صفحہ اول | خبریں | صوبائی عہدہ دار نے باغیوں کے حملے کو ناکام بنانے میں مدد دی
صوبائی عہدہ دار نے باغیوں کے حملے کو ناکام بنانے میں مدد دی
منجانب , ISAF Joint Command

واشنگٹن ( 12 جولائی 2010) –  فوجی عہدہ داروں نے بتایا کہ افغانی قومی پولیس اور غزنی کے نائب گورنر نے کل غزنی کے ضلع خواجہ ‏عماری میں باغیوں کا ایک حملہ ناکام بنا دیا۔

باغیوں نے ضلع کے استغاثہ کے سابق سربراہ محمد رضا جن کو 9 جولائی کو باغیوں نے قتل کر دیا تھا انکے جنازے کے جلوس پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ افغان فورسز نے حملے میں خلل ڈالنے کے لیۓ دیہہ کلی گاؤں کے باہر ایک چیک پوائنٹ قائم کی اور باغیوں نے جنازے کی بجاۓ چیک پوائنٹ پر حملہ کر دیا۔ جب نائب گورنر نے حملے کے بارے میں سنا تو وہ قومی پولیس کی مدد کرنے کے لیۓ بڑی تیزی سے اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ وقوع پر پہنچے۔ متعدد باغی مارے گۓ اور متعدد پولیس آفیسرز زخمی ہوۓ۔  

اس اثناء میں فوجی عہدہ داروں نے افغانستان میں حال ہی میں ہونے والی بہت سی کاروائیوں کی تفصیل فراہم کی۔ صوبہ لوگر کے ضلع پل عالم میں گذشتہ شب افغانی– بین الاقوامی سکیورٹی  فورس نے ایک طالبان کمانڈر کا جو کہ برکی برک میں اتحادی فورسز کے خلاف حملوں کا ذمہ دار تھا اس کا تعاقب کرتے ہوۓ متعدد مشتبہ باغیوں کو حراست میں لے لیا۔ کوئی گولیاں نہیں چلائی گئیں تھیں اور متحدہ سکیورٹی فورسز نے ان عورتوں اور بچوں کو جو کہ وہاں پر موجود تھے انکی حفاظت کی۔

اس کے علاوہ گذشتہ شب ایک افغانی–بین الاقوامی فورس نے صوبہ خوست کے ضلع صابری میں حقانی دہشت گرد نیٹ ورک کو ہتھیاروں کی فراہمی میں مدد دینے والے ایک فرد کے تعاقب کے دوران جس کا تعلق اتحادی فوجوں پر بموں کے حملے سے تھا ایک مشتبہ باغی کو ہلاک کر دیا اور متعدد دوسروں کو گرفتار کر لیا۔ جب اتحادی فوجیں اس احاطے کو محفوظ بنا رہی تھیں تو ایک شخص نے ایک سپاہی پر حملہ کیا اور اس کی بندوق کی نالی پکڑنے کی کوشش کی۔ سپاہی نے ذاتی تحظ کے لیۓ آدمی پر گولیاں چلا دیں۔  وہاں بہت سے خودکار ہتھیار گرینیڈ اور بم بنانے کا سامان موجود تھا اور اس سامان کو تباہ کر کے متحدہ فورس نے وہاں پر موجودہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کی۔  

گذشتہ شب صوبہ قندوز کے ضلع چہردارہ میں صفائی کی ایک کاروائی کے دوران ان عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہوۓ جو کہ اس کاروائی کے دوران وہاں پرموجود تھے افغانی– بین الاقوامی سکیورٹی فورس نے ایک مشتبہ باغی کو حراست میں لے لیا۔

افغانی کمانڈوز اور امریکی خصوصی کاروائیوں کی فورسز نے کل صوبہ ہلمند میں ایک افغانی قیادت میں ہونے والے گشت میں چھپے ہوۓ ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ پایا۔ اس گشت پرجوکہ سکیورٹی قائم کرنے اور ان باغیوں کو جو میران دب اور حیدر آباد دیہات میں کاروائیاں کر رہے تھے ڈھونڈنے کا کام کیا تھا۔ باغیوں نے متعدد بار راکٹ کی مدد سے داغے جانے والے گرینیڈ، مشین گنوں اور چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

