| قندھارمیں کاروائیاں پیچیدہ ہونے کی وجہ سے احتیاط کی ضرورت ہے |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
ایک سینیئر نیٹو فوجی عہدہدار نے اس معاملے کے پس منظرکے بارے میں بتاتے ہوۓ کہا کہ افغانی لوگ طالبان کو تو نکالنا چاہتے ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ اِن کی حکومت سے اور اتحادی فورسز سے بھی چند خواہشات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "وہ بدعنوان حکومت کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ مقامی حکومت میں ایسے عہدیداروں کو جو کہ خاص متاثرکن کام نہ کررہے ہوں پسند نہیں کرتے اور وہ اُن [بین الاقوامی فورسز ] کوبھی پسند نہیں کرتے جو یا تو اِن کی جائیداد تباہ کرتی ہیں یا اِن کے لوگوں کو ہلاک کر دیتی ہیں۔"
تین سینیئرفوجی عہدیداروں نے مشترکہ افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مولن کے ساتھ سفر کرنے والے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایڈمرل مولن یہاں پر اس تنازعے کو ایک دفعہ پھر خود سے دیکھنے آۓ ہیں اور جلد ہی افغانستان کے اندرعراق کی فوجوں سے زیادہ فوجیں موجود ہوں گی۔
اتحادی اور افغان سکیورٹی فورسز شہر اور صوبہ قندھار میں اِسی طرح کی کاروائیوں شروع کرنے کے لۓ صوبہ ہلمند کی کامیاب کاروائیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ قندھار افغانستان کا دوسرا بڑا شہر اور طالبان کا روحانی مرکز ہے۔
ایک عہدیدار نے دشمن کے بارے میں بتاتے ہوۓ کہا کہ تقریباً تین چوتھائی طالبان جنگجو اپنی پیدائش کی جگہ پر یا اِس کے آس پاس میں ہی لڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بہت کم لوگ علاقے سے باہر لڑنے کے لیے جاتے ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ "یہ مسئلہ دراصل اب مقامی مسئلہ بن چُکا ہے" اور یہ مسئلہ قبیلوں اور خاندانوں کی وجہ سے اور مزید بِگڑ چُکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل اِس کی فوج اور حکومت کی صلاحیت میں فقدان کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ "سب سے بڑی دقت اس حکومت کو مسائل سے نمٹنےکی صلاحیت میں فقدان کی وجہ سے درپیش آ رہی ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی دشواری ہے۔ آخر کار افغان عوام ہی یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ آیا ان کی حکومت میں مناسب صلاحیت موجود ہیں اوراُن کے فہم کے مطابق ہم فی الوقت اِس پرکام کر رہے ہیں۔"
عسکریت پسندوں کے خلاف کی حکمت عملی آبادی کو تحظ فراہم کرنے پرزیادہ زور دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ " ہم محض گولیاں چلا کراس [صورت حال] سے نہیں نکل سکتے۔ اگر اتحادی دو طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اُنہوں نے دس مزید باغی پیدا کر رکھے ہوں کیونکہ انتقال ہونے والوں میں سے کسی کا بھائی یا باپ یا خاندان کا کوئی دوسرا شخص شامل ہوتے ہیں جو کہ انتقام لینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "وہاں پرہماری حکمت عملی کی ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اتحادی افغانیوں کوبس ایک ہی حد تک پہنچا سکتے ہیں مگر بعد کے کسی ایک مقام پران کواپنی حکومت خود سنبھالنی پڑے گی۔ تو پھر ہماری شرط یہ رہی کہ اگر ہم مناسب ماحول پیدا کریں، انکا ساتھ دیں، اگر ہم ہمارے اور ان کے درمیان ایک پل بنا دیں اور اگرہم موقعے فراہم کریں توآیا وہ اپنی ذمہ داری خود سنبھالنے کو تیارہوں گے۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ مل کر کام کرنے میں ہی کامیابی کی کُنجی پائی جاتی ہے اور جب اتحادی فورسز افغان فوجی یونٹس اور افغان پولیس میدان میں کاروائیاں کرتے ہیں تو وہ مِل کر کام کرتے ہیں ۔ افغان قومی سول پولیس نے مرجا میں میرینز کے ساتھ مل کر کاروائیوں میں حصّہ لیا اور اِن کاروائیوں کے بہترین نتائج نکلے۔
عہدیداروں کو معلوم ہے کہ ملک میں[امریکی فوج میں] اضافے کے باوجود امن قائم کرنے کے لیے اتنے دستے موجود نہیں اورنہ ہی اتنے [فوجی] یونٹس ہیں کہ ہر افغانستان یونٹ کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔ خیال یہ ہے کہ اہم علاقوں میں بغاوت سے "ہوا چھین لی جاۓ" اور حکومت کی کامیابی کے لۓ مناسب حالات پیدا کیۓ جائیں۔
عہدیدار نے کہا کہ مرجا میں کاروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں مگر یہ دُرست سمت کا رُخ کر رہی ہیں۔ بازار کھل گیے ہیں اور لوگ واپس آ رہے ہیں اورطالبان کی مُشکلات کی علامتیں نظرآ رہی ہیں۔ درحقیقت تھوڑی تعداد میں طالبان واپس آنا شروع ہو گۓ ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ اُنہوں نے اتحادی مرجا میں طالبان نے باہمی رابطےکا زور دیکھ لیا ہے اور وہ مایوس ہو چکے ہیں۔"
عہددار نے یہ بھی کہا کہ قندھار میں کاروائیوں کی تشکیل کا عمل پہلے ہی سے شروع ہو چکا ہے اور افغان عہدیدار افغان صدرحامد کرزئی کو اس ہونے والی کاروائی کے بارے میں آگاہ رکھ رہے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ "انہی کو اس جنگ کی قیادت کرنی ہےاور جب وہ محل سے باہر لائے جاتے ہیں تو ان کا قبائلی بزرگوں پراور دوسروں پر اثر بہت مفید ثابت ہوگا۔"
انہوں نے کہا کہ حکمت عملی کا ایک حصّہ یہ بھی ہے کہ "جرگے کے ذریعے اِنہیں کامیابی تک پہنچایا جاۓ۔" افغان حکومت کے عہدیداروں کے لیۓ ضروری ہے کہ وہ پورے قندھار اوراس کے قریبی علاقوں میں گروہوں کے ساتھ اور جرگے برادری کے با اثر رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں منعقد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ انہوں نے ہلمند میں کیا تھا یہاں پر بھی کاروائی کا مطالبہ لوگوں کی طرف سے آنا چاہیۓ۔
عہدیدار نے کہا کہ "ہمارے لیۓ حالات کا ایسا ہونا ضروری ہے کہ وہ ہمیں خود آنے کی دعوت دیں۔"
ہلمند میں کامیابی نے افغانیوں کے حوصلے بلند کیۓ ہیں اور عہدیدارں کو امید ہے کہ یہ کامیابی قندھار تک بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ "ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم رمضان سے پہلے فارغ ہو جائیں۔ جب اِس سال رمضان شروع ہو تو [اگست کے دوران] ہمیں "قبضے کی برقراری اور تعمیر کرنے" کے مرحلے میں ہونا چاہیۓ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























