| آپریشن ایلومینیم پائیتھان کا باغیوں پر دباؤ |
منجانب U.S. Navy Petty Officer 1st Class Bill Steele, Combined Joint Task Force 1 شئیرمتعلقہ خبریں
فرسٹ پلاٹون، کمپنی اے، فرسٹ بٹالین، 179ویں انفنٹری، 45ویں انفینٹری بریگیڈ کی کامبیٹ ٹیم کے فوجی، افغان نیشنل آرمی، اور معاشرے پرمبنی سلامتی کے مسائل کا حل دھونڈنے کی پولیس تنظیم کے ارکان، 29 جنوری کو پاٹا تلی کے ایک گاؤں میں ایک دشوار گزار راستے پر چڑھتے ہوۓ۔ (یو ایس نیوی فوٹو منجانب ایم سی آئی بل سٹیل)
صوبہ لغمان، افغانستان (6 فروری، 2012) – دشمن حملہ آور پہاڑوں کے اندھیرے میں خاموشی سے آیا، سانپ کی طرح، جیسا کہ اس نے امریکی اور افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کا پیچھا کیا ہوا تھا اور حملہ کرنے کے موقع کے انتظار میں تھا۔ اس کا شکار: مشن میں مصروف ایک پلاٹون جس کا نام ایلومینیم پائیتھان ہے، تین روزہ آپریشن جس کا مقصد میل وادی سے باغیوں کو صاف کرنا ہے، ضلع علی شینگ کی پہاڑیوں میں واقع خشخاش کی پیداوار کا ایک مرکز ہے۔ پلاٹون کا ہدف: دو طالبان کارکنوں کو قتل یا پکرنا ہے جن کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہ پاٹا تلی میں روپوش ہیں، یہ وہ گاؤں ہے جس کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہاں طالبان کے لئے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اکثرفوجیوں کا تعلق اوکلاہوما نیشنل گارڈ کمپنی اے، فرسٹ بٹالین، 179ویں انفینٹری، 45ویں انفینٹری بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کی فوکس ٹارگٹنگ فورس سے تھا۔ 28 جنوری کو حملہ آور ان فوجیوں کا پیچھا کر رہا تھا جب وہ آدھی رات کے قریب گاؤں سے چند کلو میٹر دور مشرق میں ہیلی کاپٹر سے ایک برفانی مرتفع پر اترے ۔ حملہ آور گرینیڈ اور سپریسر کے ساتھ سیمی- آٹومیٹک 22 کیلبر کی رائفل سے مسلح تھا۔ یہ رائفل اپنی خاموشی اور خفیہ پن کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ تقریباً صبح کے 2:30 بجے، جب اسالٹ پلاٹون شمال مغربی میں گاؤں کی طرف بڑھی، ان کو یہ اطلاع ملی کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ امریکی فوج کے فرسٹ لیفٹیننٹ کریگ مک کولاہ، جو کہ کے فرسٹ پلاٹون، کمپنی اے، 45ویں آئی-بی-سی-ٹی کی ایف-ٹی-ایف، اور ٹوپیکا، کینسس کے مقیم ہیں، انہوں نے جلدی سے چار امریکیوں اور پانچ اے-این-اے افواج کو باقی ٹیم سے الگ کرکے اس باغی کو ڈھونڈ نکالنے کو بھیجا اور باقییوں نے اکھٹے ہو کر سیکورٹی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، مک کولاہ کی ٹیم نے اس آدمی کو ڈھونڈ نکالا جو پاس ہی گھوم رہا تھا۔ اونچی سطح تک پہنچنے کے لئے وہ ایک تنگ گھاٹی سے گرزے اوراپنی رات میں دیکھنے کے چشموں سے اس کا سایہ دیکھا جو کہ تقریباً 150 میٹر دور تھا۔ جوش اور بڑھ گیا جب اے-این-اے کے سیکینڈ لیفٹیننٹ ننگیالی، جو کہ ریکونیسانس کمپنی کے کمانڈر، چوتھی کندھک، سے ہیں اور ان کے فوجی اہستہ سے ہدف کے قریب پہنچ گۓ۔ جب وہ اتنے قریب پہنچ گۓ کہ وہ ان کو سن سکیں تو ننگیالی نے تین دفعہ اس کو ہتھیار ڈالنے کا انتباہ کیا۔ اس نے ان کو نظر انداز کر دیا۔ جب اس پیچھا کرنے والے نے فرار کرنے کی کوشش کی تو اس کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مک کلاہ نے کہا کہ ہم نے اس کوطحکمت عملی کے طور پر آواز دی مگر وہ اس کے لیۓ تیار نہیں ہوا ۔ لڑائی کے بعد کی ایک سرسری تحقیق نے حملہ آور کے اصل ارادے کا انکشاف کیا۔ اس کے ہتھیار پر اس کے شدت پسند عقائد کی شناخت کے نشان تھے۔ ننگیالی نے کہا کہ وہ اے-این-اے کی واچ لسٹ پر موجود طالبان کا بندا تھا۔ وہ ہمیں بہت نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اس گھات لگانے والے سے پیچھا چھڑانے کے بعد پلاٹون دوبارہ اکٹھی ہوئی اور اپنے مشن کو جاری رکھا۔ اب بھی اندھیرے کی آڑ میں، وہ اپنے ہائی ویلیو اہداف کو گرفتار کرنے کے لیۓ پاٹا تلی پہنچے۔ ان میں سے ایک بم بنانے والا، پیسے دینے والا، اور سہولت فراہم کرنے والا کے نام سے جانا جاتا، جس پر امریکی اور افغان فورسز کے خلاف حملوں کا شبہ ہے۔ دوسرا پاکستان سے کابل آنے والے باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو وہ دونوں جا چکے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک ایک ہفتہ پہلے ہی پاکستان فرار ہو چکا تھا جبکہ دوسرا حال ہی میں ایک قریبی گاؤں چلا گیا تھا۔ کچھ نے سیکیوریٹی میں خلا کا خدشہ ظاہر کیا اور کچھ سمجھ رہے تھے کہ مقامی لوگوں نے سن گن لینے کے بعد ان باغیوں کو خبردار کر دیا لیفٹننٹ کرنل میتھیو ہرشاہ، اوکلاہوما شھر سے 179-1 کے بٹالیئن کمانڈر، نے ایک مختلف راۓ کا اظہار کیا۔ ہرشاہ نے کہا کہ جو ہم یہاں پچھلے دو ماہ سے کر رہے اس کی وجہ سے سب فرار ہوگئے۔ وہ ڈر کے مارے بھاگ رہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران، کامبیٹ چوکی نجیل، جو کہ میل وادی کے مغربی کنارے پر واقع ہے، کے فوجیوں نے اس علاقے میں بار بار کاروائیاں کی ہیں اور ہر بار طالبان کی مخالفت کا سامنا کیا ہے۔ یہ لڑائیاں موسم خزاں میں خاص طور پر پرتشدد تھیں جب طالبان جنگجو نقل و حمل کے راستوں کے ساتھ ساتھ مکئی کے کھیتوں میں چھپ جاتے اور پوشیدہ جگہوں سے افغانوں اور امریکیوں پر گولی چلانے کے لئے نکل آتے۔ ہرشاہ نے کہا کہ اس علاقے کے بارے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ باقی مشرقی علاقائی کمان کے مقابلے وہ مل کر حملے نہیں کر رہے ۔ وہ صرف وادیوں کی پیٹھ اور خَشخاش کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ایلومینیم پائیتھان کے لئے منصوبہ یہ تھا کہ فوجیوں کو سردیوں کے دوران وادی کے مشرقی کنارے پر اتارا جاۓ، جو کہ دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان سے گزرتا ہے اور کسی بھی باغی کو جو فرار ہونے کی کوشش کرے پکڑ لیتا ہے۔ اوکلاہوما سٹی مقامی کیپٹن جیسن ٹیلر، کمپنی اے کے کمانڈر اور ایلومینیم پائیتھان کے لئے آپریشنل کمانڈر کے کمانڈر نے کہا کہ اگلے دو دنوں کے دوران پانچ پلاٹونوں نےاس وادی کو چھان مارا، علاقے میں دور تک گۓ، اتنی دور جتنی اس سے پہلے امریکی یا افغان افواج بھی نہیں گئیں۔ اے-این-اے اور معاشرے پر مبنی امن و سلامتی کے مسائل کا حل دھونڈنے والے ایک پروگرام کے زریعے وہ دیہات میں غیر قانونی ہتھیاروں اور چھپے ہوۓ باغیوں کو تلاش کرنے کے لیے گئے۔ انہیں کچھ نہیں ملا لیکن اس کو ناکامی نہیں تصور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ایک وسیع تر تناظر میں، یہ کامیابی کا نشان ہے ۔ ٹیلر نے وضاحت کی کہ ان کی کامبیٹ چوکی نجیل کی کمان کے نو ماہ کے دوران انھوں نے اور ان کے اے-ان-اے شراکت داروں نے میل وادی میں افغان نیشنل پولیس کی موجودگی قائم کرنے کے لئے اور کمیونٹی کی بنیادوں پر نگرانی کو اس کے درمیان لانے کے لیۓ قومی اور صوبائی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی۔ جس کے نتیجے میں پولیس اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو توسیع دے رہی ہے اور پاکستان میں طالبان اس کو پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ علاقے میں آزادانہ طور پر حرکت نہیں کر سکتے جیسا کہ وہ پہلے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں سلامتی کی صورتحال کو تبدیل کر دیا گیا ہے اسے زیادہ محفوظ بنایا گیا ہے۔ ٹیلر نے کہا کہ سی بی ایس 2، اے این پی، نائب گورنر، اور اے این اے کو وہاں مل کر افیون کا صفایا کرتے ہوئے، راستوں کو محفوظ بناتے ہوئے، اورباغیوں کو روکتے اور مارتے دیکھنا بہت اطمینان بخش ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















