صفحہ اول | خبریں | خبریں | کوئی بھی پل زیادہ دور نہیں: گرمسر میں کامبیٹ انجنئیرز نے نقل و حرکت میں اضافہ کیا
کوئی بھی پل زیادہ دور نہیں: گرمسر میں کامبیٹ انجنئیرز نے نقل و حرکت میں اضافہ کیا
منجانب Lance Cpl. Bryan Nygaard, Regional Command Southwest
120215_bridge.jpg
لانس کارپورل ڈین شرگن، جو کہ سپورٹ کمپنی، 9ویں انجینئر سپورٹ بٹالین کے ساتھ دھات کے کارکن ہیں اور ویلپریسو، انڈیانا ایک مقامی ہیں، 29 جنوری کو صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسر میں کامبیٹ چوکی رینکل کے قریب ایک پل کی تعمیر کے دوران ایک پیچ کو اس کی مخصوص جگہ پر جوڑتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب کارپورل برائین ناۓگارڈ)

گرمسر، افغانستان (14 فروری، 2012) - جنوری کے آخری ہفتے کے دوران، الفا کمپنی برج پلاٹون 9ویں انجینئر سپورٹ بٹالین، سیکینڈ مرین لاجسٹکس گروپ (فارورڈ) کے 45 فوجیوں نے صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسر میں واقع ایک چھوٹی سی بیس  کےکامبیٹ چوکی رانکیل تک پہنچنے کے لیۓ صوبہ ہلمند کے مرکزی راستوں کا استعمال کرکے تقریباً 80 میل سفرکیا ۔ ان کا مشن ایک درمیانے درجے کے گرڈر پل کو ہٹاکر اس کی جگہ ایک پختہ اور کم لاگت کی ساخت کا پل بنانا تھا جس کی وجہ سے اس علاقے میں مرینز اور افغانوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگا۔

تاہم، پل کی جگہ تک پہنچنا  نصف کام تھا۔ میرینز نے 100،000 پونڈ سے زیادہ  تعمیر کا سامان اور عمارت کے مواد کو بکتر بند گاڑیوں میں لیتھر نیک سے رانکیل تک اکثر کچی سڑکوں کے زریعے پہنچایا۔  قافلوں کو ممکنہ آئی- ای- ڈی (خود ساختہ دھماکہ خیز آلات) کے خطرات کی وجہ سے کافی بار رکنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں، قافلے کو منزل تک پہنچنے میں تقریباً 5 دن لگے جو کہ عام طور پر ہیلی کاپٹر سے 30 منٹ میں لے جایا جا سکتا ہے۔

مرینز، جن میں سے کئی باڈی آرمر پہنے ایک دوسرے کے ساتھ تنگی سے بیٹھے تھے ، بکتر بند گاڑیوں کے اندر بیٹھے ہوۓ سوۓ جبکہ دوسروں نے  بندوق کے برج میں کھڑے ہو کر نگرانی کی۔

برج پلاٹون میں ایک کامبیٹ انجنیئر اور ایڈنبرا، ٹیکساس کے  مقیم  لانس کارپورل رنڈولف لوپیزسوسا نے کہا کہ یہ  کافی تکلیف دہ  ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد آپ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ آپ چند گھنٹوں کے لئے سوتے ہیں، پھر آپ جاگتے ہیں اور جتنے بھی توانائی دینے والے مشروبات  پی سکتے ہیں وہ پیتے ہیں پھر آپ کام پر لگ جاتے ہیں۔ آپ پورے دن کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

آخر کار رینکل پہنچنے کے بعد مرینز رات بھر  پلنگوں پر سوۓ اور اگلے دن صبح سویرے پل کی جگہ پہنچے۔

سائٹ رینکل سے صرف چند 'منٹ کی دوری پر ایک مشاہدے کی چوکی کے قریب تھا جس پر افغان نیشنل پولیس کا قبضہ تھا۔ پل  ایک بڑی ندی پر رینکل میں کام کرنے والے انڈیا کمپنی، تھرڈ بٹالین، تھرڈ مرین رجیمنٹ کے مرینز کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیۓ تعمیر کیا گیا تھا۔

