| اوڈیرنو: ایران کی عراق میں تخریب کاری جاری |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن: (فروری 17، 2010) - اعلی امریکی فوجی افسرنے کہا کہ جیسے جیسے عراق کے قومی انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں، ایران اپنے مغربی ہمسائے کےحفاظتی اقدامات اور بنیادی سیاسی ڈھانچے میں خلل ڈالنے کی کاروائیاں جاری رکھ رہا ہے۔ آرمی جنرل رے منڈ اوڈیرنو جو کہ عراق میں اعلی امریکی کمانڈرہیں، نے کہا کہ ایران کا مقصد عراق میں تشدد کو بڑھانا اورایسا سیاسی اور غیر فوجی کردار ادا کرنا ہے جس سے ایران کی طرف سے عراق کی خود مختاری کی عزت کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔
جنرل نے کل فوجی اور بحریہ کلب میں کہا کہ "ایران کی حکمت عملی واضع طور پر عراق کے لیے خطرناک عزائم ، سیاسی عزائم، اور پھر اقتصادی عزائم کا باعث ہے، جو کہ لوگوں پر معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے اثر رسوخ ڈالنے کی کوششیں اورعراق کے اندر مزید عمل درامد کروا رہا ہے۔"
ایران کی حمايت سے ہونے والے تشدد کے حالات، حالانکہ کمی آنے کے باوجود کسی حد تک ان دو گروہوں جو کہ کتائب حزب اللہ اور الیوم الموعد بریگیڈ کے نام سے مشہور ہیں نے پیدا کیۓ۔ جنہوں نے اپنی کاروائیاں سرحد کے مغرب کی جانب منتقل کرنے سے پہلے رقم اور فوجی مہارت ایران میں حاصل کی، جنرل نے کہا۔
یہ پریشانی ہے کہ جیسے جیسے عراق میں قومی انتخابات کی مارچ کی7 تاریخ قریب آتی جا رہی ہے ایران جو کہ مسلمان اور اکثریت شیعہ ملک ہے، نے عراقی قانون سازوں پر اپنا اثر رسوخ سیاسی فیصلوں پراستعمال کرواتے ہوۓ کئ سو سیاستدانوں کو انتخابات میں اس بنا پر کہ ان کا تعلق صدام حسین کی بعث پارٹی سے تھا حصہ لینے سے روک دیا ہے ۔ اس فیصلے نے بنیادی طور پر ُسنی سیاستدانوں جو کہ اس میں حصہ لینا چاہتے تھے نااہل قرار دے دیے گئے ہیں۔
اوڈیرنو نے کہا کہ دو عراقی جو ان امیدواروں کو روکنے میں شامل تھےاُن کا ایرانی حکومت سے تہران میں رابطہ ہے اور عراقی انتخابات کے نتائج پر اپنا اثر رسوخ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دواشخاص ایران میں بہت سے لوگوں سے ملے اور بشمول ایک ایرانی جو1980 کی کوئت بم کے واقعے میں مطلوب ہے اور امریکہ کی ٹیرر لسٹ پر ہے سے بھی ملے تھے۔ ہمارے پاس براہ راست خفیہ معلومات موجود ہیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ "[لامی] اور چلبی واضع طور پر ایران کے زیر اثر ہیں۔" اوڈیرنو نے کہا۔ "ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہ مکمل طور پر انتخابات کے نتائج پر اپنا اثر رسوخ کرنے میں ملوث ہیں، اور پریشان کن بات یہ ہے کہ وہ اپنا اثرسوخ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استعمال میں لائے ہیں۔" امریکہ کے چئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف نے حال ہی میں قریب آتی ہوئی انتخابات کی تاریخ اور عراق میں بڑھتے ہوۓ تشدد پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا، اور انھوں نے مشرق وسطی، بشمول عراق، کے علاقوں میں ایران کی بڑھتی ہوئی رسائی کی مذمت کی۔ ایران کے اپنے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کے اعلان کے بعد قاہرہ میں بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن—امریکہ کے اعلی ترین فوجی افسر—نے تہران کی "پیشن گوئی کو مشکل" قرار دیا۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















