صفحہ اول | خبریں | خبریں | کاروائی سٹیل کی بارش نے خوست میں حقانی نیٹ ورک کو پیچھے کی طرف دکھیل دیا
کاروائی سٹیل کی بارش نے خوست میں حقانی نیٹ ورک کو پیچھے کی طرف دکھیل دیا
منجانب Sgt. Tobey White, Task Force Duke Public Affairs

صوبہ خوست، افغانستان [4 اکتوبر، 2011] – افغانستان اور امریکی  فوجیوں نے 29 ستمبر کو صوبہ خوست کی تحصیل ترزۓ میں متحرک حقانی کاروائی سٹیل کی بارش کے لیۓ مل کر کام کیا۔

حقانی نیٹ ورک ایک جرائم  پیشہ تنظیم ہے جس کے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادیں قریبی پاک-افغان سرحد کے پار ہیں۔

اس کاروائی میں ملوث یونٹوں میں صبری ڈسٹرکٹ کی تیسری کندھک، پہلی بی ای ڈی، 203 کور، افغان قومی فوج، تیسری کوۓ، ترزۓ کی دوسری افغان سرحدی پولیس کور اور پہلی بٹالین، 26 پیادہ رجمنٹ، تیسری بریگیڈ لڑاکا ٹیم، پہلی پیادہ ڈویژن، ٹاسک فورس ڈیوک کی کمپنیاں شامل تھیں۔

مشن کے دوران، فوجوں کو بہت کم عرصے کے دوران بہت وسیع علاقے کا احاطہ کرنا تھا، امریکی فوجی کیپٹن ڈینیل لیارڈ جو کہ ایبل کمپنی، پہلی بٹالین، 26 پیادہ رجمٹ کمپنی کمانڈر ہیں اور پٹس برگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین مختلف فوجوں، ا مریکی، افغان قومی فوج اور اے بی پی کے درمیان تعاون نے مشترکہ فورسز کو اپنے وقت کو بہترین انداز میں استعمال کرنے کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کا موقع دیا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی دن، دو کمپنیوں کے درمیان، چار سے آٹھ کے درمیان جگہوں کی تلاشی لینی تھی۔۔

اس کاروائی کے بہت سے متحرک حصے بھی تھے کیونکہ اتحادی فوجوں کو گاؤں کو باغیوں، خود ساختہ دھماکہ خیز آلات میں استعمال سامان اور غیر قانونی ہتھیاروں سے صاف کرنا تھا۔ امریکی فوج کے سٹاف سارجنٹ آسکر لورینزانو نے کہا جو کہ دوسری پلاٹون، ایبل کمپنی، پہلی بٹالین، 26 پیادہ رجمنٹ کے پلاٹون سارجنٹ ہیں۔

لیارڈ نے کہا کہ ہم باہر نکلے اور برے لوگوں کو احساس دلایا کہ ہم وہاں موجود تھے۔ لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے بتایا کہ بہت سے لوگوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہمیں دوبارہ آنے کو کہا۔ علاقے میں ہتھیاروں کی تلاش کے علاوہ اس مشن کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ باغیوں کو سرحدی راستے سے افغانستان میں روکا جاۓ اوران کے ذخیروں کو صاف کیا جاۓ۔

امریکی فوجی لیفٹننٹ کرنل جیس پئیرسن، پہلی بٹالین، 26 پیادہ رجمنٹ کمانڈر اور شکاگو سے تعلق رکھنے والوں نے کہا کہ ترزۓ میں سرحدی پار سے بہت سی کاروائیاں ہوتی ہیں، صرف باغی ہی نہیں بہت سے لوگ سرحد پار سے آتے ہیں۔

شہریوں کے جانی نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیۓ، پئیرسن نے مقامی لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق کے ذریعے کام کرنے پر زور دیا۔

پیئیرسن نے مزید کہا کہ ہمارے لیۓ یہ اہم ہے کہ ہم وہاں جا کر گاؤں کے بڑے بزرگوں اور قائدین کے ساتھ وقت گزاریں تاکہ ہم گاؤں کی اندرونی حرکیات کو سمجھنے کو یقینی بنا سکیں اور یہ جان سکیں کہ باغی علاقے میں کہاں کہاں پناہ حاصل کر رہے ہیں۔

