صفحہ اول | خبریں | خبریں | پنیٹا نے ترقی کی طرف اشارہ کیا افغانستان اور عراق میں مشکلات
پنیٹا نے ترقی کی طرف اشارہ کیا افغانستان اور عراق میں مشکلات
منجانب , American Forces Press Service

واشنگٹن (22 ستمبر، 2011) – وزیر دفاع لیون ای۔ پنیٹا نے آج کہا کہ ریاستہاۓ متحدہ امریکہ اس سال کے آخر میں امریکی فوجیوں کے عراق سے نکل جانے کے بعد اس فوجی امداد جو عراق کو چاہیے ہو گی کے بارے میں منصوبے بنانے کے سلسلے میں گفتگو کر رہے ہیں۔

 پنیٹا نے سینٹ کی مسلح سروسز کمیٹی کے سامنے حلفیہ بیان دیا جس میں انھوں نے افغانستان اور عراق کے بارے میں حکمت عملیوں، حاصل کی گئی ترقیوں اور باقی ماندہ مشکلات پر گفتگو کی۔

تمام فوجی منصوبے کے مطابق اس سال کے آخر تک ملک سے نکل جائیں گے۔  عراقی لیڈروں نے کہا ہے کہ ان کو امریکہ کے ساتھ مستقل بنیادوں پر جاری تربیتی تعلقات کی ضرورت ہے۔ آرمی جنرل لائیڈ آسٹن اور عراق میں متعین امریکہ کے سفیر جم جیفری عراقی لیڈروں سے ان کی ضروریات کا اندازہ لگانے اور اس بات کا تعین کرنے کہ وہ ان ضروریات کے لیۓ مدد بہم پہنچانے کے لیۓ کیسے مدد کر سکتے ہیں کے لیۓ گفتو شنید کر رہے ہیں۔

پنیٹا نے کہا کہ ہم مدد کی اس درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور میں یہ بات واضع کر دینا چاہتا ہوں کہ ابھی تک سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ہم عراق کے ساتھ زور و شور کے ساتھ صلاح مشورہ جاری رکھیں گے، لیکن ہم ایسا کوئی بھی فیصلہ کہ 2011 کے بعد ہماری تربیتی کی غرض سے وہاں موجودگی کس قسم کی ہوگی، کرنے سے پہلے کانگرس کے ساتھ بھی مشورہ کریں گے۔

پنیٹا دونوں ملکوں کے درمیان سیکیوریٹی کے تعلقات کو نارمل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ریاستہاۓ متحدہ امریکہ ایک خود مختار عراق اور دوسرے ملکوں کے ساتھ نارمل، بار آور اور قریبی حکمت عملی کے تعلقات چاہتا ہے—اسی طرح کے، صاف بات ہے کہ، جیسے ہمارے علاقے کے اور دنیا بھر میں دوسرے ملکوں کے ساتھ ہیں۔

عراقی لیڈروں کو ابھی بھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں، جس میں ایران کے ساتھ ملے ہوۓ شدت پسند شعیہ اور ملک میں موجود القاعدہ کی باقیات سے لڑائی شامل ہے۔

یو ایس ملٹری کی توجہ اب افغانستان کی طرف منتقل ہو گئی ہے جہاں ایک لاکھ کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغان اور اتحادی فوجوں کی محنت اور قربانیوں کی وجہ سے ہم نے ایسے حالات پیدا کر دیۓ ہیں جنہوں نے افغانوں کو 2014 کے آخر تک ملک بھر کے تحفظ کی ذمہ داری خود اٹھانے کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

طالبان باغی ملک کے بیشتر حصے اور خاص طور پر جنوب میں جنگ ہار چکے ہیں۔

پنیٹا نے کہا کہ افغان نیشنل سیکیوریٹی فورسز مظبوط تر اور مزید قابل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم نے اپنے القاعدہ کو منتشر کرنے، توڑنے اور آخر کار ہرانے کے بنیادی مشن میں اور خاص طور پر بن لادن کے خاتمے اور القاعدہ اور ان کے ساتھیوں کے لیڈروں کے خاتمے کے ضمن میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔

