صفحہ اول | خبریں | خبریں | کامیاب انتخابات گرمسر میں انتظامیہ اور ترقی کا ثبوت
کامیاب انتخابات گرمسر میں انتظامیہ اور ترقی کا ثبوت
منجانب Cpl. Reece Lodder, Regimental Combat Team 5
120419_search
افغان نیشنل پولیس شیر آغا (بائیں) ایک بزرگ کو گرمسر زرعی ہائی سکول میں 17 اپریل، 2012 کو یہاں ضلعی کمیونٹی کونسل کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیۓ داخلے کی اجازت دینے سے قبل تلاشی لیتے ہوۓ۔ ( فوٹو منجانب کارپورل ریس لوڈر)

ضلع گرمسر، افغانستان (19 اپریل، 2012) - ہزار جفت کے بازار میں ہفتے کے دوران ایک صبح غیر معمولی خاموشی تھی۔ دکانوں کی پوری رو کو تالے لگے ہوۓ تھے۔ تِجارتی گُفتگو کم سے کم تھی۔ دونوں دوکان دار اور گاہک نہ ہونے کے برابر تھے۔

ایک کلومیٹر سے بھی کم دوری پر، گرمسر زرعی ہائی سکول کے باہر ایک بہت بڑا اجتماع بازار کی غیرفعالیت کی وجہ بتا رہا تھا۔ پورے ہلمند صوبے کے ضلعے گرمسر میں پھیلے ہزاروں افغان ہزار جفت 17 اپریل، 2012 کو ضلع کمیونٹی کونسل کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیۓ یہاں ہزار جفت تک آۓ تھے۔

انتخابات سب سے پہلے 2009 ء میں اتحادی افواج کی رہنمائی کے تحت منعقد کیے گئے تھے۔ اس وقت، ڈی سی سی نشستیں صرف گرمسر کے ضلعی مرکز کے ارد گرد کے شمالی حصے میں بسے افغان شہریوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔

اس کے بعد آنے والے سالوں میں، افغان اور اتحادی افواج نے سیکورٹی میں اضافہ کیا، جس نے ضلعے کی انتظامیہ کو مزید جنوب میں بندر تک توسیع کرنے جو کہ گرمسر کا سب سے جنوبی علاقہ ہے کی اجازت دی۔

موجودہ انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنے اور ووٹوں کی گنتی کا کنٹرول اور انتظام افغانوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔ 2،200 سے زائد ووٹ گاؤں کے بزرگوں کی طرف سے تھے جو ڈی سی سی کی 34 نشستیں بھرنے کے لیئے ڈالے گۓ تھے۔

شمالی گرمسر میں خاراکو گاؤں کے ایک بزرگ، حاجی عبد بشیر نے کہا کہ جمہوری عمل ان شہریوں کے لیئے تازہ ہوا کا ایک جھونکہ تھا جو اس سے قبل باغیوں کی حکومت کے قیدی تھے۔

"انتخابات گرمسر کے لوگوں کے لیئے بہت اہم تھے،" بشیر نے کہا۔ "ماضی میں، یا تو ہمارے پاس ایک لیڈر کا فقدان تھا یا بہت زیادہ لیڈر موجود تھے۔  جو بھی سب سے مالدار تھا یا جس شخص کے پاس ایک رائفل تھی، رہنما بنے بیٹھا تھا، لیکن اب، گرمسر کے شہریوں کو ہماری حکومت کے لیئے ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے۔"

شہر کے مرکز کے ارد گرد، افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے تقریبا 200 ارکان نے ووٹنگ کی جگہ کو محفوظ بنانے کے لیئے کام کیا۔ انھوں نے جس سیکورٹی کی منصوبہ بندی کی تھی اسے وضع کیا، دکانوں، گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی تلاشی لی جبکہ تھرڈ بٹالین، تھرڈ میرین رجمنٹ، کے میرینز نے صرف علاقے کی دور سے نگرانی کی۔

"ہماری مکمل سیکورٹی کی منصوبہ بندی کے بغیر، یہ ووٹ ڈالنے کے لیئے ایک پرامن جگہ نہ ہوتی،" اے این اے کے لیفٹیننٹ کرنل ظاہر شاہ، سیکینڈ کندک، فرسٹ بریگیڈ، 215ویں کور کے ایگزیکٹو افسر نے کہا۔  "گرمسر کے لوگوں نے شہر کے ارد گرد اپنی فورسز کو انہیں تحفظ فراہم کرتے دیکھا ... اور انھوں نے محفوظ محسوس کیا کیونکہ انھوں نے سیکیوریٹی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔"

انتخابات کے دوران شورش پسندوں کی ممکنہ سرگرمیوں کی رپورٹوں کے باوجود، یہ موقع کسی بھی واقعے کے بغیر ختم ہو گیا۔ بشیر نے گرمسر میں محفوظ ماحول کو ترقی کی ایک علامت کے طور پر تسلیم کیا۔

"پانچ سال پہلے، یہاں بہت سے برے آدمی تھے اور کوئی حقیقی حکومت نہیں تھی، بشیر نے کہا۔ "میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ ہمیں باغیوں کے اقتدار سے آزادی دلا دے اور انتظامیہ نصیب کرے۔ آج، ہمارے پاس گاؤں کے بزرگ، انتخابات اور معاملات پر بات چیت کرنے کے لیئے شوری ہے۔ ہماری حکومت کو اپنے طور پر کام کرنا ایک طویل عمل ہو سکتا ہے، لیکن آج ہمارے پاس سیکورٹی ہے ... اور ہماری حکومت میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔"

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+