| ننگرہار اے-ڈی-ٹی کا معیاری زراعتی تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کے لیۓ کام |
منجانب Capt. Dale Edith Mitchell, RC-East PAO
فغانستان (9 اپریل، 2012) - ننگرہار کی زراعتی کاروباری ترقی ٹیم کی مدد سے، افغان وزارت تعلیم نے قوم کے تمام بچوں کی ایک اعلٰی معیاری تعلیم تک یکساں رسائی فراہم کرنے کی کوشش میں ایک اور اہم سنگ میل منایا۔ ہاتھ میں قینچی کے ساتھ، ڈاکٹر اللہ دات اسماعیل زئی، ننگرہار کی تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر، نے اپنے ہم وطنوں پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں ایک نئی صبح طلوع ہونے کا استقبال کریں۔ پھر انھوں نے علامتی طور پر ربن کاٹا جو ضلع رودات میں واقع پہلے زراعتی ہائی اسکول کے دروازے کھلنے کی اس نئے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔ اپنی ملازمت کے پہلے سال کے دوران ڈائریکٹر اللہ دات نے ان علاقوں میں، جن کو ان کی دوری کی وجہ سے ماضی میں نظر انداز کیا گیا تھا اور جو علم کے پھیلاؤ میں مدد دیتے ہیں، منصوبہ بندی کے ساتھ نئے اسکول کھولنے پر کام کیا۔ اللہ دات نے کہا کہ ہماری وزارت کا مقصد اپنے ملک کے تمام بچوں کو ایک معیاری، مفت عوامی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اتحادی افواج کے ہم منصوبوں، اے-ڈی-ٹی، کی حمایت کے شکریہ گزار ہیں ان کی وجہ سے ہم تعلیمی سہولیات کی مناسب رسائی فراہم کرنے کے اپنے پہلے مقصد کو حاصل کرنے کی طرف مثبت ترقی کرنے کے قابل ہوۓ ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوۓ کہ افغانستان کے اقتصادی اور سماجی استحکام کو محفوظ بنانے میں تعلیم سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے، ننگرہار اے ڈی ٹی وی کمانڈر، امریکی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل برینٹ بیکلی نے ایسے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے پر بہت زور دیا جو پائیدار زراعتی تعلیمی نظام کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بیکلی نے کہا کہ افغانستان کے ایک روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیۓ ہمیں نجی شعبے کی ترقی اور ترقی کے حامی ماحول کی حوصلہ افزائی کرنا لازمی ہے ۔ بیکلی نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ ایک مظبوط تعلیمی نظام کا قیام دور اندیش خیالات کی حوصلہ افزائی کے لئے بہت اہم ہے جو افغانستان کو دونوں علاقائی اور عالمی دنیا کی معیشتوں میں واپس لانے کے لیئے ضروری ہے۔ ننگرہار اے-ڈی-ٹی، مزوری نیشنل گارڈ کی ٹیم، کے مشن کی توجہ ننگرہار ڈائریکٹر زراعت، آبپاشی، اور جانوروں کی افزائش کی صلاحیت کی تعمیر کے اقدامات پر ہے۔ ترقی، بہتری، اور رسمی اور غیر رسمی گورننس کی صلاحیتوں کو اپنانے کے ذریعے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت (جی-آئی-آر-اہ-اے) مزید خوشحالی حاصل کرے گی اور خود کو بیرونی ذرائع کی بہت کم مدد کے ساتھ برقرار رکھے گی۔ جیفرسن شہر، مزوری سے تعلق رکھنے والے بیکلی نے تبصرہ کیا کہ افغانستان میں قابل کاشت کھیتوں کی ایک محدود مقدار ہے زراعت کی تعلیم میں سرمایہ کاری مستقبل کے کسانوں اور زراعتی کاروبار کے رہنماؤں کو بہترین طریقے سے فارمنگ کے لئے ضروری علم کی فراہمی کو یقینی بناۓ گی ۔ بیکلی نے مزید کہا ملک کی معیشت زندگی کے لیۓ زراعت پر تقریبا مکمل طور پر انحصار کرتی ہے؛ قومی ترقی کے مقاصد اسی طرح پائیدار زراعت کی ترقی کے اشیاء خورد و نوش کی فراہمی پر منحصر ہیں ۔ رسمی زراعتی اسکولوں کے نظام تک رسائی میں مستقل اضافے نے اسکول جانے والے عمر کے بچوں کو متاثر کیا ہے؛ ٹیچر کور اور حکومت کے زراعتی حکام کی افادیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوامی اعلٰی تعلیم کے ذرائع کے قیام کے لیۓ معلومات کی فراہمی مثلاً ننگرہار کی زراعتی یونیورسٹی اسکول کو، بیکلی کی انتظامیہ کے تحت بڑی توجہ مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اس تبدیلی کے لیۓ ضروری ہے جو نہ صرف ملک کے فائدے بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو ۔ اے-ڈی-ٹی معیاری تعلیم کے ذرائع کی تعمیر کی حمایت میں سرمایہ کاری پر زور دیتا ہے جیسا کہ رودات زراعتی ہائی اسکول افغانستان کے مستقبل کے رہنماؤں کے لئے وسیع تر مواقع مہیا کرنے کو یقینی بناۓ گا۔ رودات زراعت ہائی سکول، جو ایک دیہی زراعتی معاشرے کے مرکز میں واقع ہے، آس پاس کی کل سات کمیونٹیز سے طلباء و طالبات کو خدمات مہیا کرے گا۔ ربن کاٹنے کی تقریب کے وقت اسکول نے پہلے ہی 85 سے زائد طالب علموں کا اندراج کر لیا ہے۔ افغان وزارت تعلیم کی، طرف سے اسٹاک کی عمارت کے ڈیزائن کی فراہمی کو استعمال کرتے ہوۓ، امریکی فوج کے فرسٹ لیفٹیننٹ کوڈی واٹرز، سول انجینئر، نے امریکی فوج کے کیپٹن ایلن شراک جن کا ذریعہ معاش زرعی تعلیم ہے، کی فراہم کردہ معلومات کے ساتھ اسکول کی عمارت کو ڈیزائین کیا ہے جو کہ موجودہ تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے اور مستقبل میں توسیع کے لئے کی اجازت دے گا۔ لیکچر کی جگہوں اور اساتذہ کے کام کرنے کے علاقوں کے ساتھ ساتھ، اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوۓ تجرباتی تربیت کے ذریعے ان کے نصاب کو بڑھانے کے لئے اس میں زین اور باغات کی جگہ رکھی گئی ہے۔ کمیونٹی کی فعال شرکت کے ساتھ، واٹرز نے لوگوں کا اس منصوبے سے استفادہ کرنے خیالات کو شامل کیا، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوۓ ڈسٹرکٹ ڈیویلوپمنٹ پلان (ڈی-ڈی-پی) شوری کا قیام عمل میں لایا۔ ڈی-ڈی-پی ایک گورننگ باڈی ہے جو کہ آپریشن کے ان کی متعلقہ کمیونٹیز کے اندر منصوبہ بندی کی ترقی کے منصوبوں کو اہم نگرانی فراہم کرنے کے لئے موجود ہے۔ جیسا کہ ربن کاٹنے کی رسم کا آغاز ہوا، واٹرز نے وہاں موجود برادری کو فخر کے ساتھ دیکھا جو پوری طاقت کے ساتھ اے ڈی ٹی، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور کمیونٹی کی طرف سے مشترکہ کوشش کی حمائت کے لیۓ جمع ہوۓ تھے تاکہ اس چھوٹی سی کمیونٹی کی دہلیز پر تعلیم کی طرف سے فراہم کردہ آزادی کو لایا جاۓ۔ 200 کے قریب دونوں افغان اور اتحادی حامی، نوجوان اور بوڑھوں نے نماز اور دعوت میں ایک دوسرے کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ تقریب کے آخری حصہ کے دوران اپنے اختتامی کلمات میں، ڈائریکٹر اللہ دات نے اس ہائی اسکول کے مستقبل کے طالب علموں پر افغانستان کے مستقبل کے لیۓ فعال ہونے پر زور دیا۔ "صرف ایک چیز جو ہمارے ملک کو دہشت گردی اور جہالت سے بچاۓ سکتی ہے، وہ علم اور تعلیم ہے۔ آپ ہمارا مستقبل ہیں۔ ہر اس موقعے کا فائدہ اٹھائیں جو آپ یہاں اسکول میں اور اس سے آگے پائیں ۔" ننگرہار زراعتی کاروبار ی ترقی ٹیم، مزوری نیشنل گارڈ سے ہےاور ننگرہار صوبے میں 2007 کام کررہی ہے۔ ٹیم کے قیام کے آغاز ہی سے ان کے منصوبے ننگرہار میں زراعت کی صورتحال مییں نئی زندگی لاۓ ہیں، افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے ایک بنیاد کو یقینی بناتے ہوۓ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















