واشنگٹن – (فروری 9، 2010) – نئی افغان حکمت عملی " رنگ لا رہی ہے " اور اِس کے آثار کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ ، ایک انٹرویو جو پچھلی رات نشر ہوا ، میں وزیر دفاع گیٹس نے کہا کہ عراقی حفاظتی اقدامات کو بڑھانے کی کُوشِشوں اور امریکی فوجوں کی تعداد کم کرنے کے منصوبے کے لیے مناسب اقدامات کر رہے ہیں۔
گیٹس نے اپنے روم کے دورے کے دوران فاکس نیوز چینل کی گریٹا وین سسٹیرن بات کرتے ہوۓ کہا کہ انہوں نے پاکستان کے جنوبی وزیرستان میں آپریشن سے لے کر ایران کی یورینیم کی افزودگی کی کاروائوں کے معاملات تک گفتگو کی تھی۔
وزیر دفاع نے افغانستان کے حالات کی ممکنہ تبدیلی کے آثار کی طرف توجہ دلائی، جس کا ذکر امریکہ کے اعلی ترین اور نیٹو کے زمینی کمانڈر آرمی جنرل میک کرسٹل نے پچھلے ہفتے استنبول میں نیٹو کی وزارت میں بھی کیا تھا۔ "ان کا خیال تھا کہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں، لیکن اب مزید خراب نہیں ہو رہے ہیں" گیٹس نے کہا۔
"میرے خیال میں ہم اب صوبے ہلمند میں مرینز کے جانے کے اثرات دیکھ رہے ہیں اور دوسرے علاقوں میں بھی فوجوں میں اضافے کے اثرات دیکھ رہے ہیں،" گیٹس نے کہا۔ "کہ دونوں افغانی اور دوسری قومیں جو ہماری وہاں مدد کر رہی ہیں یہ اُن کے بھروسے اور امید میں ناقابل شمار اضافے کا حصہ ہے، اور اُسی کے سبب ہی ہم اِن جذبات کو محسوس کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ"معمولی معمولی علامتیں نظر آ رہی ہیں کہ وہ حکمت عملی جو کہ جنرل میک کرسٹل نے اپنائی ہے وہ رنگ لانا شروع ہو گئی ہے۔"
تاہم گیٹس نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ ابھی خاتمے پر نہیں پہنچی۔ انھوں نے کہا کہ"لڑائی بہت مشکل کُن ثابت ہو گی۔ اور ابھی ہمیں بہت مُشکل دِنُوں کا سامنا کرنا ہے۔" ۔
نئی حکمت عملی اس طرح سے کامیابی کی پیمائش کرتی ہے کہ ہم کتنے افغانیوں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں، نہ کہ کتنے طالبان مارتے ہیں، سیکریٹری نے کہا۔ جیسے جیسے طالبان کا زور الٹا ہو گا، گیٹس نے کہا وہ امید کرتے ہیں کہ مزید چھوٹے درجے کے عسکریت پسند اپنے ہتھیار پھینک کر صدر حامد کرزئی کی بحالی انضمام کی کوششوں کے ذریعے افغان معاشرے میں دوبارہ شامل ہو جائيں گے۔
گیٹس نے کہا کہ اس بات کی ابتدائی علامات دیکھ رہے ہیں کہ انضمام کی بحالی کام کر رہی ہے۔
"ہمیں دو کام کرنے ہوں گیں: ایسے حالات پیدا کرنے ہیں، جس میں [سابقہ طالبان] کو نوکریاں مل سکیں اور ان کو اور ان کے خاندانوں کو [طالبان کے انتقام سے] تحفظ فراہم کیا جاسکے" گیٹس نے کہا۔ "تاہم میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ ُصلح افغان حکومت کی شرائط اور افغان آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔"
عراق پر اپنی راۓ کا اظہار کرتے ہوۓ گیٹس نے کہا، آرمی جنرل رےمنڈ اوڈیرنو، وہاں امریکہ کے اعلی ترین کمانڈر، امریکی فوجوں کے ذمہ دارانہ افواج کی کمی کے انتظامات سے "کافی مُطمئِین" ہیں۔
"عراقی سیکیوریٹی فورسز میں مستقل بہتری ہو رہی ہے۔ ہم ان کواپنی تربیت دینے کا کردار 2011 تک برقرار رکھیں گے۔ ہم ان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں جاری رکھیں گے" گیٹس نے فوجوں کی کمی کے سلسلے میں کہا کہ ہم زیدہ تر اپنے مقررہ وقت کے مطابق چل رہے ہیں ۔