لورنزانو نے کہا کہ علاقوں کے دور دراز ہونے اور جغرافیائی طور پر پہاڑی ہونے کی وجہ سے بہت سے گاؤں والوں نے امریکہ یا افغان قومی سیکیوریٹی فورسز کی علاقے میں موجودگی عرصے سے نہیں دیکھی تھی۔ مقامی لوگوں پر فوج کی موجودگی کو آسان بنانے کے لیۓ، اے این ایس ایف کے فوجیوں نے بہت سی شوری' یا سمیجی مجالس کی قیادت کی، جن کا مقصد ان لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ ان کی حکومت وہاں ان کے لیۓ موجود تھی اور ان کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

ای این ایس ایف کی قیادت میں شوری' کے علاوہ تحصیل ترزۓ کی نائب گورنر امیر بادشاہ نے لندار اور کدام کے گاؤں کی شوری کی قیادت کرتے ہوۓ ان لوگوں کے مسائل اور پریشانیوں کو سنا۔

پئیرسن نے کہا کہ یہ کام کے بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیۓ حکومت اور لوگوں کو جوڑنے کا انوکھا موقع تھا۔

تاہم، یہ ترقی صرف لوگوں اور حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون تک ہی محدود نہیں تھی۔

کاروائی سٹیل کی بارش کا ایک فائدہ افغان فورسز کا لڑائی میں شامل ہونا اور ان کو قیادت کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اے این ایس ایف  کی فورسز نے گھروں کی تلاشی اور صفائی کے دوران قیادت شوق سے سنبھالی، جبکہ امریکی فورسز نے سیکیوریٹی کا کردار سنبھالا اور جب ضروری ہوا ان کی رہنمائی کی۔

لورینزانو نے کہا کہ اس مشن نے ان کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بخشا اور افغانیوں کو یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ اے این ایس ایف انچارج تھی۔

لیارڈ نے کہا کہ ہم نے اے این اے اور اے بی پی کی طرف سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ دیکھا۔ انھوں نے حقیقتا" ذیادہ تر کام کیا۔


امریکی فوج پی ایف سی۔ ویڈ جیمز جو کہ دوسری پلاٹون، ایبل کمپنی میں رائفل مین ہیں اور ہیمپسٹیڈ شمالی کیرولائینا سے تعلق رکھتے ہیں نے کہا کہ انھوں نے ان دو یونٹوں جو کہ دس ماہ پہلے ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے کے مقابلے میں  اے این ایس ایف کی موجودہ صلاحیتوں میں اہم تبدیلی دیکھی ہے۔

جیمز نے کہا کہ جب ان کی کمپنی نے افغان فوجیوں کے ساتھ شراکت شروع کی تھی تو اے این اے کے فوجی گھروں کی تلاشی میں تفصیل سے کام نہیں لیتے تھے۔ تاہم، سٹیل رین کے دوران اے این ایس ایف کے فوجیوں نے اپنی مکمل تفصیل سے کام لینے کی صلاحیتوں اور اہم ترقی کا مظاہرہ کیا۔

جیمز نے کہا کہ انھوں نے بہت اچھا کام کیا۔ میں نے وہاں صرف ان باتوں کی اشارہ کیا جہاں پر احتیاط برتنے کی ضرورت تھی۔

اس تعاون کی بنیاد پر جو انھوں نے افغان اور اتحادی فوجوں کے درمیان کاروائی کے دوران دیکھا، پیئرسن اس نمایاں ترقی سے جو کہ حالیہ مہینوں میں حاصل کی گئی تھی بہت خوش تھے۔ مزید مستحکم افغان حکومت اور وہ جو اپنے لوگوں کی ضروریات سے واقف ہو کے اہم مقصد کے ساتھ، اس آپریشن نے مستقبل کے اہم سبق مہیا کیے۔

پیئرسن نے کہا کہ ہماری اے این ایس ایف کی فورسز کے ساتھ قریبی شراکت نے ان کے درمیان اس مثالی اور اخلاقی احساس کہ ہم ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، دشمن سے لڑ رہے ہیں، ان کو مظبوط تر بنا رہے ہیں اور انھیں کامیابی کے لیۓ اثاثے اور وسائل مہیا کر رہے ہیں کو مظبوط تر کر دیا ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,171+