سائٹ کام شروع کرنے سے پہلے، مرینز  نے زمین میں گڑھے بموں کو ڈھوند نکالنے کے آلات کا استعمال کیا تاکہ وہ اس جگہ کو بھاری سازوسامان کے استعمال اورکام کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے کسی بھی ممکنہ آئی ای ڈی کو ناکام کیا جا سکے۔ ایک بار جب علاقے کو محفوظ قرار دیا جاتا ہے تو میرینز اپنے اوزار اتار کر کام کرنا شروع کرتے ہیں۔

سب سے پہلے، کھائی کی دونوں اطراف سے زمین کے حصوں کو ایک کُھدائی کی مشین کے ذریعے ہٹا دیا گیا تھا۔ میرینز نے پھر بیلچوں اور کدالوں کے استعمال سے زمین کے سخت حصوں کو توڑا اور اس کے بعد ایک ٹریکٹر کا استعمال کر کے اس کام کو ختم کیا۔ ایک مٹی دبانے کی مشین کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے زمین کو ہموار کیا تاکہ ٹھوس ستونوں کی تعمیر کی جا سکے جو کہ پل کی بنیاد بنے گی۔ ایک بار جب یہ بھی ختم ہو گیا تو مرینز نے ان بنیادی ستونوں کے ساتھ تاریں باندھ دیں، جس کا وزن کئی سو پاؤنڈ تھا، اور ایک کھدائی کی مشین کے ذریعے ان کو اٹھایا  اور ان کی  جگہ پر رکھ دیا۔

جب برج پلاٹون کی اکثریت کام میں مشغول تھے تو بہت سے مرینز نے سیکورٹی فراہم کی۔ وہ پل سائٹ کے ارد گرد بکتر بند گاڑیاں کی نگرانی کے لیئے برجوں میں کھڑے رہے۔ ان کا دن وہاں موجود  اپنی بھیڑ اور اونٹ  چرانے والے کسانوں کو دور بھگانے میں گزر گیا۔

لانس کارپورل جیسس پیناگریوز نے رینکل تک کا پورا راستا ایک بکتر بند گاڑی کے برج میں کھڑے ہو کر گزارا۔ جب بھی انھوں نے تھکاوٹ یا نیند محسوس ہوتی تو وہ پل کی سائٹ پر اپنے ساتھی میرینز کو بغیر کسی وقفے کے کام کرتے ہوئے دیکھتے۔

ہیوسٹن کے مقیم نا گریوز نے کہا کہ ایک چیز جو میرے ذہن سے گزری وہ یہ تھی کہ  "یار، وہاں کام کرنا بہت باعث زحمت ہے اور میں صرف یہاں کھڑے کھڑے تھکا ہوا ہوں۔ ذرا تصور کریں کہ وہ کس طرح گزارا کر رہے ہیں جبکہ وہ کام کر رہے ہیں۔ ان کا کام بہت مشکل ہے۔ وہ سب اپنے ہاتھوں سے مزدوری کر رہے ہیں۔

تیز ہواؤں نے میرینز کو ٹھنڈک پہنچائی جب وہ رات بھر کام کر رہے تھے۔ بھاری سامان پر ہیڈلائٹس کا استعمال کرتے ہوۓ، میرینز پل کا باقی کا کام اپنی جگہ منتقل کرنے کے قابل ہو گۓ تھے۔ اگلی صبح فجر کے وقت، پل تقریباً مکمل ہو گیا تھا۔

اگرچہ میرینز کی پل کی سائٹ پر باریاں لگی ہوئی تھیں، کسی کے پاس بھی 5 گھنٹے سے زیادہ سونے کے لیۓ وقت نہیں تھا۔ سارجنٹ جوزف ریڈمین، جو کہ برج پلاٹون میں ایک اسکواڈ لیڈر ہیں، نے بغیر رکے 29 گھنٹے کام کیا، جس کے دوران انھوں نے بھاری مشینری کی رہنمائی کی، میرینز کی رہنمائی کی اور کوالٹی کنٹرول کی جب تک کہ برج پلاٹون کے کمانڈر، فرسٹ لیفٹیننٹ میٹ پلوٹا نے ان کو تھوڑی نیند حاصل کرنے کے لئے کسی ایک گاڑی میں چلے جائیں کو کہا۔

