صفحہ اول | خبریں | پٹریاس: افغانستان میں کوشش اور ایک مقصد کے لیۓ یک جہتی نہایت ضروری ہے
پٹریاس: افغانستان میں کوشش اور ایک مقصد کے لیۓ یک جہتی نہایت ضروری ہے
منجانب , American Forces Press Service
100702petraeus
سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ ایڈمرل جیمز جی۔ سٹاوریڈس (بائیں جانب سے)ایساف کمانڈر جنرل ڈیوڈ پٹریاس اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جنرل اینڈرس فو رسموسن نے نیٹو کے صدر دفتر میں یکم جولائی کو پری‎ کانفرنس کا اہتمام کیا۔ (سٹاف سارجنٹ بریڈلے لیل کی دفاع کے محکمے سے فوٹو)

واشنگٹن (1 جولائی، 2010) - امریکہ اور نیٹو فورسز کے نۓ کمانڈر نے جمعرات کو کہا کہ افغانستان میں باغیوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیۓ ایک مقصد کی یک جہتی نہایت ضروری ہے۔

برسلز، بیلجئیم میں نیٹو کے صدر دفتر میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ فوجی جنرل ڈیوڈ پٹریاس اور نیٹو سیکرٹری جنرل اینڈرس فو رسموسن نے مزید تعاون پر زور دیا۔ یہ پٹریاس کی کل سینٹ کی طرف سے ان کی نئی پوزیشن کی تصدیق کے بعد پہلی رونمائی تھی۔

رسموسن نے کہا کہ جنرل نے اتحاد کی شمالی اٹلانٹک کونسل اور ان اتحادی ملکوں جن کے فوجی افغانستان میں زمین پرہیں کو انکو حالات سے آگاہ کیا۔  ملاقات کے دوران پٹریاس کو 46 بین الاقوامی سیکیوریٹی امدادی فورس کے ساتھیوں کی جانب سے تین واضع پیغامات ملے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پہلا پیغام یہ  تھا کہ جنرل کو ہماری مکمل حمایت حاصل ہے دوسرا یہ کہ ایساف کے ممالک افغانستان میں حکمت عملی کی حمایت میں متحد ہیں اور یہ کہ اگرچہ کمان میں تبدیلی آئی ہے لیکن اس سے حکمت عملی میں نہیں۔

رسموسن نے کہا اور آخری پیغام یہ تھا کہ مشن کو ملک کی اور اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی اور ساتھی اس وقت تک اس کے وفادار رہیں گے جب تک یہ کام ختم نہ ہو جاۓ۔ ظاہری طور پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہمیشہ کے لیۓ ہو گا، ہمارا مشن اس وقت ختم ہو جاۓ گا جب افغان خود اپنے ملک کی حفاظت اور اس کو چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔

پٹریاس نے افغانستان میں ملک کے اندر کاروائیوں کی ایک جامع حکمت عملی کے طور پر شہری اور فوجی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہو گا۔ اس میں امریکی تنظیموں کے اندرونی معاملات، نیٹو کے اتحاد کے درمیان، عظیم اتحاد کے درمیان اور خاص طور پر افغان حکومت کے درمیان بھی شامل ہیں۔

ہمیں واضع طور پر اپنے باہمی مقاصد کے حصول کے لیۓ لازماً اپنی کوششوں میں یک جہتی حاصل کرنی ہے۔ جنرل نے اشارہ کیا کہ قوموں کے مقاصد ایک ہیں کیونکہ افغانستان ان دہشتگرد حملوں جنہوں نے امریکہ، برطانیہ، انڈونیشیا، مڈریڈ اور بہت سے دوسرے علاقوں میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا ہے یہ ان کی تربیت گاہ تھا۔

پٹریاس نے شمالی اٹلانٹک کونسل کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس حمایت جس کا یہاں اظہار کیا گیا ہے اس کو سننا بہت حوصلہ افزاء تھا،جبکہ ہم سب ان مشکل اوقات کو جانتے ہیں جن کا ہمیں افغانستان میں سامنا کرنا پڑا، جہاں بے شک بہت سخت لڑائی ہوئی ہے اور جہاں بے شک بہت سی جانیں قربان ہوئیں ہیں حالانکہ حالیہ ہفتوں میں کچھ مہینوں میں کچھ بہتری بھی ہوئی ہے اور ہم آئیندہ آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کا عزم کیۓ ہوۓ ہیں۔

پٹریاس نے کہا کہ وہ افغان عوام  کی حفاظت اور ان کے درمیان معصوم شہریوں کی اموات کو کم کرنے کی حکمت عملی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔  ہمیں لازماً معصوم شہریوں کی زندگیوں کے ضیاع کو کم کرنے کے وعدے کو برقرار رکھنا ہے اور کسی فوجی کاروائی کے دوران اس کو کم از کم رکھنا بہت ضروری ہے۔

وہ جنگ کے ان اصولوں کو جو طاقت کے استعمال اور فضائی حمایت کم واضع کرتے ہیں کو تبدیل نہیں کریں گے تاہم وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکمت عملی کے کمانڈر ان اصولوں کا استعمال درست طریقے سے کریں۔

انھوں نے کہا کہ زمیں پر موجود ہمارے فوجیوں کے کچھ درجوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہمارے کچھ طریقہ اعمال بہت دفتری ہوتے جا رہے ہیں اورکمانڈر کی حیثیت سے یہ اخلاقی طور پر لازمی ہے کہ افغان اور اتحادی فوجوں کو بچانے کے لیۓ تمام قوت براہ کار لائی جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس معاملے پر افغان صدر حامد کرزئی وزیر دفاع عبدل وردک اور وزیر داخلہ بسم اللہ خان سے گفتگو کی ہے۔

 وہ ہماری نیت جو کہ میں نے ان پر واضع کی اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں جو کہ ایک طرف کسی بھی فوجی کاروائی کے دوران معصوم شہریوں کی زندگیوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھنے پر مرکوز تھا اور دوسری طرف ہمارے فوجیوں اور ہمارے ذرائع، افغان اور ایساف کو مشکل کے دوران پورے ذرائع سے امداد مہیا کرنا ہے۔

جنرل نے کہا کہ اگرچہ طالبان ملک کے کچھ حصوں میں اپنا اثر رسوخ کھو چکے ہیں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب لڑائی آسان ہونے کی بجائے اور بھی سخت ہو جاۓ گی

جب آپ دشمن کی پناہ گاہ چھین لیتے ہیں تو دشمن جوابی حملے پر اتر آتا ہے۔ آپ کو یہ عراق کے بارے میں یاد ہو گا ہی کہ عراق میں سب سے ذیادہ تشدد ان مہینوں میں ہوا جب باغیوں پر کنٹرول بڑھ گیا تھا۔ یہ شروع‏ میں بہت ہی ذیادہ تھا لیکن یہ کُچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔

پٹریاس نے ذکر کیا کہ افغانستان میں یہ بات بھی درست ہے کہ جہاں بھی امریکی مزاحمت وقت سے آگے اور تیز بڑھے گی وہاں تشدد کے واقعات بھی ذیادہ ہوتے جائیں گے۔ جب ہم دشمن سے اس کی اہم چیز لے لیتے ہیں تو دشمن جوابی حملہ کرتا ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,182+