| امریکہ نے دو سمندری گشت کرنے والے طیارے پاکستان کے حوالے کیے |
منجانب , U.S. Embassy, Islamabad, Pakistan شئیرمتعلقہ خبریں
یہ طیارے پاکستانی بحریہ کی سمندری گشت کرنے کی صلاحیت کو بڑھائیں گے۔ تقریباً 250 امریکی اور پاکستانی عہدہ داروں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ ان میں پاکستانی بحریہ کے سربراہ، ایڈمرل نعمان بشیر امریکی کونسل جنرل اسٹیو فاکین اور امریکی فوج کے بریگیڈیر جنرل مائیکل نگاٹا بھی شامل ہیں۔
نگاٹا نے کہا کہ ان طیاروں کی پاکستان کو حوالگی امریکی حکومت کے پاکستان کے ساتھ طویل المدت حکمت عملی کی شراکت داری کے عزم کی مظہر ہے اور یہ ایک ایسی شراکت داری ہے جو دونوں کے مفاد اور باہمی احترام پر مبنی ہے اور آئندہ سالوں میں بڑھتی اور گہری ہوتی جائیگی۔
یہ طیارے 30 اپریل کو جیکسن ول فلوریڈا میں ایک تقریب کے دوران پاکستانی بحریہ کو منتقل کیۓ گۓ اور ان کو امریکی اور پاکستانی بحریہ کے ہوابار اُڑا کر پاکستان لے گۓ۔ 2012 تک پاکستانی بحریہ کو کل آٹھ پی-3 سی طیارے ملیں گے۔ گذشتہ تین سالوں کے دوران، امریکی شہری اور سکیورٹی امداد 4 ارب ڈالر سے زیادہ رہی ہے۔ اس تعاون میں طبی امداد، اسکولوں کی آرائش، پلوں اور سڑکوں کی دوبارہ تعمیر، خوراک کی تقسیم، زراعت اور تعلیم کے منصوبے شامل تھے۔
سکیورٹی کے لیۓ خصوصی تعاون میں پاکستان سکیورٹی فورسز کے لیۓ 14 ایف-16 لڑاکا طیارے، 10 ایم آئی- 17 اور دو بیل 412 ای پی ہیلی کاپٹر، پانچ تیز رفتار گشتی کشتیاں، 115 ہاوٹزر ہلکی خودکار توپیں، پاکستانی فرنٹیئر کور کے لیۓ 450 سے زیادہ گاڑیاں، رات کو دیکھنے والے سینکڑوں آلات، دن/ رات میں دیکھنے والی دوربینیں، ریڈیو، اور ہزاروں کی تعداد میں حفاظتی لباس، اور طبی امداد کے لیے بھی تھوڑا سامان شامل ہے۔
امریکہ پاکستانی فوج کے 370 سے زیادہ فوجی افسران کو قیادت اورتعمیر و ترقی کے بہت سے پروگراموں کی تربیت بھی دیتا ہے جس میں انسداد دہشت گردی، خفیہ خبر رسانی، لاجسٹکس، طب، فلائٹ سیفٹی، اور فوجی قانون جیسے موضوعات شامل ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























