| اوڈیرنو: عرا ق مشرق وسطی' کومستحکم کرنے میں مدد کر سکتا ہے |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
واشنگٹن (فروری 23، 2010) – عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر نے پیر کو کہا کہ عراق مشرق وسطی' کو مستحکم کرنے میں مدد کرنے کا ایک ٹھوس موقع فراہم کررہا ہے
"ہمیں یہ ایک موقع ملا ہے جو شاید پھر کبھی نہ ملے،" آرمی جنرل رے اوڈیرنو نے پنٹاگان اخبار نویسوں سے میٹنگ کے دوران کہا۔ "ہمارے پاس امکانی طور پر مشرق وسطی' میں متوسط جمہوری حکومت پیدا کرنے کا موقع ہے۔" جنرل نے کہا کہ ان کو پریشانی ہے کہ جب 2011 میں امریکی فوجی عراق سے واپس چلے جائیں گے، تو امریکہ عراق کے بارے میں سب کچھ بھول جائے گا۔ جنرل نے کہا کہ امریکہ کوعراقی حکومت کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات جاری رکھنے چاہیں۔ "اس کے لیۓ نہ صرف فوج کی وابستگی درکار ہے، بلکہ اس سے زیادہ وابستگی کی ضرورت ہو گی،" اوڈیرنو نے اِس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت کو عراق کے ساتھ اقتصادی، سفارتکارانہ اور حکومتی سطح پر برسرپیکار رہنا چاہے اور ایک خاص سطح پر حفاظتی اقدامات کا تعاون بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
اوڈیرنو نے کہا کہ 7 مارچ کو عراق کے قومی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اور یہ عراق کے لیے ایک انتہائی اہم موڑ ہے۔ انھوں نے توجہ دلائی کہ عراقی سیکیوریٹی فورس اس وقت انتخابات کے دوران تحفظ فراہم کرنے کی قیادت کر رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکی فوجیں جو کہ مدد کے لیے کھڑی ہیں، مدد کو پہنچ سکتی ہیں۔
اوڈیرنو نے کہا کہ ابھی بھی وسع البنیاد گروہ ہمارے پاس عراقی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ انتخابات میں 325 سیٹوں کے لیۓ کل 6,242 امیدواران ہیں۔
تقریبا" 96,000 امریکی فوجی اس وقت عراق میں موجود ہیں، اوڈیرنو نے کہا، تعداد جو کہ ستمبر تک کم ہو کر 50,000 تک رہ جاۓ گی۔ جنرل نے کہا کہ وہ زمین پر حالات کے مطابق اس انخلاء کو آہستہ یا تیز کر سکتے ہیں۔
"میرے پاس امکانی حالات کے لیۓ منصوبے تیار ہیں اور میں نے اپنے تمام عسکری عہدیداروں کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر ہم مشکل میں پھنسے تو اُن (منصوبوں) پر عمل کر سکتے ہیں۔" انھوں نے کہا اگر یہ معاملہ ہمارے امکان کے مطابق رہا یہ ہمارے حساب سے ذرا سا بھی مختلف ہوا "تو ہم ان پر عمل کو تیار ہیں۔"
اوڈیرنو نے کہا کہ وہ عراق میں ایران اور ایرانی اثر رسوخ کے بارے میں پریشان ہیں۔ "ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عراقیوں کو اپنا رہنما چننے کا موقع دیں، اور کوئی ایسا بیرونی اثر رسوخ نہ ہو جو عراقیوں کو اپنی قیادت چننے اور مستقبل میں آگے لانے سے روکے ۔
اوڈیرنو نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ امریکی فوجیوں کا اپنے مشن کے بارے میں بڑا اچھا رویہ ہے۔ جنرل نے بتایا کہ وہ پورے عراق میں بٹالین اور بریگیڈ کا دورہ کرتے ہیں، اور یہ کہ وہ سپاہیوں، ملاحوں، ہوا بازوں، اور مرینز سے پوچھتے ہیں کہ وہ اب عراق کے مطعلق کیا سوچتے ہیں اور عراق کو وہ اب کن نطروں سے دیکھتے ہیں۔
"اور وہ جواب میں سب کو یہ کہتے ہیں کہ صرف دو سال کے عرصے میں اُنہوں نے پہلے سے کتنا فرق محسوس کیا ہے، اور وہ عراقی قصبوں میں تعمیر دیکھ کر حیران ہیں کہ وہ حقیقی طور پر عراق میں ترقی دیکھ رہے ہیں اور عراقی حفاظتی فوج کی پیشقدمی اور ان کی کاروائیاں کرنے کی صلاحیت کو محسوس کر رہے ہیں" انھوں نے کہا۔ انھوں نے کہا کہ "میرے خیال میں عراق میں جذبہ بلند ہے اور یہ کہ وہ مثبت جذبات کے حامی ہیں۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