ایک بار جب مرینز نے پل کی تعمیر مکمل کر لی، تو انھوں نے جلدی سے اس جگہ پر پہلے سے موجود درمیانے گرڈر کے پل کو توڑنے کا کام شروع کر دیا۔ اس ایم- جی- بی کے حصوں کو واپس میرین کور لاجسٹک بیس البنی، جارجیا واپس بھیجا جاۓ گا جہاں ان کو مختلف انجینئرنگ کے یونٹس میں تربیتی مقاصد کے استعمال کیا جائے گا۔

سننسناٹی کے مقیم پلوٹہ نے کہا کہ آپ ایک بہت بڑا فرق دیکھ رہے  ہیں۔ ہم نے 60،000 ڈالر کا  ایک مستقل ڈھانچہ تیار کیا ہے اور ایک عارضی پل اتار لیا ہے جس کی قیمت تقریباً دو ملین ڈالر ہے۔ اس قسم کے معیاری کام کو سرانجام دینا قابل تعریف ہے جو ہم نے کیا ہے۔۔ ہماری تفصیل پر توجہ کبھی کم نہیں ہوئی۔  ہم نے اسے میرینز (تھرڈ بٹالین، تھرڈ میرینز) اور افغان عوام کے لئے ایک معیاری چیز بنائی ہے۔

ارد گرد کے دیہات سے بہت سے افغانوں نے میرینز کو بتایا کہ انھیں پرانا پل پسند نہیں تھا کیونکہ اس کے وسط میں اونچائی انہیں دوسری طرف زمین کو دیکھنے سے روکتی تھی۔ گاؤں کے  ایک افغان بزرگ نے نیۓ پل کے لئے شکریہ ادا کیا۔

پلوٹا نے کہا کہ وہ واقعی اس پل کے لیۓ شکر گزار تھے۔  انھیں واقعی میں ایک اچھے معیار کے پل کی ضرورت تھی۔ وہ میرینز کی محنت کے لئے شکر گزار تھے۔

سٹاف سارجنٹ برائن گلوری، جو کہ برج پلاٹون کے پلاٹون سارجنٹ ہیں، کو عراق میں دو مرتبہ تعینات کیا گیا تھا اور انھیں یاد ہے کہ وہاں مشن کو مکمل کرنے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جانا جگہ کتنا آسان تھا۔

گلوری جو کہ ٹلسا، اوکلاہوما کے ایک مقیم ہیں انھوں نے کہا کہ نقل و حرکت کا کام عراق میں بہت آسان تھا۔ وہ میرے لیے‎ اس کی نسبت بہت آسان تھا۔  وہاں زندگی آسان تھی۔ وہاں ایک بنیادی ڈھانچہ موجود تھا۔ وہاں سڑکیں تھیں۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ بالکل کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم نے یہاں آتے ہوۓ یہ دیکھا ہے۔ ہم نے 100،000 پاؤنڈ کے علاوہ سامان بھی کھلے صحرا کے ذریعے منتقل کیا ہے۔ یہ بہت عجیب ہے۔

گلوری نے کہا  کہ میری نظر میں، یہ ایک انجنیئرز کی جنگ ہے ۔ اس ملک میں نقل و حرکت کے مسائل خوفناک ہیں۔ کامبیٹ انجینئرز کو قوت بڑھانی پڑتی ہے۔ ہم ان یونٹوں کی نقل و حرکت کے لیۓ کام کرتے ہیں۔  یہ واقعی میں اس وقت برج  پلاٹون کا مشن ہے: جس بھی یونٹ کی نقل و حرکت میں ہمیں اضافہ کرنے کی صرورت ہو۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+