| پاکستان بحریہ نے دو P-3C اورین طیارے قبول کیے |
منجانب , NAS Jacksonville شئیرمتعلقہ خبریں
امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی بحریہ کے لئے اولین اصلاح شدہ P-3C طیارے وصول کرنے کی اس خوش وضع تقریب میں حصہ لینا میرے لئے واقعی مسرت کا باعث ہے۔ اس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان حکمتِ عملی سے متعلق شراکت میں وسعت کی نمائندگی ہوتی ہے اور یہ سمندری راستوں کی زیادہ مؤثر نگرانی کرنے اور بحیرۂ عرب میں بحری آمدورفت میں سہولت پیدا کرنے میں ہماری مدد کرکے ہمارے ملک کی بحری سلامتی کے ایک اہم خلا کو پُر کرے گا۔
اس پروگرام کے حصے کے طور پر 2012 تک پاکستان کو کل آٹھ P-3C طیارے ملیں گے۔ تمام آٹھ طیاروں کو فضائی دیکھ بھال اور تجدید نو گروپ (AMARG) سے حاصل کیا گیا تھا اور انہیں جدید مشن کے نظاموں اور ہوابازی کےمتعلق اطلاقی برقیریات (ایوی آنیکس) کے ساتھ بہتر بنایا جا رہا ہے جو پاکستان کو ساحلی خطوں اور گہرے پانی کے ماحول میں سمندری گشت انجام دینے کی صلاحیت مہیا کرے گا۔
حقانی نے کہا کہ پاکستانی بحریہ میں P-3C طیاروں کی شمولیت سے یقینی ہو جائے گا کہ دہشت گرد قزاق اور منشیات کے سوداگر ہماری بحری حدود میں دراندازی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر رہیں گے۔
ریاست کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے منصوبہ جات پروگرام و آپریشنز محکمۂ امور سیاسی و عسکری، بریگیڈئر جنرل تھامس مسیلو نے تقریب میں اعلیٰ امریکی اہلکار کے طور پر شرکت کی اور عسکری صنعتی اور شہری قائدین پر مشتمل حاضرین سے خطاب کیا۔
مسیلو نے کہا کہ ''ہمیں یاد رکھنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی دوستی غیر متوازن نہیں ہے۔ پاکستان ایک بڑا غیر نیٹو اتحادی ہے جس نے 11 ستمبر، 2001 کو القاعدہ کے حملے کے بعد امریکہ کی پُر زور حمایت کی ہے۔ اب تقریباً نو سال کے بعد پاکستان انتہا پسندوں کو روکنے اور آپریشن آزادیٔ عراق اور آپریشن دیرپا آزادی کی حمایت میں مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے کثیر الملکی اتحاد کے بحری سلامتی کے آپریشنز میں اس کی قیادت کر رہاہے۔
پاکستان کا استحکام اور ترقی ہر جگہ لوگوں کے بہترین مفاد میں ہے۔ ہمارے ملکوں کے مستقبل آپس میں جڑے ہوئے ہیں – چنانچہ اب ان کی جد وجہد پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہماری جد و جہد ہے۔''
امریکہ ایک جمہوری پاکستان کے ساتھ ایک مستحکم دیرپا حکمت عملی سے متعلق شراکت کا پورا پابند ہے- ایک ایسی شراکت جو مشترکہ دلچسپیوں اور باہمی احترام پر مبنی ہے اور جس میں آئندہ سالوں کے دوران اضافہ اور ترقی جاری رہے۔ امریکہ اور پاکستان ایک مستحکم اور محفوظ جنوبی ایشیائی علاقے کا ایک مشترکہ ہدف رکھتے ہیں۔
پاکستانی بحریہ متحدہ بحری افواج کے آپریشنز کے ایک انتہائی اہم شریک ملک کی بحریہ ہے اور امریکی مرکزی کمان کی ذمہ داری کے علاقے میں تعاون کی تدابیر کی پوری طرح حمایت کرتا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























