| شنکائی گورنر نے سوری میں لوگوں کی راۓ سنی |
منجانب Staff Sgt. Joshua Brandenburg, 3rd Stryker Brigade Combat Team, 2nd Infantry Division
فارورڈ آپریٹنگ بیس گرزلی پر، 11 مارچ، 2012 کو نور محمد، شنکائی ضلعے کے گورنر، زابل صوبے، افغانستان میں شنکائی ضلع کے سوری علاقے میں گاؤں کے بزرگوں سے خطاب کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ جاشوا برنڈن برگ)
فارورڈ آپریٹنگ بیس لغمان، افغانستان (20 مارچ، 2012) – بھاری برفانی طوفان، گہرے گارے، پگھلتی برف کی وجہ سے دریا میں بڑھتے پانی کو پار کرنے کے مشکلات نے ضلعے کے نۓ گورنر کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہاں سے دور رکھا۔ یہ جانتے ہوۓ کہ اپنے ضلعے کے افغانوں کی خدمت کرنا اور ان کی آواز سننا ان کا فرض ہے، نور محمد بڑی مشکل سے سُرغار پہاڑی سلسلے کے پاس سے گزر کر آۓ اور شنکائی ضلع میں سوری کی طرف اپنی پہلی مجلس شورا منعقد کی۔ محمد نے ضلعے کے جنوبی حصے میں کئی شورے منعقد کی ہیں، لیکن انھوں نے زابل صوبہ افغانستان کے ضلع شنکائی کے شمالی حصے میں کبھی کوئی شورا منعقد نہیں کیا۔ اس کی وجہ سُرغار پہاڑی سلسلہ ہے جو ان کے ضلعے کو تقریباً نصف میں تقسیم کرتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلے سے گزرنے کے لیۓ صرف ایک ہی راستہ ہے جو پہاڑی کو کاٹ کر بنایا گیا ہے اور ضلعے کے جنوبی حصے کو شمالی حصے سے ملاتا ہے۔ فارورڈ آپریٹنگ بیس گریزلی پہنچنے پر محمد نے افغان نیشنل آرمی کے کمپنی کمانڈر، پولیس، رومانیہ کے کمپنی کمانڈر اور امریکی فوج کمپنی اور فوجیوں کے کمانڈروں سے ملاقات کرنے کے لیۓ وقت ضائع نہیں کیا۔ چند لمحوں بعد انھوں نے ارد گرد کے علاقے سے مقامی گاؤں کے بزرگوں کو خوش آمدید کہا جب وہ وہاں ان کے پیغام کو سننے کے لیے پہنچے اور اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ارد گرد کے علاقے سے 25 عمائدین اور گاؤں کے ممتاز رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی، جو مقامی عوام کی حمایت حاصل کرنے اور انھیں یہ بتانے کے لیئے تھی کہ کس طرح اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت، افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اور بین الاقوامی سیکورٹی اسسٹنس فورسز ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ محمد نے بیان کیا کہ جی-آئی-آر-او-اے، اے-این-ایس-ایف، اور آئی-ایس-اے-ایف وہاں سوری کے علاقے کے لوگوں کی مدد اور لوگوں کی آواز سننا چاہتے تھے۔ محمد نے عوام کو شورش پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اے-این-ایس-ایف اور آئی-اے-ایس-ایف کی مقامی گاوں کی نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نئے اسکول کُھولنے اور تعلیم کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ محمد نے کہا کہ ہم آپ کے بچوں کو اسکول بھیجنے اور تعلیم حاصل کرنے میں مدد دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو لازماً اپنے بچوں کے مستقبل کی طرف سوچنا چاہیے۔ انہوں نے ضلع کے اتحاد کے بارے میں بات کی، بہت سے مقامی افغان یقین کرتے ہیں کہ یہ ضلع دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، جنوبی شنکائی ضلع اور شمالی نصف جس کو غیر سرکاری طور پر "سوری" کہا جاتا ہے۔ محمد کو اُمید ہے کہ ضلعے کے لوگ متحد ہوں گے اور اپنے گاؤں میں شورش پسندوں کی سرگرمیوں کے خلاف دفاع کا پہلا زریعہ بنیں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ گاوں میں نئے چہرے یا مشکوک سرگرمیوں کی شناخت کے ذریعے ناپسندیدہ تشدد سے اپنے گاؤں کو محفوظ رکھنے میں اے-این-ایس-ایف اور آئی-ایس-اے-ایف کی مدد کریں۔ محمد نے کہا کہ اگر آپ [مقامی افغان] علاقے میں نئے چہروں کو دیکھیں کو آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کون ہیں؟ وہ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ شورا نے ضلع کے لوگوں کو یہ دکھانے میں مدد کی کہ جی-آئی-آر-او-اے ان کس طرح وہ معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور یہ کہ افغان حکومت کس طرح ان کے گاؤں کو بہتر بنانے میں مدد کرے گی۔ کیپٹن جوزف مکلی، کمانڈر، بیٹل کمپنی، 5ویں بٹالین 20ویں انفنٹری رجمنٹ، ٹاسک فورس فرسٹ سکواڈرن 14 ویں کیولری نے کہا کہ وہ جی-آئی-آر-او-اے میں زیادہ یقین کریں گے، کیونکہ اب وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اور دیگر تمام مرکزی سربراہوں کو وہاں جمع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ایک اچھی بات ہے۔ تمام منصوبوں اور کاموں جن کو جی-آئی-او-ار-اے اور عوام ضلع میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، محمد کا اس میں براہ راست ہاتھ ہو گا۔ میکلی نے مزید کہا کہ جی-آئی-او-ار-اے وہ نہیں چاہتی جو عوام نہیں چاہتی ۔ میکلی نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ بعض اوقات یہ ایک درست جگہ کی بات ہوتی ہے، لوگ ایک چوکی چاہتے ہیں لیکن وہ کسی ایک مخصوص جگہ کے قریب نہیں چاہتے، یا وہ ایک اسکول کھولنا چاہتے ہیں لیکن پھر اپنے بچوں کو ایک مختلف قصبے کے اسکول میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ گورنر محمد شنکائی ضلعے کے اتحاد کے لیۓ اور جی- آئی-آر-او-اے اور اے-این-ایس-ایف کو خاص طور پر سوری کے علاقے میں دیہاتیوں کی نظر میں قانونی حیثیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جی-آئی-آر-او-اے کا اثر و رسوخ طویل عرصے سے اس علاقے سے غائب ہے اس لیۓ لوگ اپنی مشکلات کا کسی سے ذکر کرنے کے قابل نہیں تھے۔ گورنر محمد اس حقیقت کوبدل رہے ہیں اور لوگوں کی بات سن رہے ہیں۔ میکلی نے کہا کہ یہ صرف ان مسائل کو سامنے لانے کی بات ہے، سب کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے، اور پوری آبادی کو سمجھنے کے لیۓ ۔ یہی سب ضلع گورنر کو کرنا ہوتا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















