| اوباما: آپریشن عرقی آزادی اختتام کو پہنچا |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
31 اگست، 2010 ۔ صدر بارک اوباما ایل پاسو ٹیکساس کے فورٹ بلس میں فوجیوں سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ صدر اوباما تمام فوجی دستوں کی اُن خدمات کا شکریہ ادا کرنے کے لۓ فورٹ بلس گۓ، جو عراق میں جنگی کاروائیوں کے باضابطہ اختتام پر منتج ہوئیں۔
واشنگٹن (31 اگست، 2010) – صدر بارک اوباما نے آج اوول آفس سے پرائم ٹائم خطاب میں عراقی عوام کے لۓ " ایک نیا آغاز" قرار دیتے ہوۓعراق میں جنگی کاروائیاں باضابطہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ عراق میں آپریشن نیٔ صبح شروع کرنے کے محض چند گھنٹوں بعد بات چیت کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ آپریشن عراقی آزادی اختتام کو پہنچا ہے اور اب عراق کے عوام کو اپنے وطن کی سلامتی میں فوقیت حاصل ہے۔ اوباما نے امریکی فوج کے مردوں اور خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جن کی خدمات اور قربانیوں کی بدولت یہ تاریخی لمحہ ممکن ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں خدمات انجام دینے والے امریکیوں نے ہر اس مشن کو پایہء تکمیل تک پہنچایا ہے جو اُن کو تفویض کیا گیا۔ انہوں نے اس حکومت کو شکست دی ہے جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف دہشت گردی کرتی تھی۔ عراق کو ایک بہتر مستقبل کا موقع فراہم کے لیےعراقیوں اور اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جن کی اپنی بڑی قربانیاں ہیں، ہمارے دستوں نے ایک ایک عمارت کے لیے لڑا ہے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آپریشن عراقی آزادی میں 4,400 امریکی فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس کام کی بے پناہ قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ اوباما نے کہا کہ اس جنگ کا خاتمہ نہ صرف عراق بلکہ ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ عراقی عوام کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں دینے کے لیے امریکہ نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم نے اپنے جوان مرد و خواتین کو عراق میں بڑی قربانیوں کے لیے بھیجا تھا اور ایک ایسے وقت میں ہم نے بیرون ملک میں اپنے وسائل استعمال کیے جب کہ خود ملک کے اندر بجٹ کی صورت حال سخت تھی۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے ثابت قدم رہنے کی وجہ عراق کے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ یقین ہے : یقین کہ تہذیب کے اس گہوارے میں جنگ کی راکھ سے ایک نئے آغاز کی تخلیق ہو گی۔ امریکہ اور عراق کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ اوباما نے عراق میں امریکی دستوں کی عبوری فورس کے مستقبل کے کردار کا خاکہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ عراق میں دسمبر 2011 تک رہیں گے۔ وہ عراق کی سکیورٹی فورسز کو مشاورت اور اعانت، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں عراقی فوجیوں کی مدد اور امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ عراق سے ہمارے معاہدے کی رو سے تمام امریکی دستے آئندہ سال کے آخر تک عراق چھوڑ دیں گے۔ ہماری فوج کی تعداد میں کمی کے ساتھ ہمارے شہری سفارت کار، امدادی کارکن اور مشیر عراقی حکومت، اداروں اور خطے اور دنیا بھر سے اُن کے تعلقات مستحکم کرنے میں اعانت فراہم کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ صدر نے کہا کہ یہ نیا طریق کار عراق کے ساتھ ہماری طویل المدت شراکت کو ظاہر کرتا ہے – ایک ایسی شراکت جس کی بنیاد باہمی مفاد اور باہمی احترام ہے۔ اوباما نے تسلیم کیا کہ امریکہ کے جنگی مشن کے اختتام کے ساتھ عراق میں تشدد ختم نہیں ہو گا اور عراق کے دشمن ترقی میں خلل ڈالنے کی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ البتہ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ عراقیوں پر ہمیں عزم ہے اور ان کی سکیورٹی فورسز انتہا پسندوں کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں. اس بات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہ امریکہ بحیثیت ایک دوست اورشراکت دارعراق کی اعانت جاری رکھے گا۔ صدر نے کہا کہ بالآخر یہ دہشت گرد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ اُس طویل المدت شراکت داری کو تعمیر کرنے کے دوران القاعدہ کے خلاف جنگ میں جسے اوباما نے سب سے زیادہ فوری توجہ کا متقاضی سکیورٹی چیلنج کہا کہ امریکہ عراق میں سیکھے گئے سبق کو مدِ نظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب کہ ہم یہ باتیں کر رہے ہیں القاعدہ بدستور ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے اور اس کی قیادت افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہے۔ ہم القاعدہ کو منتشر کردیں گے، پارہ پارہ کردیں گے اور اسے شکست دے دیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اور عراق میں انخلا کے بعد ہم اس قابل ہیں کہ حملے کے لیے ضروری وسائل بروۓ کار لائیں۔ اُوباما نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کا زور توڑنے کے لیے اضافی فورسز محدود مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے اور افغان عوام کو اپنی اہلیت بڑھانے اور اپنا مستقبل محفوظ کرنے کا موقع فراہم کرنے میں ان کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ عراق میں ہوا تھا افغانستان کے مستقبل کا انحصار بالآخر اُن کی اپنی حکومت اور سکیورٹی فورسز کی اہلیت پر ہو گا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امریکہ اگلے سال جولائی میں افغانی سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دے گا۔ فوجوں میں کمی کی رفتار کا تعین زمینی صورتِ حال کے مطابق ہو گا۔ تبدیلی کے اس عبوری دور کے دوران اوباما نے افغانستان کے لیے دیرپا امریکہ اعانت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لیکن کوئی غلط فہمی میں نہ رہے: یہ منتقلی شروع ہو گی کیونکہ ایسی جنگ جس کا کوئی اختتام نہ ہو نہ تو ہمارے مفاد میں ہے اور نہ ہے افغانی عوام کے مفاد میں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی جنگ کا ایک سبق یہ ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ کا اثر و نفوذ صرف فوجی قوت کا ہی کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے حلیفوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کے لیے ہمیں اپنی طاقت کے تمام عناصر، بشمول اپنی سفارت کاری، اپنے اقتصادی قوت اور امریکی مثال کی طاقت کو بروۓ کار لانا ہو گا۔ صدر نے عراق میں آج حاصل کیے گئے اس سنگِ میل کو تمام امریکیوں کے لیے ایک یاد دہانی قرار دیتے ہوۓ کہا کہ اگرہم اعتماد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں تو اپنا مستقبل خود تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پوری دنیا کے لیے بھی ایک پیغام ہونا چاہیے کہ امریکہ اس صدی کے اوائل ہی میں اپنی قیادت کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