ایک افغانی عورت کی ٹانگ پر بم کے ٹکڑے اُڑنے کی وجہ سے زخم آۓ اور امریکی طبی عملے نے اس کا علاج کیا۔ دو زخمی باغیوں کا علاج بھی کیا گیا اور پھر ان کو حراست میں لے لیا گیا۔

کچھ عمارتوں کی تلاشی کے دوران سکیورٹی فورس کو چار خود ساختہ بم جو کہ ایک برتن میں گھر میں بنے ہوۓ دھماکہ خیز مواد سے جڑے ہوۓ تھے، تین راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ اور لانچر تین 82 ایم ایم مارٹر چھوٹے ریڈیو اور بیٹریاں ملیں۔ متحدہ فورس نے گاؤں کے بزرگوں سے مل کر گاؤں کے رہنے والوں کی حفاظت کے لیۓ اس عمارت کو جس میں چھپے ہوۓ ہتھیاروں کے ذخیرے تھے محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا اختیار دے دیا۔

دوسری خبروں میں بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس [ایساف] کے عہدہ داروں نے طالبان کے ایک منصوبے کا سراغ لگایا جس کے مطابق وہ افغانستان کے صوبے قندھار کے لوگوں میں تقسیم کرنے لیۓ رسد اور خوراک کو ضبط کرنا چاہتے تھے۔ غیر سرکاری تنظیموں کو تقسیم کے لیۓ دیۓ جانے والے اس سامان کو طالبان قبضے میں لے کر اپنے استعمال کے لیۓ رکھنا چاہتے تھے۔

ایساف کے عہدہ داروں نے کہا کہ قبضہ کرنے کے منصوبوں کے حجم کو معلوم کرنے کے لیۓ وہ افغانستان کی حکومت سے تعاون کر رہے ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ کہ طالبان ان اشیاء پر قبضہ کرنے میں ناکام رہیں مقامی عہدہ داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

دوسری خبروں میں ایساف فورسز نے 12 زخمی شہریوں کا علاج کیا جب 11 جولائی کو ہلمند کے ضلع گرم سر میں ان کی گاڑی کو ایک دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک موٹرسائیکل نے ٹکر مار دی۔ ایساف کے عملے نے ایساف کی طبی سہولتوں پر لے جانے سے ہہلے موقعے پر ہی زخمیوں کا علاج کیا۔ 10 جولائی کو ایک افغان– بین الاقوامی فورس نے صوبہ زابل کے ضلع شاہ جواۓ میں متعدد مسلح باغیوں کے ساتھ ایک طالبان کمانڈر مولوی شہاب الدین کو ہلاک کر دیا۔ شہاب الدین پاکستان سے بم سازی کا سامان اور ‏‏غیرملکی لڑنے والوں کو ضلع میں لانے کا ذمہ دار تھا۔

سکیورٹی فورس ایک پوری طرح مسلح باغیوں کے گرو کے قریب پہنچے جو صوبے کے شمال مشرقی حصے میں ایک سڑک کے کنارے بم نصب کر رہے تھے۔ جب فورس نے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو ایک باغی نے گرینیڈ چلا دیا۔ سکیورٹی فورس نے باغیوں کا مقابلہ کیا اور ان کوہلاک کر دیا جس میں شہاب الدین بھی شامل تھے۔ انہوں نے متعدد مشتبہ باغیوں کو گرفتار بھی کیا۔

معائنہ کرنے پر سکیورٹی فورس کو معلوم ہوا کہ ایک باغی نے اپنے جسم کے اندر ایک دستی بم رکھ کر اپنے آپ کو پھندے کے طور پر پیش کر کے ایک دھماکہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ بم نے بعد میں اس بم کو ضائع کر دیا۔

باغیوں کے پاس سے مشین گنیں بم سازی کا مواد اور راکٹوں اور بموں کے ساتھ آر پی جی لانچرز ملے۔ علاقے کی تلاشی میں بم سازی کا مزید سامان، دستی بم چھوٹے ہتھیاروں کی راکٹوں کے ساتھ آر پی جی لانچرز اور دھماکہ خیز مواد سے لدی دو موٹرسائیکلیں ملیں۔ سکیورٹی فورس نے ہتھیاروں اور موٹر سائیکلوں کو موقع پر ہی تباہ کر دیا۔ کوئی شہری یا سکیورٹی فورسز کے ارکان زخمی نہیں ہوۓ۔

