صفحہ اول | خبریں | پیرا ٹرپرز اور افغانوں نے طالبان کے زیردست علاقے میں اپنی چوکی بنائی
پیرا ٹرپرز اور افغانوں نے طالبان کے زیردست علاقے میں اپنی چوکی بنائی
منجانب SGT Michael J. MacLeod, 1st Brigade Combat Team, 82nd Airborne Division Public Affairs
20120702_outpost
عرب خان، افغان نیشنل فوج کے تھرڈ بریگیڈ، 203ویں کور، کے ساتھ ایک پلاٹون سارجنٹ، 15 جون، 2012 کو افغانستان کے غزنی صوبہ، میں، طالبان باغیوں کے ساتھ ایک لڑائی کے بعد ایک انگور کا باغ چھانتے ہوۓ۔ افغان اور امریکی افواج گاؤں کی دوسری طرف دشمن سے ایک بار پھر لڑائی لڑیں گے۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ مائیکل جے۔ مک لیوڈ)
فارورڈ آپریٹنگ بیس وارئیر، افغانستان (29 جون،2012) – پیراٹروپر کی ایک کمپنی کے لیے جو کہ طالبان کے علاقے کے عین دریان میں تعینات کی گئی ہے کے لیۓ جنوبی غزنی صوبے میں نیا تعمیر شدہ جوائنٹ سیکیوریٹی سٹیشن حسن ایک حقیقی فرق ڈالنے کا ایک موقع ہے۔ ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور غزنی کے اجاڑ نوا ضلع کے ذریعے پاکستان سے آنے والے جنگجوؤں کے خلاف ناکہ بندی کے طور پر بنایا گيا جے -یس -ایس حسن صرف ترناک دریا پر محیط پل قائم کیا گیا تھا اور یہ بھاری گاڑیوں کی مدد کرنے کے قابل ہے۔ یہ سادہ "دیہی" زندگی ہے، پانی کے بغیر، بجلی کے بغیر، گرم کھانوں کے بغیر، ٹخنوں تک گہری دھول، خشک گرمی اور دشمن مارٹر اور راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ سے روزانہ کی بمباری کے ساتھ زندگی گزاری جاتی ہے ۔ طالبان جنگجوؤں کا سکیورٹی فورسز کی ان کے بنیادی حمایتی زون میں منتقلی کا رد عمل شدید رہا ہے، کیپٹن فلپ شنائیڈر نے بیان کیا، جن کی کمپنی 82ویں ائیربورن ڈویژن پیراٹروپر نے حسن نامی گاؤں میں ایک پُرانے، جلے ہوۓ احاطے میں چوکی تعمیر کی اور اس کے لیئے تھرڈ بریگیڈ، 203 ویں کور کے افغان فوجیوں سے چند فوجیوں کی درخواست کی۔ شنائیڈر، جو کہ ایک آرمر افسر ہیں، جنہوں نے تقریباً اپنا پورا کیریئر انفنٹری کی قیادت میں گزارا ہے، بشمول سرج کے حصے کے طور پر بغداد میں ایک 15 ماہ کا دورہ، نے کہا کہ ہم پر بار بار حملہ ہوتا ہے جب بھی ہم باہر جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ "ہم پر زیادہ حملے نہیں ہوتے تھے جب ہم تعمیر کا کام کر رہے تھے، لیکن بعد میں، یہ شروع ہو گیا تھا" ۔ ہم پر بلاواسطہ گولیاں روز چلتی ہیں، اور یہاں آنے والی سڑک خود ساختہ دھماکہ خیز آلات سے بھری ہوتی ہے۔ ہم نے اے-10 اور اپاچی سے مدد مانگی ہے؛ ہم قریبی خطرے والی آرٹلری کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں اور گولیاں ہم سے 200 میٹر کی دوری پرآ گرتی ہیں۔ سیکھنے کا رجحان یہاں بہت تیزی سے نیچے گرتا ہے۔" دشمن جنگجو چھوٹے یونٹ کے ہتھکنڈوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہیں، موٹر سائیکلوں کا استعمال کرتے ہوئے موثر طور پر آب پاشی کی کھائیوں، خشک وادیوں، گہرے انگور کے کھیتوں، گاؤں کی تنگ سڑکوں اور بھول بھلیوں نما قلات سے گزرتے ہیں۔ شنائیڈر نے کہا کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہاں کس طرح گولی مارنی ہے ۔ وہ اچھی طرح سے لیس ہیں۔ ان کے پاس ہاتھ میں پکرنے والے جاپانی ریڈیو، جی-پی-ایس اور رات میں دیکھنے والی ایرانی دوربینیں ہیں۔ وہ پہلے چند لمحات میں بہت مؤثر ہوتے ہیں، لیکن ان کے لئے اس کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اثاثوں کا فائدہ اٹھانا شنائڈر اپنے افغان نیشنل آرمی یا اے-این-اے کے شراکت داروں کو اپنا سب سے مظبوط اثاثہ سمجھتے ہیں۔ افغان کمپنی کمانڈر، کیپٹن جاوید رامن، ملٹری خاندان سے ہیں۔ ان کے بھائی، دادا، اور چچا سب نے ملٹری میں کام کیا ہے۔ رامن کے والد اور والدہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران انتقال کر گئے تھے جب وہ صرف تین سال کا تھا۔ وہ ابھی ہائی اسکول میں تھا جب نیٹو فورسز 11 ستمبر، 2001 کے بعد کابل میں پہنچیں، اور وہ کلاس کے درمیان میں طالبان کے خلاف جنگ کرنے کو یاد کرتے ہیں۔ رامن نے اسکول میں اور بعد میں نیشنل ملٹری اکیڈمی میں اتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ انن کو اُس وقت کے آئی-ایس-اے-ایف کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کے ساتھ دوپہر کے کھانے کے لئے مدعو کیا گیا تھا، اور انھیں مزید فوجی تربیت کے لیے امریکہ بھیجا گیا تھا۔ شنائڈر نے کہا کہ وہ رینجرز اسکول میں جانا چاہتا تھا مگر انھوں نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا ۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ "وہ تعلیم یافتہ ہے اور وہ حکمت عملی جانتا ہے، اور وہ اپنے تعلقات کو، اعلٰی عہدے کے حصول کے لئے یا اس وقت جب وہ کمانڈروں کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا، استعمال کرنے سے انکار کرتا ہے ۔ جے-ایس-ایس میں ایک مشہور چہرہ، حالانکہ، وہ اپنے چار بھائیوں میں سے سب سے چھوٹے ہیں جو کہ سب دشمن کے خلاف لڑتے ہوۓ جاں بحق ہو چکے ہیں، اس 37 سالہ پلاٹون سارجنٹ کا نام عرب خان ہے۔ شنائڈر نے کہا کہ "یہ ریمبو کی مانند ہے ۔ میرے فوجیوں میں اس کا بہت احترام ہے وہ حکمت عملی کے حساب سے بہت مظبوط ہے، جتنا ریمبو کبھی بھی تھا، لیکن وہ طوفان مچا دینے والی قسم کا آدمی ہے۔ شنائڈر پر اپنے برابر میں ایک لڑائی کے دوران کوئی چلایا، جب اس نے گھوم کر دیکھا تب عرب خان ایک چھوٹے سے گروہ کی قیادت کرتے ہوۓ دشمن کی طرف براہ راست بڑھ رہا تھا اور گولیاں اس کے ارد گرد زمین پر گر رہیں تھیں۔ شنائڈر کہتے ہیں کہ "وہ بہت نڈر ہے" ۔ عرب خان ایک جنگجو ہے، لیکن وہ ایک مبلغ بھی ہے اور امریکیوں نے یہ جانا ہے یہ جب وہ گاؤں کے بزرگوں سے بات کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سے الفاظ استعمال کرنے ہیں۔ مقامی لوگوں کا ردعمل عرب خان کے مطابق ترناک دریا کے ارد گرد باغیوں کے زیادہ تر تعداد پاکستان سے آنے والے جنگجوؤں کی ہے جو پیسے کے لیے جنگ کرتے ہیں، دین کے لئے نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم دیہاتیوں کے ساتھ بات کرتے ہیں، تو میں ان سے کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں ۔ آپ بھی مسلمان ہیں، میں افغان ہوں۔ اور آپ بھی افغان ہیں۔ اس وجہ سے، ہمیں پاکستان کو اپنی سرزمین کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ہر کوئی اس سے اتفاق کرتا ہے۔ شنائڈر نے کہا کہ مقامی لوگ اپنے دیہاتوں میں اے-این-اے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، خاص طور پر خواتین، جن کو طالبان نے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے مارا پیٹا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ "طالبان رات کے اندھیرے میں آۓ اور دیہاتیوں سے زبردستی کی، ان میں سے بعض کو ان کے گھروں میں بند کر دیا جبکہ خود انھوں ان کا سامان لوٹا۔ اے-این-اے کسی گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرتی ہے ۔ مقامی لوگ پاکستانی جنگجوؤں سے نفرت کرتے ہیں، لیکن 10 سال کی دھمکیوں کے بعد، وہ اپنے معاشرے کے لئے لڑنے سے ڈرتے ہیں۔ کیپٹن رامن، اے-این-اے کمپنی کمانڈر نے کہا کہ آپ یہاں کوئی اسکول، کوئی کلینک، کوئی بجلی، پانی نہیں دیکھتے ۔ لوگ پتھر کے زمانے کے لوگوں کی طرح رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پڑھا لکھا ہے، وہ طالبان میں شمولیت اختیارنہیں کرے گا۔" علاقے پر دوبارہ قبضے کی کلید، شنائیڈر کے مطابق، دیہاتوں کو ایک ساتھ مل کر اور ایک مقامی پولیس فورس بنا کر کھڑے ہوں۔ شنائڈر نے وضاحت کی کہ "اگر آپ کے پاس افغان مقامی پولیس چیک پوائنٹس قائم کرنے کے لئے ہو، تو یہ اے-این-اے کو اس بوجھ سے چھٹکارا دے دے گا اور وہ دشمن پر پینتریبازی اور اسے باہر نکال سکتے ہیں" ۔ حال ہی میں، ان کے بٹالین کمانڈر، لیفٹیننٹ کرنل روب سلوم نے حسن تک سفر کیا تاکہ آس پاس کے دیہات کے عمائدین سے ملا جاۓ اور اس امید کے ساتھ کہ ان سے اے-ایل-پی کے لیے معدہ لیا جاۓ، اور اس میں مجموعی طور پر ترقی ہوئی تھی—پچھلی دفعہ کی نسبت اس بار گاؤں کے زیادہ بزرگوں نے شرکت کی—کوئی بھی عہد لینے میں پہل نہیں کرنا چابتا تھا۔ شمال میں، اندار ضلع کے لوگوں جوابی لڑائی لڑ رہے تھے اور کامیاب ہو رہے تھے، شنائڈر نے بزرگوں کو یاد دلایا۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ "کم از کم ہمیں اتنا ہی بتا دیں کہ کب طالبان علاقے میں آرہے ہیں تو ہم گاؤں سے باہر دشمن کا سامنا کر سکتے ہیں" ۔ تاہم انھوں نے، جیلان ڈسٹرکٹ کے بڑے سکیورٹی منصوبے کے فریم ورک کے بغیر، جس میں مزید کئی دیہات شامل ہیں، اس کا وعدہ نہیں کیا۔ بیس کی حفاظت سے باہر ایک گروہ آدھی رات کے کچھ گھنٹوں بعد نکلا، رات کو دیکھنے کی سہولت کے ساتھ مشرق کی طرف؛ ایک بڑی فورس صبح کے تقریباً چار بجے نکلی جب عام طور پر کسان اپنے کھیتوں کی طرف جاتے ہیں۔ دونوں گروہ سپندار کے گاؤں کے باہر ملے ، جو کہ ایک مقامی طالبان کمانڈر کا گاؤں ہے ۔ سات بجے کے قریب، کمپنی ڈی کے پیراٹروپرز اور ان کے اے-این-اے کے ہم منصب بھاری گولہ باری میں مصروف تھے، دونوں جانب درجنوں راکٹ گرینیڈ سروں کے اوپر سے گزرتے ہوۓ اور دھویں اڑاتے ہوۓ۔ دشمن کی حرف ایل کی شکل میں گھات لگا کر حملے کے جواب میں، ایک جرات مند قدم کے طور پر سان ڈیاگو سے ایک اسکواڈ رہنما نے اپنی ٹیم کی قیادت ایک اونچی زمین کی طرف کی تاکہ گولہ باری کو دبانے کا قدم اٹھایا جا سکے۔ ایک 7.62 کی گولی اسٹاف سارجنٹ نیکولس فریڈسٹی کے سینے کو چھید گئی، اسے زمین پر گرا دیا۔ طبی عملے کے پرائیویٹ فرسٹ کلاس مائیکل ٹریوینو ایک کھلی زمین پر بھاک کر پہنچے، اور جبکہ دو بندوقچیوں اور ایک مشین گنر نے حملے کو روکے رکھا، ٹریوینو نے زخمی پیراٹروپر کا علاج کیا، ہر 30 سیکنڈ میں رک کر کے دشمن پر جوابی حملے میں مدد کرتے ہوۓ۔ کم اونچائی پرپوراز کرنے والے ایئر فورس بی -1 بمبار کی طرف سے طاقت کے اظہار نے دشمن کی گولہ باری میں کمی لانے میں مدد کی۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو نکالنے کے بعد، تمام اتحادی فورسز سپندار میں داخل ہوئیں عرب خان اور ان کے افغان فوجیوں کی قیادت میں۔ گاؤں کی دوسری طرف، ان پر پھر سے گولیاں داغی گئیں، اس دفعہ ایک واحد انگور کی جھونپڑی میں سے جو کہ گاؤں سے جدا تھی اور اپاچی ہیلی کاپٹر سے گولیوں کے لیۓ کافی تھی۔ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ نے اس گولیوں کے تبادلے کو ختم کر دیا بلکہ ان افغان فوجیوں کو بھی نکالا جو باقیوں سے آگے بہت دور تک نکل گۓ تھے۔ اگرچہ امریکی طبی عملے نے زخمیوں کا علاج کرنے کے لئے انھیں فوری طور پر منتقل کر دیا، امریکی اور افغان جنگجوؤں کے درمیان قریبی تعلق جلد ہی ایک لڑائی میں بدل گیا۔ بعض افغانوں نے قسم کھائی کہ وہ آئیندہ کبھی امریکیوں کے ساتھ مل کر نہیں لڑیں گے۔ افغان فرسٹ سارجنٹ نے اپنے ان جوانوں کو الگ کیا اور انھیں دور لے گيا۔ پھر بھی سکیورٹی سٹیشن سے کئی میل دور کے فاصلے پر فوجیوں کی دو قطاریں - افغان اور امریکی - کچھ فاصلے تک متوازی چلیں، لیکن قطعہ زمین، اور آخر میں، ایک تیسری اور چوتھی گولہ باری ان کو پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ لے آئی۔ وہ تعلق جو انھوں نے پچھلے تین ہفتوں سے ایک دوسرے کی حفاظت کرنے سے پیدا کیا تھا وہ بہت مضبوط تھا۔ جیسے لوہا مقناطیس کو چپکتا ہے، بندوقچی بندوقچی سے جڑ گیا، مشین گنر کے ساتھ مشین گنر، اور اکٹھے انھوں نے ترناک دریا کے پل کو محفوظ کیا اور اس پر سے گزر کر واپس آ گۓ۔ شنائیڈر نے کہا کہ یہاں جنگ میں—آڑ لینے کے لیۓ انگوروں کے باغ میں اکٹھے چھلانگ لگانا، اسی دشمن پر اکٹھے گولیاں برسانا—یہ تعلق پیدا کرتا ہے ۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی نقل کر سکے۔ انعامات اور نقصان ہر حساب سے، سٹاف سارجنٹ فریڈسٹی کمپنی کے بہترین سکواڈ لیڈروں میں سے ایک تھے اور ان کی ایسے شخص کے طور پر عزت کی جاتی ہے جس کی ترجیحات اٹوٹ ہیں۔ وہ کمپنی ڈی کا تقریبا" تین ہفتوں کی لڑائی میں پہلا نقصان تھے۔ سارجنٹ جاشوا بریسی، ان کی ماتحت ٹیم کے رہنماؤں میں سے ایک نے کہا کہ "انھوں نے دشمن کے سامنے سے قیادت کی تھی۔ وہ ایک ہیرو تھے" ۔ ان کی پلاٹون کے رہنما، فرسٹ لیفٹیننٹ میتھیو آرچولیٹا، نے کہا کہ یہ فریڈسٹی جیسے نان کمیشنڈ افسران ہیں جو امریکی فوج نے دنیا میں سب سے عظیم بناتے ہیں۔ اس درد سے دور، پلٹن نے اپنے دوست اور کامریڈ کے نقصان کو زندہ رہنے کے قابل بدلنے کا عہد کیا۔ وہ غم منائیں گے، اور پھر وہ جنگ کو دشمن تک واپس لے جائیں گے۔ شنائیڈر نے کہا کہ ڈی کمپنی کے جوانوں نے اپنے دل جے-ایس-ایس حسن پر جنگ میں ڈال دیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے افغان ہم منصبوں نے بھی ۔ رامن، جو کہ دشمن سے لڑنے میں مصروف ہے، کو کسی محفوظ علاقے میں دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ عرب خان، جو نہ صرف اپنے بلکہ اپنے ہلاک شدہ بھائیوں کے خاندانوں کو بھی پالتا ہے، اس نے انہیں مہینوں میں نہیں دیکھا ہے۔ عرب خان نے کہا کہ غزنی کا یہ حصہ خطرے اور دشمن کی جنگی صلاحیتوں کے معیار کے حساب سے وزیرستان کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے چاہے وہ اچھے جنگجو ہوں یا بُرے جنگجوؤں،" ۔ "میں اب بھی ان سے لڑنا چاہتا ہوں میں ایک جنگجو ہوں، اور میرا قیادت کرنا اور سب کے لئے ایک مثال قائم کرنا ہے، خاص کر کے جب سے امریکی میرے ملک کی مدد کرنے کے لئے یہاں آۓ ہیں۔" "ہمارے پیراٹروپر بہت محنت طلب اور مشکل حالات کے تحت ایک شاندار کام کر رہے ہیں،" سلوم نے کہا۔ "وہ آرمی کی اخلاقیات کے تحت ہر دن گزار رہے ہیں۔ یہ ان کی مثال ہے جس کے ذریعے ہم آہستہ آہستہ تبدیلیاں ہوتی دیکھ رہے ہیں جیسے جیسے پیشہ ور سپاہی کا کردار ان تمام رکاوٹوں کے ذریعے چمکتا ہے جو ترقی کو روکتی ہیں۔" شنائیڈر نے وضاحت کی کہ "یہ کام کر رہا ہے" ۔ "اب صرف اگر اے-این-اے ہمارے جانے کے بعد اس کو برقرار رکھ سکے۔"
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,166+