| افغانستان کے بزرگ رہنمائوں نے مرجہ کے رہائشیوں کوسرگرمیوں میں شامل کیا۔ |
منجانب , ISAF Public Information Office شئیرمتعلقہ خبریں
جب سے مشترکہ افغان اوربین الاقومی سیکیوریٹی فورسز نے علاقے سے طالبان کی صفائی شروع کی ہے، یہ دورہ اُس وقت سے لے کر نیٹو، ایساف کے افسروں کے بعد، افغانی حکومت کے افسروں کا سب سے اعلی' درجے کا دورہ تھا۔
سینکڑوں مقامی لوگ جو تحصیل سینٹر میں جمع ہوۓ تھے، نائب صدر کے اس دورے نے اُن سے گھلنے ملنے، اُن کی راۓ جاننے، امیدیں اور مستقبل کے بارے میں پریشانیاں سننے کا موقع دیا۔ جناب خلیلی نے بین الاقوامی اور افغان فوج کی مستقل رفتارمگر یقینی ترقی کے متعلق اور مرجہ کے علاقے سے طالبان اوراِن کے پیچھے چھوڑے جانے والے دھماکہ خیز آلات کی صفائی کے بارے میں بات کی۔ اُنھوں نے افغانی حکومت کےعزم کو دہرایا کہ وہ علاقے میں دیرپا تحفظ، اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیۓ بہتر انتظامیہ فراہم کریں گے۔
اُنھوں نے یہ بات واضع کی کہ افغانستان کی حکومت علاقے میں مظبوط اور دیرپا موجودگی قائم رکھے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ لوگ جو امن و امان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اِن کا پوری طاقت سے پیچھا کیا جاۓ گا، تاہم حکومت اُن جنگجوں کی حمایت کرے گی جو اپنے ہتھیار پھینک کر معاشرے کو دوبارہ اپنا لیں گے۔ اُنھوں نے تمام مقامی رہائشیوں سے درخواست کی کہ حکومت کی ترقی اور تمام لوگوں کے فلاح کی کوششوں کی حمایت کریں۔
بہت سے مقامی رہائشیوں نے مرجہ میں بغیر کسی حکومت اختیار اور سرمایہ کاری کے ایک لمبے عرصے کے وقفے کے بعد، موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ گورنر اور نائب صدر کو ٹوک کر اپنی خاص پریشانیوں کا ذکر کیا۔ بہت سے لوگوں نے علاقے میں بہتر تحفظ اور افغان نیشنل سول آرڈر پولیس کے بھیجے جانے کو خوش آمدید کہا ، لیکن پہلے بھیجی گئی افغانی وردی شدہ پولیس جو کہ آخرکار تحصیل میں بھیجی جاۓ گی اُن کے پچھلے رویے اور معیار پر پریشانی کا اظہار کیا۔ مذید براں، مقامی رہائشی ان تفصیلات کو سننے کے منتظر تھے کہ چناچہ جن عسکریت پسندوں نے ان سے پہلے علاقے کو اپنے احتیار میں لیا تھا وہ مدد میں ناکام رہے تھے، تو کیا حکومت کی طرف سے معاشرے کی تعمیرنو کے لیۓ کب اور کیسے امداد فراہم کی جاۓ گی۔
نائب صدر خلیلی اور گورنر مینگل کے ساتھ نیٹو کے سینیئر شہری نمائندے، سفیر مارک سیڈول، اور سی او ایم ایساف کے جنرل مکرسٹل بھی تھے۔ جنرل مکرسٹل نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ افغان سیکیوریٹی فورسز اور ایساف کے فوجیوں سے مل کراُنھیں ان کی اب تک کی کامیابیوں پر مبارک باد دی۔
یہ سرف پہلا قدم ہے لیکن یہ بےحد اچھا پہلا قدم ثابت ہو رہا ہے۔ اگر آپ یہ دیکھتے کہ افغان سیکیوریٹی فورسز اور ایساف نے کیا کچھ کیا ہے تو جان جاتے کہ عام شہری کو کتنا کم نُقسان پہنچا ہے اور بہت کم نُقسان کے باوجود یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے کہ کتنے زیادہ لوگوں کو تحفظ فراہم ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پابندی، پختگی، اور پیشہ ورانہ مہارت صاف نظر آئی ہے اور میرے خیال میں یہ ہی علامات افغانیوں پر بھی نمایا ہیں۔ سفیر سیڈول نے نائب صدر خلیلی کے آنے کا شکریہ ادا کیا اور کاروائی کے سیاسی سیاق و سباق کا ذکر کیا۔
جس چیز کا ہم نے مارجہ کاروائی سے اندازہ لگایا ہے، وہ یہ ہے کہ مارجہ کی کاروائی مرکزی حکومت کی اس طرز کی پہلی کاروائی ہے۔ مقامی پولیس اور مقامی فوج صوبائی سطح پر ماضی میں ایسی کاروایئاں کر چکے تھے، لیکن اس کاروائی کے لیے مرکزی حکومت نے پہلی دفعہ براہ راست شولیت لی ہے۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