اس کے علاوہ 10 جولائی کو ایک افغان–بین الاقوامی متحدہ سکیورٹی فورس نے غزنی میں طالبان کمانڈر کا تعاقب کرتے ہوۓ متعدد باغیوں کو ہلاک کر دیا اور دو مشتبہ افراد کو گرفتارکر لیا۔ پاکستان میں موجودہ طالبان قیادت سے اس کمانڈر کا براہ راست رابطہ تھا اور القاعدہ اور کمانڈر نذیر گرو کی دہشت گرد تنظیم سے تعلقات تھے جو شہریوں کو قتل اور خوف و ہراس پھیلانے کی کاروائیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ دہشت گرد گروحقانی دہشت گرد نیٹ ورک  کے ساتھ مل کر بین الاقوامی فورسز کے خلاف حملوں کی کاروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔

ایک متحدہ افغان–بین الاقوامی سکیورٹی فورس نے 10 جولائی کی رات کوصوبہ قندھار میں دو طالبان کمانڈروں کے خلاف کاروائیوں کے دوران دو باغیوں کو ہلاک کر دیا اور چند مشتبہ باغیوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کمانڈر جنوبی ارغنداب ضلعے اور قندھار شہر میں افغانی اور بین الاقوامی فورسز کے خلاف حملوں کے ذمہ دار ہیں اور یہ ارغنداب کے باغیوں کے نیٹ ورک کو ہتھیار اور بم بھی فراہم کرتے ہیں۔ 

سکیورٹی فورس نے خرسک گاؤں کے قریب ایک علاقے کونشانہ بنایا جو کہ طالبان لڑاکوں کا محفوظ ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ علاقے کو صاف کرنے اور محفوظ بنانے کے بعد سکیورٹی فورسز کمانڈروں کی تلاش میں دو مختلف احاطوں کی طرف گئیں۔ جب فورس پہلے احاطے کے قریب پہنچی تو خودکار اسلحے سے لیس دو باغیوں نے ان پر حملہ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اتحادی فوجوں نے ان کا تعاقب کیا اور باغیوں کو فضا سے ٹھیک ٹھاک نشانہ لگا کر ہلاک کر دیا۔  جب سکیورٹی فورس نے علاقے کی صفائی کو جاری رکھا توانہوں نے ایک گھر دریافت کیا جس کو بم دھماکے کے لیۓ ایک جال کے طور پراستمال کیا گیا تھا اور جسے انہوں نے محفوظ بنا دیا تھا۔ 

 ایک دوسرے احاطے میں افغانی فورسز نے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کر کے تمام رہائشیوں سے پر امن طریقے سے باہر آنے کو کہا تھا، پھرعمارت کو صاف کر دیا اور اس کو محفوظ بنا دیا گیا تھا۔ اس کاروائی کے دوران کوئی شہری یا سکیورٹی فورسز کا فرد زخمی نہیں ہوا۔

10 جولائی کو افغانی–بین الاقوامی فورس نے قندھار کے پنجوائی ضلع میں دو دن کی کاروائیوں کے دوران دو مشتبہ باغیوں کو حراست میں لیا اور دھماکہ خیز مواد اور بم سازی کا سامان پکڑا۔ فورس نے 227 کلو سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اور اس کے ساتھ ساتھ 155 ایم ایم توپ کے گولے اور بم سازی کے اجزا پکڑے اور ان کو تباہ کر دیا ان میں سے ایک دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی موٹر سائیکل بھی شامل تھی۔ فورس نے تلاشی کے علاقے میں متعدد سرنگیں بھی دریافت کیں۔

10 جولائی کو ایک افغانی–بین الاقوامی گشت کو ہلمند کے ضلع نواہء برکزئی سے 91 کلو افیون اور بم سازی کا سامان ملا جس کو انہوں نے تباہ کر دیا۔

صوبہ کپیسا میں 10 جولائی کو ایک افغانی شہری نے ایساف کے آگے کاروائی کرنے والی ایک چھاونی میں 10 آر پی جی کے وار ہیڈ، آٹھ آر پی جی کے بوسٹر اور 27  82 ایم ایم جھٹکے کے بغیرچلنے والی رائفلوں کے کارتوس واپس جمع کرواۓ۔