گیٹس نے حالیہ، نمودار حملوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ القاعدہ ناامیدی کی حالت میں اپنی واپسی کے لئے فرقہ ورانہ تقسیم کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"اس بارے میں ہماری تمام اطلاعات القاعدہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں،" انھوں نے کہا۔ "وہ پھر سے تازہ دم ہو رہے ہیں اور اس لیۓ ہم ان کو ختم کرنے کے لیۓ عراقی اہلکاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔"
اس دوران، انھوں نے کہا کہ ان کو یقین دلایا گیا ہے کہ عراق میں سیاسی عمل جو کہ، اگرچہ اتنی ہمواری سے نہیں بڑھ رہا جتنی اُس سے اُمید کی جا رہی تھی، لیکن آحرکار یہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا "جہاں تک بغداد سے سیاست کا تعلق ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہی لوگ اپنی مشکلات بندوقوں کی بجاۓ سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
پاکستان کے بارے میں، گیٹس نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی فوجیں جنوبی وزیرستان اور پورے ملک میں زبردست جارحانہ کاروائیاں کر رہی ہیں – یہ کاروائیاں سب کی امیدوں سے بھی بڑھ کر رہی ہیں، انھوں نے کہا۔
اگر آپ مجھے 18 مہینے یا دو سال پہلے بتاتے کہ پاکستان آرمی جنوبی وزیرستان میں کاروائی کریں گے، کہ وہ باجوڑکی تحصیل[فاٹا] میں داخل ہو جائیں گے، کہ وہ سوات [کی وادی] میں داخل ہوں گے ، میں یہ سمجھتا کہ اُس وقت کہ ایک معجزہ ہو گیا ہے۔" انھوں نے کہا۔
"ہم ہمیشہ ان سے مزید کی خواہش رکھتے ہیں،" گیٹس نے پاکستان کے بارے میں کہا۔ "وہ ہمیں دور دھکیل دیتے ہیں کیونکر وہ معاملے کو اپنے طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، اور ہم جہاں تک ہو سکے گا اُن کی مدد کریں گے۔"
انھوں نے پچھلے مہینے جو پیغام اپنے اسلام آباد کے دورے پر دیا تھا اس کو دہرایا۔ " ہم اس گاڑی پر اکھٹے سوار ہیں، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ پاکستان [افغانستان کے ساتھ] اپنی سرحدوں میں حود اِس گاڑی کو چلا رہے ہیں اور اس کی تیزی کا تعین بھی حود ہی کر رہے ہیں۔" انھوں نے کہا۔
"ہم آہنگی میں پیش رفت ہوئی ہے،" انھوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوۓ کہا۔ "اور صاف بات یہ ہے کہ میرے خیال میں پاکستان نے بہترین کارکردری دکھائی ہے۔"
گیٹس نے ایرانی صدر محمود احمد نژاد کی بین الاقوامی برادری سے سرکشی کرتے ہوۓ اپنے ایٹمی افزودگی کے پروگرام کو آگے بڑھانے پر فکرمندی کا اظہار کیا۔ امریکہ اور بین الاقوامی برادری نے ایران کو اپنی نیت کا یقین دلانے، اور یہ بتانے کہ وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے اوراقوامہ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی بند کر دے گا، کے کافی مواقع فراہم کیے ہیں، انھوں نے کہا۔
"جواب مستقل طور پر مایوس کن رہا ہے،" انھوں نے کہا، "اب ہم اس مقام پر ہیں کہ دباؤ ڈانے کا راستہ اختیار کیا جاۓ اور ایرانی حکومت کو اپنا راستہ بدلنے کے لیۓ مجبور کرنے کی کوششوں اور سخت پابندیوں کے لیۓ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کی جاۓ۔"
وین سسٹیرن کے گیٹس کے ساتھ انٹرویو کی مزید تفصیلات آج رات کی نشریات میں دکھائ جائیں گی، جس کی زیادہ تر توجہ "نہ پوچھو، نہ بتاؤ" پالیسی جو کہ ہم جنس پرستوں کو ملٹری میں نوکری کرنے سے روکتی ہے، کے فیصلے کے ممکنہ طور پر الٹ جانے پر مرکوز ہو گی۔