Combined Joint Interagency Task Force-435
| نئی سہولت سے افغانستان میں قانون کی بالادستی کی کوششوں کو نئی جہت ملے گی |
منجانب , Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںافغانستان: صوبہ پروان 17جنوری2011 - ستارہ جنوری اور پیر کے روز پروان میں ہاوسنگ یونٹ ڈیلٹا نامی ایک نئے قید خانے کا افتتاح ہوا۔ یہ افغان حکومت کے قیدیوں کو رکھنے کی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے ایک اہم قدم تھا۔ یونٹ کے قیام اور اففان حکومت کو اس کی منتقلی کے حوالے سے ایک تقریب کے موقعے پر افغان قومی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی نے کہا کہ میں آج امریکیوں سے ہاوسنگ یونٹ ڈیلٹا کی افغانیوں کو منقلی براہ راست دیکھ رہا ہوں۔ افغان حکومت کے تحت اس نئی سہولت کا افتتاح شرائط کی بنیاد پر قیدخانوں کی منتقلی کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ تبدیلی کا یہ عمل ایک سال پہلے اس وقت شروع ہوا جب امریکی اور افغانی حکومتوں نے باہمی سمجھوتے پر دستخط کئے جس میں منتقلی کی ذمہ داری وزارت دفاع کو سونپی گئی۔ کریمی نے کہا کہ آج کی منتقلی اور ہمیں یہ ذمہ داری ملنے پر میں بہت خوش ہوں۔ آنے والے مہینوں میں ایچ یو ڈی پروان کھلنے والے تین قید خانوں میں سے پہلا ہے۔ نئے بننے والے قید خانوں میں مقدمے سے پہلے کے ملزم اور مقدمے کے بعد کے مجرم ر کھے جائیں گے اور یہ افغان قانون کے مطابق چلے گا۔ ان یونٹوں میں پروان افغان قومی فوج کے سپاہی اور پل چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے سپاہی انتظام سنبھالیں گے۔ اےاین اے بریگیڈئیر جنرل سیف اللہ سیفی جو کہ پروان اور پل چرخی پولیس بریگیڈ کے کمانڈر ہیں نے کہا کہ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں یہ ملڑی کام ملا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے پولیس مذہب کے مطابق اور اسلام کے اصولوں کے مطابق اور وزارت دفاع کی حکمت عملی کے مطابق کام کرے گی۔ ڈی ایف آئی پی میں ڈیوٹی کے لیے پچھلی مئی میں بنیادی تربیت مکمل کرنے کے بعد پروان میں پولیس کے پہلے دستے نے امدادی سامان کی اعلی تربیت حاصل کی۔ اے این اے ملٹری نے اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ پچھلی جولائی میں تربیت مکمل کی۔ اے این اے کے ایچ یو ڈی سپاہیوں کی تربیت افغان قانون اور قیدیوں کی حفاظت، خیال، انسانی ہمدردی کے حوالے سے اور عالمی اصولوں کے مطابق کی گئ ہے۔ ایک سپاہی جو کہ چھ سال سے اے این اے میں ہے نے بتایا کہ ہم یہاں ایچ یو ڈی فرض نبھانے پر خوش ہیں ہم ملک دشمنوں کے خلاف اپنے وطن اور لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایچ یو ڈی میں سپاہی روزانہ کام کر یں گے جس میں چوکیوں پر جوان مہیا کرنا، کمروں میں ناجائز اشیا کی تلاشی لینا، قیدیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا، تفریح کے وقت نگرانی کرنا، قیدیوں کو روزانہ کھانا دینا شامل ہیں۔ ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کے معیار کے مطابق بنائے گئے ان یونٹوں کا ماحول قیدیوں کی بہتر دیکھ بھال اور انتظام کو ممکن بناتا ہے۔ ان یونٹوں میں معذوروں کے کمرے، مشترکہ کمرے، غسلخانہ اور نہانے کی سہولت، کمرہ جماعت اور تفریح کی جگہ جس میں پینے کے پانی کی جگہ اور لیٹرین بھی ہیں. جب تک قید خانوں کی بشرط منتقلی اسلامی جموریہ افغانستان کو مکمل نہیں ہوجاتی تب تک کھانا، امدادی سامان، اور طبی سہولیات امریکی حکومت افغان حکومت کے تعاون سے مہیا کررہی ہے۔ دوسرے یونٹوں کی طرح جو کہ افغان حکومت کے حوالے کئے جائینگے، نیا ھاوسنگ یونٹ بھی پروان مٰیں ایک بڑے مرکز انصاف کا حصہ ہے۔ یہ جے سی آئی پی نہ صرف مرمت کی سہولیات سے آراستہ ہے بلکہ اس میں تفتیش کاروں، وکیل استغاثہ، دفاعی وکیل اور قومی حفاظت کے مقدموں پر معمور ججوں کیلئے کمرے بھی ہیں۔ یہ مرکز انصاف مقدمے سے پہلے قید، تفتیش، مقدمہ چلانے اور مقدمے کے بعد قید رکھنے کیلئے افغانستان میں ایک مرکزی مقام ہوگا۔ پروان اور پل چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ پورے افغانستان میں قیدیوں کو رکھنے اور قومی حفاظت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے اورگارڈ فورس سامان کے صدر دفتر عملے کیلئے اور اے این اے کے افراد کی تربیت، فراہمی اور تعیناتی کیلئے بھی ذمہ دار ہے۔ پروان اور پل چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ تیز جوابی کاوائی کیلئے بھی نفری فراہم کرتی ہے۔ یہ بر یگیڈ جو کہ 2006 میں قائم ہوئی مشترکہ ٹاسک فورس، وزارت انصاف، عدالت عظمی، اٹارنی جنرل، قومی دفتر برائے امن عامہ اور قید خانوں کی اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو شرطیہ منتقلی کی وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 حفاظت افغانستان میں قید خانوں کی سرگرمیوں بشمول قیدیوں کی، قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ، قیدیوں کو دوبارہ معاشرے میں پر امن طریقے سے رکھنے کیلئے تفریحی اور تعطیلاتی پروگراموں کے انعقاد کی نگرانی کرتی ہے۔ مرمت اور قید کی کاروائیوں کیلئے مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 اپنے اے این اے کے ساتھیوں کے لیے مشیر کا کام کرتی ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 قید خانوں کی شرطیہ منتقلی کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.