10 جولائی کو ایساف فورسز نے چار شہریوں کا علاج کیا جو اس وقت زخمی ہوۓ تھے جب باغیوں نے صوبہ پکتیا کے ضلع لجاہ – احمد خیل میں ایک وین پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ افغانی فورسز نے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو نکال کر ایساف کو طبی نگہداشت کی سہولت تک پہنچایا۔ باغیوں کے حملے میں متعدد شہری ہلاک ہوگئے۔

افغانی قیادت میں ایک فورس نے جس پر ہلمند کے ضلع نہر سراج میں ایک حفاظتی گشت کے دوران حملہ کیا گیا تھا ایک افغانی عورت کو مدد فراہم کی جو کہ 10 جولائی کو باغیوں کی گولیوں سے زخمی ہوئی تھی۔ افغانی فوجی کمانڈو اور امریکی خصوصی کاروائیوں کی فورسز میراندب اور حیدرآباد کے اندر اور آس پاس گشت کر رہے تھے جب ان پر آر پی جیز اور بھاری مشین گنوں سے حملہ کیا گیا۔ باغیوں کے حملے کے دوران ایک عورت کو بم کے ٹکڑوں سے زخم آۓ اور امریکی طبی عملے نے اس کا علاج کیا۔ حملے کے دوران زخمی ہونے والے دو باغیوں کو علاج فراہم کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔  

حملے کے فوراً بعد افغانی کمانڈوز کے کمانڈر نے واقعات کی تفصیل بتانے کے لیۓ ایک مقامی بزرگ سے رابطہ کیا۔ بزرگ نے کہا کہ کمانڈوز کی موجودگی نے شہریوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کی ہے اور وہ گشت کرنے والوں کو باغیوں کے نزدیک چھپاۓ ہوۓ ہتھیاروں کے ایک ذخیرے تک لے گیا۔

ایک طالبان کمانڈر کا پیچھا کرنے کے دوران ایک افغانی اور بین الاقوامی حفاظتی فورس نے 10 جولائی کو صوبہ غزنی میں دو مشتبہ باغیوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کمانڈر پاکستان سے پاکستانی چیچن اور عرب لڑاکے اور بم سازی کا سامان صوبے کے ضلعے شاہ جواۓ میں لانے کا ذمہ دار تھا۔

ضلع گیلان کے پردیل گاؤں میں افغانی قیادت میں لی گئ تلاشی کی توجہ ایک احاطے پر مرکوز تھی۔ تلاشی کے دوران متحدہ فورس کو مختلف سمتوں سے کہیں بے اثر گولیوں کی بوچھار کا سامنا کرنا پڑا۔ علاقے کے رہائشیوں سے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد فورس نے مشتبہ باغیوں کو حراست میں لے لیا۔ کسی عمارت کو نقصان نہیں پہنچا اور فورس نے ان عورتوں اور بچوں کی حفاظت کی جو کہ وہاں پر موجود تھے۔

صوبہ پکتیا کے احمد آباد میں 9 جولائی کی رات کو ایک دوسری افغانی اور بین الاقوامی حفاظتی فورس نے ایک مسلح شخص کو ہلاک کر دیا اور متعدد مشتبہ باغیوں کو حراست میں لے لیا۔ سکیورٹی فورس بہت سے احاطوں میں گئ اور افغانی فورسز نے سارے مکینوں کو باہر نکالنے کے لیۓ لاؤڈ سپیکر کا استعمال کیا۔ جب وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو سکیورٹی فورس نے رہائشی علاقے کو اتحادی فورسز کی موجودگی سے خبردار کرنے کے لیۓ ایک ہوائی جہاز سے علاقہ روشن کر دیا۔  ایک مسلح شخص نے متحدہ فورس سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور متحدہ فورس نے ذاتی تحظ کے لیۓ اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔  ٹیم نے احاطے سے بہت سے ہتھیار برآمد کۓ۔

آٹھ جولائی کو صوبہ بدغیز کے ضلع موقور کے ایک رہائشی کی اطلاع نے افغانی اور ایساف فورسز کی رہنمائی 178 82 ایم ایم مارٹر بموں تک کی۔ ایساف ماہرین کا کہنا تھا کہ گولوں میں دھماکہ خیز مواد درجنوں سڑک کے کنارے نصب کرنے والے بڑے بم بنانے میں استعمال ہو سکتا تھا۔ اس چھپے ہوۓ ذخیرے کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا اور اس کو تباہ کر دیا جاۓ گا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,182+