Combined Joint Interagency Task Force-435
| روہوڈ آئی لینڈ کی ایم پی بریگیڈ نے ڈی ایف آئی پی کا کنٹرول سبنھال لیا |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںوبہ پروان، افغانستان 1 مئی 2011 ۔۔ روہوڈ آئی لینڈ کی نیشنل گارڈ 43rd ملٹری پولیس بریگیڈ، ٹاسک فورس پروٹیکٹر نے 28 اپریل کو ایک تقریب کے دوران مشی گن نیشنل گارڈ 46th ملٹری پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر سے پروان کے قید خانے ڈی ایف آئی پی کا کنٹرول سنبھال لیا۔
مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے شہری ڈپٹی مائیکل سکیونٹی کہتے ہیں کہ ٹاسک فورس پیس کیپر کے جوانوں نے قید خانے کے نظام کو اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو منتقل کرنے کے عمل میں دیرپا اثر ڈالا ہے۔ آپ نے جو کچھ یہاں اپنی تعیناتی کے دوران کیا وہ شاندار اور ہمارے اور افغانستان کے لیے سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ٹاس فورس پیس کیپر، جس کی کمانڈ امریکی فوجی بریگیڈئیر جنرل مینڈی اے مُرے ڈی ایف آئی پی میں قیدیوں کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار تھے جس میں قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک، ڈی ایف آئی پی کی افغان حکام کو مشروط منتقلی کے لیے افغان نیشنل آرمی اے این اے کے ساتھ شراکت، ڈی ایف آئی پی کے ساتھ اے این اے لاجسٹکسل سپورٹ ایریا کی تعمیر کی نگرانی اور پروان میں جسٹس سنٹر کی تعمیر کی نگرانی جیسے امور شامل تھے۔ اپنی ایک سالہ تعیناتی کے دوران ٹاسک فورس پیس کیپرا نے اے این اے جوانوں کے دس دستوں کو ڈی ایف آئی پی سے متعلق تربیت دے کر انہیں محافظوں میں شامل کیا جو کہ قید خانے کو چلانے میں اے این اے کی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اے این اے گزشتہ برس اکتوبر تک قیدیوں کے ہاوسنگ کے نظام کا بیشتر حصہ سنبھالنے کے قابل ہو گئی اور مشن پورے کرنے کی صلاحیت کو مسلسل بڑھانے لگی۔ رواں سال جنوری تک اے این اے اور ٹاسک فورس پیس کیپر نے اب تک اہم ترین سنگ میل عبور کیا جب افغان جوانوں کے زیرِ انتظام ہاوسنگ یونٹ کی تعمیر مکمل ہوئی۔ سکیونٹی کہتے ہیں کہ آپ نے اس فیسلیٹی کی منتقلی شروع کی اور اسے اپنے افغان ہم منصبوں کے حوالے کرنے کا عمل جاری رکھا۔ ہم اہم پیشرفت کرنے کے لیے درست راستے پر ہیں لیکن ہم اپنی توجہ منتشر نہیں کر سکتے کیونکہ قید خانے کو ذمہ دار انداز میں اپنے افغان ہم منصبوں کے حوالے کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ٹاسک فورس پروٹیکٹر کے کمانڈر امریکی فوجی بریگیڈئیر جنرل چارلس ای پیٹررکا کہتے ہیں کہ انہیں ڈی ایف آئی پی کی کمانڈ سنبھالنے پر فخر ہے اور ان کے جوان فیسیلٹی کے افغان حکام کو مشروط منتقلی کا عمل جاری رکھیں گے۔ پیٹررکا کہتے ہیں کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اور میرا عملہ ایسے رشتے بنائیں گے جہاں ہم آپ سے اسی قدر سیکھیں جس قدر آپ ہم سے سیکھتے ہیں۔ اس مشن میں اے این اے کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔ ہمیں یہ مشن ساتھی بن کر پورا کرنا ہے۔ 43rd ایم پی بریگیڈ کو اس سے پہلے آپریشن دیرپاہ آزادی کے سلسلے میں 2002 میں گوانتانامو بے، کیوبا میں تعینات کیا گیا تھا۔ 2005 میں انہیں آپریشن عراقی آزادی کے سلسلے میں عراق میں تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے ٹاسک فورس 134 اور ملٹی نیشنل فورس عراق کے ساتھ مل کر تھیٹر انٹرنمنٹ فسیلیٹیز پر کمانڈ اور کنٹرول کیا اور عراقی کوریکشنز افیسر اکیڈمی چلائی۔ ڈی ایف آئی پی ایک جدید ترین قید خانہ ہے جس کی تعمیر ستمبر 2009 میں مکمل ہوئی اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدیوں کی منتقلی شروع ہوئی۔ ڈی ایف آئی پی میڈیکل سہولت، اہل خانہ سے ملاقاتی مرکز، ووکیشنل سہولتیں اور درس و تدریس کے لیے کلاس رومز کی سہولتوں سے لیس ہے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن میں قیدیوں کو سماج میں دوبارہ شامل کرنے حکمت عملی کو شامل کیا گیا ہے اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کو اس قابل کیا گیا کہ وہ افغانستان میں مزاحمت کے خاتمے کی کوششوں میں قیدیوں کے انتظام و انصرام کو بھی شامل کر سکیں۔ سی جے آئی اے ایف 435 اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور امریکہ کے انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قیدیوں کی ڈینٹنشن، اصلاح اور عدالتی سیکٹر اور بائیو میٹرکس میں کام کرتی ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قیدیوں کے انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں مشروط طور پر افغان حکام کے حوالے کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھی جائے
|
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.










