کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ ہالبروک نے کہا کہ "امریکہ پاکستان کے ان کاموں میں جن کا مقصد جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہیں اُن میں مدد کر رہا ہے۔ معاشی ترقی کی کوششوں میں ترقی کے  موقعے بہتر بنانے اورتوانائی اور پانی کے مسئلوں کو حل کرنے میں بھی امریکہ کی پاکستان کو مدد مِل رہی ہے اور انتہا پسند جو اس علاقے میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور امریکی قومی سلامتی کے لۓ خطرہ بن رہے ہیں ہمارا عظم اُنہیں شکست دینا ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+