| سڑک پر 980ویں انجنئیر بٹالین کے ساتھ |
منجانب Sgt. Catherine Threat, U.S. Forces - Afghanistan
980 ویں انجنئیر بٹالین کمانڈر لیفٹننٹ کرنل وایٹ لوری 29 مارچ کو جنوبی افغانستان میں منصوبوں پر کام کا جائزہ لیتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب کیتھرین تھریٹ)
صوبہ قندھار، افغانستان (10 اپریل، 2012) - افغانستان میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیۓ ایک نقشے سے زیادہ سامان درکار ہوتا ہے، کبھی کبھی اس کے لیۓ ایک پوری انجنیئر بٹالین درکار ہوتی ہے۔ 980ویں انجینئر بٹالین کے کمانڈر، لیفٹیننٹ کرنل وائٹ لوری، 28 مارچ کو ایک دو روزہ مشن کے تحت جنوبی افغانستان میں جاری منصوبوں کی پیش رفت کا اندازہ کرنے کے لئے نکلے۔ 980ویں انجنیئرنگ بٹالین "ٹاسک فورس لون سٹار" جو کہ آسٹن، ٹیکساس کی ایک فوجی ریزرو یونٹ ہے، دسمبر سے صوبہ قندھار میں تعینات ہے، اور وہ فوری طور پر جان گئے کہ صوبے قندھار کے ضلع پنجوائی میں کام کرنے کے لیۓ مل جل کرایک ٹیم کے طور پر کام کرنا سب سے تیز اور محفوظ ترین طریقہ تھا. 980ویں نے ورٹیکل انجینئر کمپنی، 668 ویں، اور ان کی ہاریزانٹل انجینئر کمپنی، 721ویں سے فوجی لیۓ، اور انھیں ٹیکٹائل انفراسٹرکچر کنسٹرکشن ٹیموں، یا ٹی-آئی-سی ٹیموں کے سات جوڑ دیا۔ لوری نے کہا کہ اس سے پہلے، جب ہم ایک انجنیئرنگ کمپنی کو ایک مشن تفویض کرتے تھے تو کچھ کاموں کے لیۓ انھیں کسی دوسری انجینئرنگ کمپنی کی صلاحیتوں کو استعمال کرنا پڑتا تھا ۔ ہمارے مشن واقعی میں ہاریزانٹل کمپنی اور ورٹیکل کمپنی دونوں پر انحصار کرتے ہیں اور ہماری جغرافیائی رکاوٹوں کی وجہ سے، ہم نے انھیں آٹھ انفرادی ٹی-آئی-سی کی ٹیم میں تقسیم کر دیا تاکہ وہ مشن کو پورا کرنے کے لیئے بغیر ٹیم بدلے ہر کام پورا کر سکیں ۔ پہلے دن ہم ان کے آپریشن افسر، میجر چارلس بیل کے ساتھ میلیسا، ٹیکساس سے لوری نے ٹی-آئی-سی ٹیم کا دورہ کیا جو پنجوائی ضلعے میں کامبیٹ چوکی سیاہ چوۓ سے باہر ایک سڑک پر کام کر رہی تھی۔ فورٹ لیوس، واشنگٹن سے 520ویں انفینٹری بٹالین سیاہ چوۓ کے ارد گرد کے علاقے کی جانچ پڑتال کی اور اُسے غیر محفوظ قرار دیا اور اس علاقے کو محفوظ بنانے کی کاروائیوں کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ ان آپریشنوں کے تحت ٹی-آئی-سی کی ٹیم ایک چھوٹی مٹی کی سڑک کو بہتر بنا رہی ہے۔ بیل نے کہا کہ یہ علاقے کو محفوظ کرنے اور استحکام لانے کی کوشش میں سکیورٹی فورسز کے لئے نقل و حرکت کی آزادی مہیا کرتا ہے، اور گاؤں کے اندر سکیورٹی کے حالات کو بڑھاتا ہے۔ ہم اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ طالبان اس علاقے سے کام کرتے ہیں اور سڑک ہمیں رفتار کے ساتھ ان تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی بہتری دیہاتیوں کے لئے بھی نقل و حرکت کی آزادی کی اجازت دیتا ہے، انہیں وہاں امریکی موجودگی کا احساس دلاتا ہے اور یہ کہ وہ طالبان کا ساتھ دینے پر مجبور نہیں ہوتے۔ وہ اپنے خاندانوں کے لیے استحکام اور سلامتی کا احساس چاہتے ہیں اور ہم یہ فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ سیاہ چوۓ میں مقامی گاؤں کے بزرگوں کے ساتھ کلئیرنگ آپریشن اور سڑک کی بہتری کی وضاحت کرنے کے لئے ایک شورا یا میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جب کارروائیوں اور تعمیر کے بارے میں ان کا رد عمل پوچھا گيا، بیل نے کہا کہ اچھے لوگ اس کو پسند کرتے ہیں، بُرے لوگوں اس کو پسند نہیں کرتے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کونسی ٹیم میں ہیں۔ ہمارے آپریشن دیہاتیوں کو کسی ایک کا انتخاب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ٹی-آئی-سی کی ٹیم 1.8 کلومیٹر کی سڑک کو بہتر بنا رہی ہے، ایک دن میں تقریباً 500 میٹر کی اوسط سے۔ بیل نے کہا کہ سب سے بڑی مشکل سامان اور متعلقہ اشیاء کا یہاں لانا رہا ہے، مثلاً بجری کو یہاں لانا جہاں اس کی ضرورت ہے اور دشمن کی گولہ باری کا مسلسل خطرہ ہے۔ ٹی-آئی-سی کی ٹیمیں معمول کے مطابق فعال جنگی حالات میں کام کرتے ہیں، چھوٹے ہتھیاروں، اور اس کے ساتھ ساتھ گولہ باری، آئی –ی-ڈی اور راکٹ حملوں کا سامنا کرتے ہیں۔ دوسرے دن منصوبے کے مقام کا دورہ کرنے کے لیئے سی-او-پی شوجا اور روٹ ایولن کے راستے پر تاخیر اور رکاوٹ کی وجہ سے یہ دن غیر متوقع تو نہیں لیکن ناگوار ضرور رہا ۔ صبح ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے پرسنل سکیورٹی ڈیٹیل نے فوجی دستہ روک دیا۔ افغان نیشنل پولیس نے سڑک کے کنارے کے ساتھ ساتھ ایک خود ساختہ دھماکہ خیز آلہ دریافت کیا تھا اور انہوں نے علاقے ڈھیرا دال دیا۔ ایک مختصر گفتگو کے بعد، مترجم کی مدد کے ساتھ، پی-ایس-ڈی نے ایک چھوٹی سی پگڈنڈی، جو سڑک کے اس حصے سے دفر ہو کر گزرتی تھی، پر مقامی دیہاتیوں کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا، اور وہ کیمپ شوجا میں تعمیر کے منصوبے کی پیش رفت کی جانچ پڑتال کے لئے دن کے مشن کو جاری رکھنے کے قابل ۔ آئی-ای ڈی کو ایک گھنٹے بعد اے-این-پی کی طرف سے محفوظ طریقے سے اڑا دیا گیا۔ 668 ویں انجنیئرنگ کمپنی کے افسر انچارج لیفٹیننٹ فرانسسکو اروچو نے کہا کہ کیمپ شوجا میں جلد ہی پرسسٹنٹ گراؤنڈ سرویلنس سسٹم، یا پی-جی-ایس-ایس نافذ ہو گا۔ ہماری ٹی-آئی-سی-ٹیم ایک پی-جی-ایس-ایس جائزہ ٹاور پر اضافی پی-جی-ایس-ایس لگا رہا ہے ۔ پی-جی-ایس-ایس ایک بیلون سسٹم ہے جو پنجوائی ضلعے میں زیادہ سے زیادہ مشاہدے کی اجازت دیتا ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ کون علاقے میں آرہا ہے اور جا رہا ہے۔ منصوبے پر تعمیر پوری رفتار سے جاری تھا اور اس کی تکمیل جلد ہی متوقع تھی۔ لوری نے کہا کہ پرسسٹنٹ گراؤنڈ سرویلنس سسٹم نے ہمیں لوگوں کو زمین پر کام کروانے کے بغیر سڑکوں کو دیکھنے کی اجازت دیتا ہیں ۔ آپ لوگوں کو آئی-ای- ڈی لگاتے دیکھ سکتے ہیں، ان چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں جن کے لیۓ آپ کو تیاری کرنی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ "وہ ایک عظیم اثاثہ ہیں اور انھیں لگانے کے لیۓ ،انھیں کاروائی کرنے کے قابل بنانے کے لیۓ، اور انھیں اسی حالات میں رکھنے کے لیئے بہتے محنت کرتے ہیں۔ جب غبارے نیچے جاتے ہیں، آئی-ای-ڈی اندر جاتے ہیں۔" شوجا سے، قافلہ روٹ ایولن کی طرف روانہ ہوا۔ آئی-ای-ڈی کی دریافت کی وجہ سے معمولی تاخیر ہوئی، اور پھر ایک گاڑی کے ساتھ میکانی مسئلے کے نتیجے میں مشن میں ایک اور تبدیلی کرنی پڑی۔ لوری نے کہا کہ 980ویں جو کچھ کرتے ہیں وہ اس کام میں بہت اچھے ہو گۓ ہیں، ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانے کی صلاحیت اور ان کی تفصیلات پر توجہ سے مشن اور فوجیوں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملی ہے۔ یہ تفصیلات پر توجہ ہم اس مشن کو کم کرنے کی اور کے-اے-ایف واپس جانے کے فیصلہ کی وجہ بنی تھی۔ 980ویں پی ایس ڈی گنر نے وضاحت کی کہ ہم نیچے روٹ ایولن جا رہے تھے لیکن اس کا فیصلہ بدل دیا گیا، ہم خطرے کا کوئی موقع نہیں لینا چاہتے تھے۔ ہمیں ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے، لیکن آج ہم نے وہ کیا جو ہم ہمیشہ کرتے ہیں، مطابقت پیدا کرنا اور موضوع پر قابو پانا۔ ا ۔" 980ویں کا ایک فوجی اس موضوع کا خلاصہ اس کہاوت کے زریعے واضع کرتے ہیں- کہ اگر آپ گھوڑے سے گر جائیں تو ہاتھ جھاڑ کر دوبارہ سوار ہو جائیں۔ لوری نے کہا یہ وہ ہے جو ہر روز جنوبی افغانستان میں 980 ویں کے انجینئرز کرتے ہیں، اور وہ قندھار صوبے میں حفاظت اور بہتر نقل و حرکت کا ایک انتظام چھوڑيں گے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