پنیٹا نے کہا کہ اس ترقی کی وجہ سے افغان سیکیوریٹی کی منتقلی کی شروعات ممکن ہو سکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے جولائی سے لے کر اب تک یہ ملک کے سات حصوں میں کی ہے۔ جیسے جیسے یہ منتقلی آگے بڑھتی ہے، ہم  آہستہ آہستہ اور ذمہ داری کے ساتھ وہاں سے نکلنا شروع کریں گے جو کہ منتقلی کے اس عمل اور افغانستان کے دیرپا تحفظ اور استحکام کی کامیابی کے لیۓ انتہائی ضروری ہے۔

پنیٹا نے کہا کہ اس کے باوجود، افغانستان میں ابھی بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ کہا کہ طالبان نے اب اپنی حکمت عملی ذیادہ سے ذیادہ توجہ حاصل کرنے والے حملوں پر منتقل کر دی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہمیں ان حملوں کے بارے میں پریشانی ہے کیونکہ اس سے جانی نقصان ہوتا ہے اور یہ اس طریقہ کار کو جو ہم نے اب تک قائم کیا ہے منتشر کرنے کی ترجمانی کرتا ہےاور اس کو لازما روکنا ہے اور اس کو جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مجموعی طور پر ہم طاقت کے استعمال کے نتیجے میں حکمت عملی میں اس تبدیلی کو اپنے حق میں اور باغیوں میں کمزوری کی طرف ایک اشارہ سمجھتے ہیں۔

مجموعی طور پر افغانستان میں تشدد میں کمی آئی ہے خاص طور پر قنداھار اور ہلمند صوبوں میں جہاں باغیوں کے خلاف مہم زور پر تھی۔ لیکن افغانی ابھی بھی طالبان کے نیٹ ورک کو کافی موثر سمجھتے ہیں اور اتحادی فوجوں اور افغانستان حکومت کو تحفظ کی فراہمی اور اس تاثر کو ختم کرنے کے لیۓ لازما" کام کرنا ہے۔

پنیٹا نے کہا کہ دوسری بڑی مشکل مشرق میں ہے جہاں "جغرافیہ، ثقافتی جغرافیہ اور پاکستان میں موجود مستقل پناہ گاہیں باغیوں کو وہ فائدے پہنچاتی ہیں جو کہ وہ ملک میں باقی جگہوں سے کھو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کو ان پناہ گاہوں کی اجازت نہیں جہاں سے وہ ہماری فوجوں پر حملہ کرتے اور ہمارے فوجیوں کو جانی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے اور ہمیں پاکستانیوں پر اس کے لیۓ زور ڈالنا ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیۓ اپنا کردار کریں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں انتظامیہ کا قیام تیسری بڑی مشکل ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں اس کوشش کے لیۓ ضرور مدد کرنا ہے۔

ریاستہاۓ متحدہ امریکہ اور اتحادیوں کو اپنی فوجیں اور جنگ سے لگن کو لازما" برقرار رکھنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک بھاری وزن ہے جو کہ میں ایک وزیر دفاع کی حثیت سے ہر اس وقت محسوس کرتا ہوں جب میں تعزیتی خط لکھتا ہوں۔ جب سے میں نے یہ دفتر سنبھالا ہے، میں پچھلے مہینے ڈوور گیا جہاں میں نے چنوک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں مرنے والوں لاشیں وصول کیں۔ میں آرلنگنٹن گیا اور میں بتھیسڈا بھی گیا۔

پنیٹا نے مذید کہا کہ ان خاندانوں کے ساتھ وقت گزارنے جن کا کوئی ملک کی خدمت کے دوران مر گيا یا ان کے ساتھ جو اس دوران شدید زخمی ہوۓ – خاندان کا کوئی بھی ایسا رکن نہ تھا جس نے آ کر مجھے یہ نہ کہا ہو کہ اگر مجھے ان کے پیاروں کا خیال تھا تو میں اس مشن کو جاری رکھوں گا جس کے لیۓ ان کے پیاروں نے جان دی یا جو اس کے لیۓ شدید زخمی ہوۓ۔

انھوں نے کہا یہ ان سب لوگوں کو واجب الادا ہے جنہوں نے اس کی قیمت ادا کی ہے تاکہ اس کو درست طریقے سے کرنے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیۓ محنت جاری رکھی جاۓ۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+