| فرح پی-آر-ٹی کا فرح سٹی ہسپتال کے بچوں کی اضافی غذائی مرکز میں کامیابیوں کا جائزہ |
منجانب Lt.j.g. Matthew Stroup, Provincial Reconstruction Team Farah
فرح شھر، افغانستان - میڈیکل اور سول معاملات کی صوبائی تعمیرنو ٹیم (پی-آر-ٹی) کے ارکان نے حال ہی میں قیادت سے ملاقات کی اور مرکز کے آپریشنز کا جائزہ لینے کے لیئت فرح سٹی ہسپتال میں بچوں کی اضافی غذائی مرکز کا دورہ کیا۔ فرح سٹی ہسپتال میں بچوں کا اضافی غذائی پروگرام ایک آؤٹ پیشنٹ کے علاج کے طور پر غذائی پروگرام ہے جو فرح میں ان بچوں، جو شدید غذائی کمی کے خطرے میں ہیں، کو صوبے فرح میں بچپن کی اموات کی شرح کو کم کرنے کے لئے کے لئے ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پروگرام، جس کو اس وقت پی-آر-ٹی کی طرف سے فنڈز فراہم کیۓ جا رہے ہیں، اگست 2012 کے بعد سے کام کر رہا ہے اور نومبر 2013 تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام میں بچوں کا خیال رکھنے کے لئے، فرح عوامی صحت کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ نے فرح سٹی ہسپتال کے غذائی کمی کے ڈائریکٹر، عبدالغنی مہرزاد ، جو مرکز کے آپریشن کی نگرانی کی مدد کے لئے ہیں، کو تین منتظمین فراہم کیۓ ہیں، تاکہ پروگرام میں مریضوں اندراج کیا جا سکے اور ان کی حالت سے باخبر رہا جاسکے۔ پروگرام میں ایک بچے کے اندراج میں پہلا قدم فرح سٹی ہسپتال کا دورہ ہے۔ ہر ہفتے ایک بار، پرانے اور نئے دونوں طرح کے مریض پروسیسنگ کے لئے مرکز میں پہنچتے ہیں۔ سب سے پہلے، واپس لوٹنےوالے بچوں کو پروسس کیا جاتا ہے۔ ان کے قد اور وزن کا ملازمین کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب ان کا نیا ڈیٹا ریکارڈ کے لیا جاتا ہے تو لوٹنے والے بچوں کی ماؤں کو ایک اضافی ہفتے کی علاج کے طور پر تیارشدہ خوراک (آر-یو-ٹی-ایف) فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اسے ایک ہفتے کے لیۓ گھر لے جا سکیں۔ آر-یو-ٹی-ایف آؤٹ پیشنٹ کے پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے جو بچوں کو بڑھنے اور ایک صحت مند وزن حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، غذائت پر اقوام متحدہ کی سٹینڈنگ کمیٹی اور اقوام متحدہ کے بچوں کا فنڈ جس کا نام "کمیونٹی کی بنیاد پرشدید غذائی کمی کا انتظام" کی جانب سے ایک مشترکہ بیان کے مطابق آر-یو-ٹی-ایف دیگر علاج کے طور پر ہسپتال کے ماحول میں استعمال کیا جاتا غذا کی طرح ہےغذائی کمی کا علاج. تاہم، آر-یو-ٹی-ایف میں غذائی علاج ہسپتال میں استعمال کیے جانے والے غذائی کمی کے علاج جیسا ہی ہے۔ تاہم، آر-یو-ٹی-ایف ہسپتال میں داخل مریضوں کے علاج سے مختلف ہے کیونکہ یہ پانی کی بنیاد پر نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بیکٹیریا نہیں پیدا ہو سکتا، جو کہ آر-یو-ٹی-ایف کو آؤٹ پیشنٹ غذائی کمی کا ایک بہترین حل بناتا ہے کیونکہ اسے استعمال کے لیے محفوظ رکھنے کے لیۓ ریفریجریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک بار جب واپس لوٹنے والے مریضوں کا اندراج کر لیا جاتا ہے تو نئے مریضوں کا اندراج ہوتا ہے۔ دیکھ بھال کرنے والوں کو بنیادی معلومات فراہم کرنے کے بعد، پروگرام میں بچوں کی ماؤں کو ایک انفرادی کارڈ دیا جاتا ہے جو ایک ٹکٹ کی ایک قسم کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ وہ آر-یو-ٹی-ایف حاصل کر سکیں، اور منتظمین کو مریض کی کارکردگی کو ٹریک کرنے میں مدد دیں۔ ایک بار جب بچوں کا پروگرام میں داخلہ ہوجاتا ہے تو ان کو ناپا جاتا ہے اور ان کا وزن لیا جاتا ہے تاکہ پروگرام کے لیے ان کی اہلیت کا تعین کیا جاۓ۔ ایک بار جب ان کی پیمائش کا چارٹ بنایا جاتا ہے اور اہلیت کا تعین کر لیا جاتا ہے تو ماں کو نئے داخلہ شدہ بچے کے لئے آر-یو-ٹی-ایف حاصل ہو جاتا ہے۔ آر-یو-ٹی-ایف حاصل کرنے کے علاوہ، مائیں جن کے بچے پروگرام میں ہیں، تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے موضوعات عام حفظان صحت سے متعلق، کھلانے سے قبل ہاتھ دھونے، اپنا دودھ پلانے اور عام صحت کے طریقوں پر عمل شامل ہیں۔ ان کورسوں کا مقصد پروگرام میں شامل بچوں کی طویل مدتی صحت مند نشونما ہے، نہ صرف غذا کی فراہمی کے ذریعے بلکہ ان مہارتوں کی فراہمی کے ذریعے، جو ان کی نشونما کے دوران انھیں صحت مند رکھیں گیں۔ مہر ذاد، جو ہسپتال میں پروگرام کی قیادت کرتے ہیں کے مطابق، تقریبا 180 بچے اضافی غذائی پروگرام میں داخل ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ تقریبا 90 بچوں کو پروگرام سے فارغ کر دیا گيا ہے کیونکہ انھوں نے وہ ایک صحت مند وزن حاصل کر لیا تھا۔ غذائی مرکز کی تشخیص کے دوران، پی-آر-ٹی ٹیم کے ارکان میں سے کچھ کو ان خواتین جو اس سہولت میں اپنے بچوں کو لائی تھیں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ انہوں معلوم ہوا کہ عورتیں پروگرام میں حصہ لینے کے لیۓ دور دراز اضلاع جیسا کہ بالا بولک اور لاشے جووائین سے سفر کر کے آئی تھیں۔ ایک ماں پروگرام کا فائدہ اٹھانے کے لئے، صوبہ ہلمند، فرح کے جنوب مشرق سے سفر کے آئی تھی۔ زیادہ تر خواتین کو ایک رشتہ دار یا دوست نے اس پروگرام کے بارے میں مطلع کیا اور انھیں پروگرام کا فائدہ اٹھانے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ پی-آر-ٹی کے ارکان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سے خاندان اپنے بچوں کی بہتری کے لیۓ پروگرام کا فائدہ اٹھانے کی غرض سے فرح شہر منتقل ہو گۓ۔ ایک عورت جس نے امریکی بحریہ کی لیفٹیننٹ جے-جی- لارا کک، جو پی-آر-ٹی کے لئے ڈاکٹر کی اسسٹنٹ ہیں، سے بات کی اور بچوں میں غذائی کمی کا حقیقی زندگی میں نتائج کے بارے میں ایک المناک کہانی کا اشتراک کیا۔ کک نے وضاحت کی کہ "عورت نے میرے ساتھ اشتراک کیا ہے کہ اس نے غذائی کمی کی وجہ سے ایک بیٹی کو کھو دیا۔ ایک رشتہ دار کے ذریعے اس پروگرام کے بارے میں سننے کے بعد وہ اپنے بیٹے کو مدد حاصل کرنے کے لئے لائی تاکہ وہ اسے بھی کھو نہ دیتی۔" غذائی کمی کے علاج کے علاوہ، ہسپتال نے آنے والے تمام بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے بھی پلاۓ۔ فرح کے صحت عامہ کے صوبائی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الجبار شائیق نے کہا کہ "ہم دنیا میں صرف ان تین ملکوں میں سے ہیں جن میں فعال پولیو کے کیسز موجود ہیں" ۔ "اس سال ہمیں افغانستان بھر میں پولیو کے 33 کیس پیش آۓ اورفرح میں صرف ایک تھا۔ ہم 2013 میں افغانستان کو پولکو سے چھٹکارا دلانے کے کام کر رہے ہیں۔" ان بچوں کو، جنھوں نے بچوں کے اضافی غذائی مرکز کا دورہ کیا کو پولیو ویکسین کے قطرے پلاۓ گۓ، جس کے بعد ان کے ہاتھ پر انمٹ سیاہی کے ساتھ نشان لگا دیا گیا اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ بچوں کو ان کے دورے کے دوران دوسری خوراک نہ دی جاۓ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پولیو بنیادی طور پر پانچ سال کی عمر سے کم کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے-- اسے صرف روکا جا سکتا ہے۔ کئی بار دی گئی پولیو ویکسین، زندگی بھر کے لئے ایک بچے کی حفاظت کر سکتی ہے۔ جس دوران پی-آر-ٹی اضافی غذائی پروگرام کے لیۓ رقم فراہم کرتی ہے، اضافی غذائی مرکز کے روز مرہ کے کاموں کو مکمل طور پر مہر زاد اور ان کا مقامی عملہ چلاتا ہے۔ ان کی قیادت اور اس کامیاب پروگرام کو چلانا، ضروری وسائل کی دستیابی کے بعد لوگوں کی خدمت کے لیۓ افغان صلاحیت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پی-آر-ٹی فرح کا مشن صوبہ فرح، افغانستان میں بلدیاتی، ضلعی، اور صوبائی سطح پر افغان حکومت کی قیادت کو تربیت، مشاورت، اور مدد فراہم کرنا ہے۔ ان کی سول-ملٹری ٹیم میں امریکی بحریہ، امریکی آرمی، امریکی فضائیہ، امریکی وزارت خارجہ، اور امریکی ایجنسی براۓ بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) شامل ہیں۔ پی-آر-ٹی کے بارے میں مزید معلومات کے لیۓ، ان کے فیس بک صفحے پر جائیں۔ www.facebook.com/PRTFRH
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















