صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | طالبان خاموشی سے کھڑے افغان فضائیہ فورس کو شہریوں کو بچاتے دیکھتے رہے
طالبان خاموشی سے کھڑے افغان فضائیہ فورس کو شہریوں کو بچاتے دیکھتے رہے
منجانب Petty Officer 2nd Class David R. Quillen, NATO Training Mission - Afghanistan
 080210flood

صوبہ لغمان، افغانستان (یکم اگست 2010) – تند ہواوں سے بچنے کے لیۓ جھکے جھکے افغان شہریوں نے افغان فضائیہ فورس کی کرم فرمائی کے دیے ہوئے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کا انتظار کرتے ہوۓ گھٹنوں گھٹنوں گہرے گارے سے بھرے کھیتوں میں  سے تیزی سے حفاظت کی طرف دوڑ لگا دی۔

لغمان نگرہار اور کنڑ صوبوں سے آۓ دیہاتی جو راتوں رات آئے ہوئے شدید سیلاب سے بچنے کے لیے پناہ ڈھونڈ رہے تھے وہ صرف اپنے ساتھ وہی کچھ لاِِئے جو وہ اٹھا سکتے تھے۔ طالبان معمول کے مطابق زمین سے ہتھیاروں سے نیچے اڑتے ہوۓ ہیلی کاپٹروں پر حملے کرنے کے باوجود بریگیڈئیر جنرل محمد براتکابل ائیر ونگ کے کمانڈر جن کو نیٹو کے اتحادیوں کی مدد حاصل ہے انھوں نے دو ایم آئی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ذیادہ سے ذیادہ لوگوں کی مدد کا حکم دیا۔   

امریکی فضائیہ فورس 438 مہماتی معلوماتی سکوارڈن، مشترکہ فضائیہ قوت ٹرانزیشن فورس کے لیفٹیننٹ کرنل گریگ رابرٹس نے وضاحت کی کہ موسم پہلے دن کافی خراب رہا لیکن دوسرے دن یہ کچھ صاف ہونا شروع ہوا، لیکن پہلے دن کی فلائیٹ خصوصی بصری فلائیٹ رولز کے تحت بلکہ آلہ فلائیٹ رولز کے تحت اڑائی گئی کیونکہ رویت بہت ہی ذیادہ خراب تھی۔

500 فٹ کی حد پرواز اور ہر طرف دھند ہونے کی وجوہات کی بنا پر بارش میں آدھے میل کی رویت بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایم آئی-17 کے عملے نے لغمان صوبے میں ٹھاٹھیں مارتے دریاۓ کابل کے درمیان پانی میں ڈوبے جزیروں سے 50 شہریوں کی جانیں بچائیں۔ اس مدد کے بعد یہ افغان گروہ نے نگرہار صوبے میں جلال آباد کے شمال اور مشرق میں لوگوں کو بچانا شروع کیا۔ گروہ کو وادی کنڑمیں بھیجنے سے پہلے یہاں پہلے دن مذید 200 لوگوں کو تحفظ فراہم کیا گیا اور مذید پچاس لوگوں کو دوسرے دن بچایا گیا۔

رابرٹ نے برات کے الفاظ یاد کرتے ہوۓ بار بار دہرایا کہ ہم حملے کی زد میں آنے والے ہیں، ہم حملے کی زد میں آنے والے ہیں، لیکن کوئی بات نہیں ہمارا اس مشن کومکمل کرنا ضروری تھا۔ ہم صوبہ کنڑ میں اڑ رہے تھے اور کیونکہ برات یقیناً گھبرائے ہوے تھے وہ بار بار یہی کہے جا رہا تھے، بلکہ ہم سب ہی تھوڑے سے نروس تھے لیکن ہمارے لیے اس مشن کو پورا کرنا ضروری تھا کیونکہ ان لوگوں کو ہماری مدد کی اشد ضرورت تھی۔

وادی کنڑ باغیوں کی کاروائیوں کا گڑھ ہے اور روزانہ یہاں زمین سے فضا میں حملہ کیے جانے والے ہتھیاروں سے حملے کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہی وہ علاقہ ہے جہاں سب سے ذیادہ لوگ سیلابی پانی میں گھرے ہوئے تھے۔  انھوں نے 1،800 لوگوں کو دریاۓ کنڑ کے جو کہ اسدآباد کے قصبے سے تقریباً 5 میل دور جنوب میں واقع ہے سیلابی پانیوں سے بچایا۔

ہمیں امید یہ تھی کہ اگر ہیلی کاپٹرایک دفعہ زمین سے فضا میں مارنے والے ہتھیاروں کے حملے کے بغیر حفاظتی جگہ تک پہنچ جاتا ہے تو طالبان اور باغی اس امدادی مشن کو بغیر کسی رُکاوٹ کے جاری رکھیں گے۔ شہریوں سے بھرے ہیلی کاپٹر پرگولیاں چلانے سے طالبان کی بدنامی ہو گی، تاہم یہ حکمت عملی سی امید اسد آباد کے قریب عارضی فوجی اڈے پر ایندھن بھرنے کے دوران کام نہ آئے گی۔

وہاں پر ہیلی کاپٹر اور امدادی عملے شہریوں سے کافی دورہوں گے اور ایک نظر میں یہ معلوم نہ ہو سکے گا کہ وہ کسی امدادی کاروائی کے لیے آئے ہیں اور طالبان حملہ کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کریں گے اور افغان حکومت کی جڑوں کو کمزور کرنے کی خواہش کو پا لیں گے۔ خوش قسمتی سے وجہ چاہے کوئی بھی ہو طالبان ایسا کرنے سے باز رہے اور صرف عملے کو سب سے بڑا خطرہ موسم درپیش رہا۔   

امدادی جگہوں پر اترنے کی مشکلات میں لوگوں کو چڑھنے کے لیۓ ایک پہیے پر فضا میں کھڑے رہنا، پلوں کے ستون، چھتیں اور تیز بہتے پانی سے جڑے اور اس کے درمیان، افغان پائیلٹ اور عملے نے بمع سی اے پی ٹی ایف کے اتحادیوں نے اٹل مہارت اور کارناموں کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے 2،100 لوگوں کو بچا کر ان صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جس کی افغان حکومت اور افغان فضائیہ فورس قابل ہیں اور جس کے قابل طالبان نہیں ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+