| آپریشن شاہین طوفان: ہلمند بارڈر تک افغان بارڈر پولیس اور امریکی مرینز کی پہنچ میں توسیع |
منجانب Cpl. Reece Lodder, Regimental Combat Team 5 شئیرمتعلقہ خبریں
امریکی مرین، لانس کارپورل ریان سنایڈر، کاپولیک ہوائی سے ایک 21 سالہ ٹیم لیڈر، اور ڈیوڈ لیمبرٹ، جو کہ گرینبری، ٹیکساس سے 21 سالہ مارٹر مین ہیں، 81ایم- ایم مارٹر پلاٹون کو تفویض ویپنز کمپنی، تھرڈ بٹالین، تھرڈ میرین رجمنٹ، 11 فروری کو آپس میں بات کرتے ہوۓ، اپنی دفاعی پوزیشن سے سیکورٹی فراہم کرتےہوۓ جب آپریشن شاہیم طوفان کے دوران سورج ڈوب رہا ہے۔ (فوٹو منجانب کارپورل لوڈر)
ضلع گرمسر، صوبہ ہلمند، افغانستان (16 فروری، 2012) - نیچی پرواز کے ہیلی کاپٹروں کے پروں کی آواز ایک لامتناہی صحرا کی زمین سے ٹکرا کر گونجتی ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کے اندر، افغان بارڈر پولیس اور امریکی میرینز کی قطار سکون کے ساتھ اس کے آدھے کھلے ہوئے دروازے کے زریعے نیچے تیزی سے گزرتے ہوۓ جنگل کو دیکھتے ہیں۔ آسمان کی طرف بڑھتے دھندلے بھورے بادل، ہیلی کاپٹروں کو دھول میں اترتے وقت چھپاتے ہیں۔اس میں سے مبہم اشکال نکلیں سیکورٹی کے حلقے میں تیزی سے دوڑ کر داخل ہو گے اور ہیلی کاپٹر کے پر دور ہوتے گۓ۔ چند لمحات کے اندر اندر، انھوں نے ہیڈکوارٹر کے ساتھ مواصلات قائم کر لیا جو کہ اب بہت دور ہو گیا ہے۔ اس ڈرامائی آمد کے بارے میں کسی بھی قسم خیالات فوری طور پر ختم ہو گۓ جب شراکت دار فورس کے ارکان نے بڑے پیک اٹھاۓ اور اپنی اگلی پوزیشن کی طرف جانا شروع ہو گۓ۔ ایک بہت سخت اور لمبے عرصے کے پیدل سفر نے ان کو ایک کم گہرے پیالے نما جگہ پر پہنچا دیا جو ریت کی بنی تھی اور ان کی آپریشن شاہین طوفان کے دوران 10-13 فروری تک کی بیس تھی۔ بنجر ریگستان صحرا ایک سابقہ فارورڈ آپریٹنگ بیس راہینو کے نزدیک ہے جو آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کے دوران افغانستان میں قائم کردہ سب سے پہلی امریکی بیس تھی - اے بی پی اور ویپنز کمپنی کے مرینز جو کہ، تھرڈ بٹالین، تھرڈ مرین رجیمنٹ کے ساتھ ہیں، نے دھول سے مانجھی ہوئی ہائی ویز کو ان اسمگلروں اور باغیوں سے محفوظ بنا دیا جو کہ کے مشرقی صحرا سے گزر کر ہلمند صوبے میں آتے ہیں۔ اے-بی-پی کا مشن گرمسر میں ان کے موجودہ کام سے ہٹ کر ہے جہاں وہ ضلع کے جنوبی آبادی کے مراکز پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ اتحادی رہنمائی کے تحت، وہ ہلمند کی سرحد کے پار باغیوں کی سرگرمیو کو روکنے کی اپنی بنیادی صلاحیت کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔ کیپٹن رابرٹ مرے نے کہا کہ یہ مشن افغان قومی سلامتی فورسز کے لیۓ سب سے مشکل ترین مشن ہے۔ 3 ریٹک، شمالی کیرولائینا کے مقیم اور3 /3 کی مدد کرنے والے بارڈر مشیر ٹیم 2 کے انچارج افسر مورے نے کہا کہ اے- بی- پی صحرا کا ہراول دستہ ہے ... وہ وہاں جاتے ہیں جہاں کوئی بھی افغان یا اتحادی افواج اس سے پہلے نہیں گئے ہیں ۔ وہ اپنے شہر کے مرکز کی بیرونی اطراف میں توسیع کے ساتھ ساتھ صوبہ ہلمند کے ان چھوٹے حصوں کی حفاظت کے لئے ایک ہر دم تیار افغان قوت بن رہے ہیں۔ جیسے ہی دو ہیلیبورن عناصر صحرا میں جنوب مشرق کی طرف اڑ گئے، ایک بکتر بند قافلہ رات کے اندھیرے کی آڑ میں مشرقی گرمسر میں داخل ہو گیا۔ جب آپریشن کے پہلے دن سورج نکلا، شراکت فورسز نے تین متوازی مقاصد کو پورا کیا۔ اپنی دفاعی پوزیشنوں پر، اے- بی- پی نے مرینز کی مثالوں پر عمل کیا، خود کو صحرا کی ہواؤں کی ٹھنڈ اور مسلسل ریت کے طوفان سے بچانے کے لئے مورچوں کی کھدائی کی۔ موسم بہار کی آمد سے قبل کے موسم سرما کے آخری حملے سے نمٹتے ہوۓ، انھوں نے اپنی دفاعی پوزیشنوں پر گشت اور سیکورٹی پوسٹنگ کیں، کڑی مشق سے صرف ایک لمحے کا وقفہ لیتے ہوۓ آرام کیا۔ دن کے اجالے اور رات میں دونوں مشترکہ ٹیم مجرموں کی تلاش میں باہر نکلیں۔ مرینز نے انجان علاقے میں زندگی کی ایک روش قائم کرنے کے لئے کام کیا، مردم شماری کی معلومات اور مسافروں کے بارے میں بائیو میٹرکس کا اندراج کیا۔ تمام قطعوں پر چلنے والی گاڑیوں میں بیٹھے، اے- بی- پی کے ہم منصبوں نے دور سے ٹریفک کو دیکھا اور تیز ی سے جا کر وہا٘ں پیدل گزرنے والوں سے سوال کرنے کے لئے انھیں روکا۔ کیپٹن جیسن ارماس، ویپنز کمپنی، 3/3 کے کمانڈنگ افسر نے کہا کہ اے-بی- پی کے مشن کے دوران بہتر سے بھی بہتر کام کرنے کی خواہش اہل فوجیوں کے کردار میں ترقی کا ثبوت تھا۔ آرامس، جو کہ رائی نیو یارک کے ایک مقامی ہیں نے کہا کہ دو سال پہلے، وہ ایک مشکل ماحول میں اس طرح کے مستقل آپریشن کرنے کے قابل نہیں تھے ۔ اب وہ ہمارے دیئے ہوئے خیالات کو اپنا رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ باہر جانے کے لیئے تیار ہیں ... اب انھیں مرینز کے ساتھ جڑے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صحرا میں آنے سے بہت پہلے، اے- بی- پی نے منصوبہ بندی کے مرحلے میں فعال طور پر حصہ لیا۔ لیفٹیننٹ محمد ظریف ، جو کہ چوتھی طولائی، سیکینڈ کندھک ہلمند اے بی پی کے کمانڈر ہیں، نے کہا کہ مرینز ہمیشہ یہاں نہیں ہوں گے، تو ہم سیکھنے اور اپنے طور پر کارروائیوں کو منظم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم ان کو دکھانا چاہتے تھے کہ اے -بی- پی اپنے ملک کے لئے سیکورٹی فراہم کرنے کے مشکلات کو سنبھال سکتی تھی۔ مرے نے کہا کہ اے- بی- پی اپنی اعلٰٰی کمانڈ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے رسد کی مدد کے لئے مرینز پر مکمل طور پر انحصار کرنے کے بجاۓ، خود آپریشن کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے ان کے ایندھن، خوراک، پانی، اور سرد موسم کا سامان کی نقل و حمل کی ذاتی فراہمی کو "رسد کی فتح " قرار دیا۔ اگرچہ آپریشن نے غیر قانونی سرگرمی کی شکل میں کچھ ٹھوس نتائج فراہم کیۓ، آرامس نے کہا کہ یہ عمل مشن کی اہم کامیابی تھی۔ گرمسر میں قریب آتی سیکورٹی کی قیادت کو افغانوں کے حوالے کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آپریشن کی ہم آہنگی، نقل و حمل، اس کو لاگو کرنا اور اس کا نتیجہ بہت اہم تھے۔ آرمس نے کہا کہ آپریشن کی منصوبہ بندی ایک ساتھ مل کرکرنے سے اے- بی- پی کو اپنی سرحدوں کی طرف کام کرنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، جہاں انہوں نے مرینز کی نگرانی میں ایک چھوٹی، لائٹرہلکی، اور تیز قوت کے طور پر اپنے نقل و حرکت کے اثاثوں کا استعمال کیا ہیں۔ 30 سال کے مستقل تنازعات کی وجہ سے، ظریف نے کہا کہ افغانستان کے لوگ جنگ سے تھکے ہوئے ہیں اور امن سے رہنے کے شوقین ہیں۔ ان کی مسکراہٹ بڑھ گئی اور وہ فخر سے کھل اٹھا جب انھوں نے خود کو افغان فورسز کا ایک حصہ ہونے کے طور پراعلان کیا۔ ظریف نے کہا کہ ہم افغانستان کو محفوظ اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے ملک میں آزادی سے گھومنا چاہتے ہیں بغیر کسی دشمن کے حملے کا فکر کیئے ہوئے۔ ہم نے مرینز کے ساتھ کام کر کے تجربہ حاصل کیا ہے اور ہم اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ امن کا راستہ ہماری سرحدوں کے ساتھ ساتھ سلامتی کو برقرار رکھنے میں ہے۔ ایڈیٹر کا نوٹ: تھرڈ بٹالین، تھرڈ مرین رجیمنٹ، ا س وقت رجیمینٹل کامبیٹ 5 کی ٹیم کے ساتھ متعین ہے، سیکینڈ مرین ڈویژن (فارورڈ)، ٹاسک فورس لیتھرنیک کی قیادت کر رہی ہے۔ ٹاسک فورس علاقائی کمان کے زمینی کامبیٹ ایلیمنٹ (جنوب مغرب) کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے اور افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اور انسداد بغاوت کی کاروائیاں کرنے کے لئے افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ یونٹ افغان عوام کی حفاظت، باغی افواج کو شکست دینے، اورآے-این- ایس- ایف کو اپنے آپریشنز کے علاقے کے اندر سیکورٹی کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیۓ استحکام، ترقی، اور جائز گورننس کی توسیع میں مدد کرنے کے لیے وقف ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















