| امریکی بحریہ، کوسٹ گارڈ کے عملے نے خلیج فارس میں ملاحوں کو بچایا |
منجانب , US Naval Forces Central Command
امریکی بحریہ کا نشان دارا ڈارئیس مرسر(دائیں) اور تباہ کن راہ نمودہ میزائل بردار یو-ایس-ایس جان پال جونز کے نجات دلائے ہوئے چھ فلیپینو ملاح 15 مارچ، 2012 کو خلیج فارس میں امریکی کوسٹ گارڈ کٹر بیرانوف پر منتقل کرتے ہوۓ۔ (یو-ایس نیوی فوٹو)
خلیج فارس (15 مارچ، 2012) - امریکی بحریہ فوج کی مرکزی کمان کے حکام کے مطابق بحریہ کا راہ نمودہ میزائل کے ساتھ یو-ایس-ایس جان پال جونز اور کوسٹ گارڈ کٹر بیراناف کے عملے نے آج 24 فیلیپینو ملاحوں کو بچایا. حکام کا کہنا ہے کہ جان پال جونز، جو مشترکہ میری ٹائم فورسز ٹاسک فورس 152 کو تفویض ہے، نے لائبیرین پرچم والی مٹر کشتی سٹالٹ ویلور کی مدد کی درخواست کا جواب دیا جو بین الاقوامی پانیوں میں 48 سمندری میل فارسی جزائر، ایران کے جنوبی مشرق میں سرگرم تھا ۔ جب جان پال جونز کے عملے نے دو میں سے ایک لائیف بوٹ کو دیکھا، جو ایک چھوٹی سی روشنی کے ساتھ اشارہ کر رہی تھی، تو ایک سخت ڈھانچے والی ہوا بھری کشتی کو تحقیقات کا آغاز کرنے کے لیے بھیجا۔ انھیں وہاں پہلی کشتی میں 16 افراد اور دوسری میں آٹھ افراد ملے۔ نیوی کمانڈر جان ڈفی، جان پال جونز کے کمانڈنگ افسر نے کہا کہ ہم مدد کرنے کو تیار تھے اور خوش قسمتی سے ہم مدد کرنے کے قابل تھے ۔ سٹالٹ ویلر کے انچارج نے اس بات کی تصدیق کی جہاز کے عملے کا ایک رکن ایک دھماکے کے دوران انتقال کرگیا، 24 بچ گئے جو تھیک تھے اور جنھیں طبی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے بچانے والوں نے انہیں خوراک، پانی، اور کمبل دیئے۔ ڈفی نے کہا کہ مصیبت میں پھنسے ساتھی ملاحوں کی مدد اور ان کو سمندر میں ڈھونڈنا اور بچانا اہم مہارت ہے جس کو صحیح طرح سے انجام دینے کی تربیت ہمیں بحریہ دیتی ہے۔ جس طرح ہمارے عملے نے ابتدائی مشکل میں مدد کی اطلاع سے لے کر ہر زندہ بچ جانے والے کو ڈیک پر محفوظ لانے تک رد عمل کا اظہار کیا میں اس پر اس سے زیادہ فخرنہیں کر سکتا۔ تقریباً صبح کے 7:30، بچائے گۓ 24 ملاحوں کو جان پال جونز بحری جہاز سے بیرانوف بحری جہاز پر منامہ، بحرین لے جانے کے لیۓ منتقل کر دیا گیا۔ سٹالٹ ویلور ایک کیمیکل ٹینکر ہے، جس میں امریکہ بھر میں استعمال ہونے والی گیسولین میں آکسیجن کے مواد میں اضافہ کاربن مونوآکسائڈ اور گآڑیوں سے اخراج کی وجہ سے اوزون کی سطح کو کم کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا 13،000 میٹرک ٹن میتھل ٹرٹیئیری بٹل ایتھر بھرا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مواد پانی میں حل نہیں ہوسکتا لیکن جراثیم وغیرہ کے عمل سے حل ہو سکتا ہے ۔ مشترکہ میری ٹائم فورسز کے بیٹل واچ آفسر نے اس واقعے کی رپورٹ میری ٹائم ایمرجنسی باہمی امدادی مرکز کو دی، جس نے آگ بُجھانے والی چھوٹی کشتیاں وقوعہ پر بھیجیں۔ یو-ایس-ایس جان پال جونز خلیج فارس میں سمندری حفاظتی کاروائیوں پر ہے۔ کوسٹ گارڈ کٹر بیرنوف کو ٹاسک فورس 55 اور امریکی کوسٹ گارڈ گشتی فورس جنوب مغربی ایشیا کے ساتھ تویض کیا گيا ہے، جو کہ 5ویں امریکی فلیٹ کی ذمہ داری کے علاقے میں میری ٹائم حفاظتی کاروائیوں میں مدد کر رہا ہے. |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















