| نیا سیمیولیٹر افغان پائلٹوں کی صلاحیتیں بڑھاتے ہوۓ |
منجانب Tech. Sgt. Jeremy Larlee, 438th Air Expeditionary Wing شئیرمتعلقہ خبریں
افغان فضائی فورس کے فرسٹ لیفٹیننٹ وحید صدیق 18 اپریل، 2012 کو کابل انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر نۓ ایم آئی – 17 سیمیولیٹر کو چلاتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب ٹیک سارجنٹ جیرمی لارلی)
کابل، افغانستان (20 اپریل، 2012) – افغان پائلٹوں کے پاس ان کی فضائی مہارتوں کو ایک محفوظ ماحول میں بہتر بنانے کے لیۓ اب ایک جدید ترین ایم آئی-17 سیمیولیٹر ہے۔ ایئر فورس لیفٹیننٹ کرنل چیس ٹیکنی، 438ویں ایئر ایکسپڈیشنری ایڈوائزری گروپ کے نائب کمانڈر نے کہا کہ وہ جولائی 2011 سے افغانستان میں ایم آئی-17 وی 5 نمبر- موشن لیول 5 سیمیولیٹر لانے کی کوششوں میں شامل رہے ہیں اور وہ اس کے حتمی نتائج سے متاثر ہیں۔ "میرا نہیں خیال کہ میں نے 21 سالوں میں اس سے بہتر سیمیولیٹر میں پرواز کی ہے۔ افغانستان میں ہیلی کاپٹر کے لیئے ایک انتہائی چیلنجنگ ماحول ہے، "انہوں نے کہا۔ "افغانستان میں اونچائی ایم آئی 17 کی کارکردگی کو چیلنج کرے گا۔" کرنل نے کہا کہ سیمیولیٹر افغانستان کی فضائی حدود کی ایک شاندار مثال فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ فضائیہ کے ارکان ایک کم خطرے والے ماحول میں اپنی مہارتوں کی مشق کے قابل ہوں۔ انسٹرکٹرز سیمیولیٹر کے ذریعے متعدد اقسام کے مشکل موسمی حالات کی نقل فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ فضائیہ کے ارکان نائٹ وژن چشموں اور فارمیشن فلائینگ کے ذریعے رات کے آپریشن کی تربیت کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔ ٹیکنی نے کہا کہ وہ کم روشنی میں لینڈنگ کی مشق کرنے کے بھی قابل ہوں گے جو کہ افغانستان میں فضائیہ کے ارکان کے لیۓ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ یہاں کا گرد و غبار والا موسم کسی بھی اطلاع کے بغیر ایک دھول کا طوفان شروع کر سکتا ہے اور اکثر اوقات پائلٹ کو تمام بصری ریفرنس پوائنٹس کی طرف سے اندھا کر سکتا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے افغانستان میں چند ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو چکے ہیں، ٹیکنی نے وضاحت کی، جنہوں نے کہا کہ ایک سیمیولیٹر میں ایک دباؤ کی صورت حال سے نمٹنے کی مشق کرنے کے قابل ہونا انمول ہے۔ "افغانستان میں ہمیں اپنی تاریخ میں بہت مشکل حالات سے نمٹنے کا تجربہ ہوا ہے،" انہوں نے کہا۔ "ہم افغانوں کو پہلے ہی ان چیلنجنگ منظرناموں سے پیش کر سکتے ہیں اور ہمیں اہلکاروں اور طیارے کے نقصان کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان کی صلاحیتوں کو مزید ترقید دینے کے لیۓ ایسا بار بارکر سکتے ہیں۔" ٹیکنی نے کہا کہ پرواز ڈیک پر ایک خاص فیصد سامان اصلی ہے جو کہ اصلی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت کی اس سطح سے مثبت فوائد بھی فراہم ہوں گے۔ "افغان اصل کنٹرول کو چھو رہے ہیں، "انہوں نے کہا۔ "تو جب وہ ہوائی جہاز اڑانے کے لیئے جائیں گے تو وہاں ایک عادت کی منتقلی کا مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ وہی مواد ہے۔" افغان ایئر فورس فرسٹ لیفٹیننٹ نصراللہ خوشتی نے کہا کہ انھوں نے نئے سیمیولیٹر میں اپنے وقت کا لطف اٹھایا ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے ملک کے لیئے ایک اہم قدم ہے۔ "ہر ایئر فورس کے پاس سیمیولیٹر ہیں،" انہوں نے کہا۔ "یہ ہمیں ہوائی جہاز میں جانے سے پہلے اپنے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ جو تربیت انھوں نے اپنے مشیر سے حاصل کی ہے وہ ان کی ایک فضائیہ کے رکن کے طور پر ترقی میں انتہائی اہم رہی ہے۔
"مشیربہت رحمدل لوگ ہیں اور وہ ہماری بہت مدد کرتے ہیں،" انہوں نے کہا۔ "انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اور ہمیں دکھایا کہ ہم کس طرح اپنے ملک کے لیئے ممکنہ طور پر بہترین پائلٹ بن سکتے ہیں۔" افغان فضائی فورس کے فرسٹ لیفٹیننٹ وحید صدیق بھی سیمیولیٹر میں گزارے اپنے وقت سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ہیلی کاپٹر میں تھے۔ وہ اسے استعمال کرتے ہوۓ اپنی زندگی بھر کے خواب کی تکمیل میں مدد کرتے ہوئے بہت پرجوش ہیں۔ "میں اپنے ملک کا پائلٹ بننے کے بارے میں بہت پرجوش ہوں، یہ میری بچپن سے خواہش تھی۔" انھوں نے کہا۔ "میں ہر روز جب اٹھتا ہوں اور اپنی وردی پہنتا ہوں تو میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں۔ کیونکہ آج کا دن وہ ہے جب میں اپنے ملک کی مدد کر سکتا ہوں۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















