| موسٰی قلعے: ترقی کی راہ پر گامزن |
منجانب Cpl. Jeff Drew, 2nd Marine Division شئیرمتعلقہ خبریں
یو ایس فوج کے سپیشل جیرلڈ شو میکر جو کہ سیکینڈ بٹالین، 35ویں انفینٹری رجیمینٹ، تیسری بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، 25ویں انفنٹری ڈویژن کے ساتھ ہیں، ضلعے واٹا پور، صوبہ کنڑ، افغانستان میں ایک پہاڑ پر چڑھتے ہوۓ۔
کیمپ لیتھر نیک، صوبہ ہلمند، افغانستان (22 جنوری، 2012) – موسٰی قلعے، جو کہ ایک وقت باغیوں کی دہشت میں مبتلا تھا، اب اس صوبے میں ترقی کی ایک علامت کے طور پر چمکتا ہے، جس کے لیۓ افغانستان کی اسلامی جمہوریہ حکومت کے حکام، افغان سیکورٹی فورسز، میرینز اور سیکینڈ میرین ڈویژن (فارورڈ) کے ملاحوں اور دیگر اتحادی شراکت داروں کی محنت اور لگن کی بدولت پیش آسکا ۔ انہوں نے علاقے میں باغیوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے مل کر کام کیا ہے، اور مقامی افغان حکام نے سیکورٹی سخت کر دی ہے اور بنیادی ڈھانچے اور تعلیم میں سرمایہ کاری کر کے بڑی کامیابی سے آنے والے سالوں کے لئے ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے۔ نعمت اللہ ثمین، موسٰی قلعے کے ڈسٹرکٹ گورنر نے کہا کہ پہلے سیکورٹی سرکل بہت محدود تھا، کوئی بھی ارد گرد کے بازار میں اطمینان سے نہیں چل سکتا تھا۔ ہمارے ارد گرد ایک کلو میٹر تک چلنا ممکن نہیں تھا۔ سرکاری حکام کے درمیان کوئی ہم اہنگی نہیں تھی، اور ہم بہت کمزور پوزیشن میں تھے۔ ہم نے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب میں کاروائیاں کیں۔ ہم نے سیکورٹی بڑھائی ، (چوکیاں) قائم کیں اور لوگوں کی مدد کی۔ اس کے علاوَہ سیکورٹی میں 30 کلومیٹر سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ضلعے کے کاروبار میں اضافہ دیکھا گيا جب سے اس علاقے کے رہائشی اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ ثمین کے مطابق، اب تَقريباً 2000 دکانیں کھلی ہیں جو لوگوں کو روزگار مہیا کر رہی ہیں اور ضلع کی معیشت میں ایک نیا اعتماد پیدا کر رہی ہیں۔ امن و سلامتی کی بنیاد پر شہریوں کوترقی کرنےموقع اور راستے فراہم ہو رہے ہیں۔ موسٰی قلعے کے ضلعے میں سیکورٹی سے قبل کوئی تعلیم بھی نہیں تھی، ثمین نے کہا کہ جیسے جیسے ہم نے اس ضلعے میں سیکورٹی بہتر بنائی ہے، تعلیم بھی بہتر ہو گئی ہے۔ تعلیم ایک معاشرے کی بنیاد قائم کرتی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران موسٰی قلعے میں تعلیم و تربیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ افغان بچوں سے سال بھر میں امید کی جاتی ہے کہ وہ فصلوں کے دوران اپنے خاندانوں کی مدد کریں گے جو طالب علموں کی تعداد معلوم کرنے کے عمل میں خلل اور ان کی حاضری کے اعداد و شمار میں غلطیوں کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، اس سال اساتذہ اور تعلیم کے ڈائریکٹرز نے طالب علموں کی تعداد گننے کے لیۓ سال کے سب سے زیادہ قابل اعتماد وقت کی نشاندہی کی ہے۔ صوبائی سے لے کر ضلع کی سطح تک طالب علموں کی رپورٹنگ کے عمل میں بہتری سے طالب علموں کی حاضری کا ایک زیادہ درست ریکارڈ مہیا کیا ہے۔ ثمین نے کہا کہ ناخواندہ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ کوئی بھی ان کو دھوکہ دے سکتا ہے اس لیے ہم نے بہت کوشش کی تاکہ تعلیم کے زریعے لوگوں کو کرپشن سے آگاہ کیا جائے۔ اس وقت 53 رجسٹرڈ اساتذہ ضلع کے اندر 650 مربع میل کے اندر2,436 طالب علموں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ تعلیم میں دلچسپی کے اضافے نے ایک نئے ابتدائی اسکول کی تعمیر کا موقع دیا ہے جو کہ پہلے سے کام کرتے پانچ موجودہ ابتدائی اور ثانوی اسکولوں کی فہرست میں شامل ہو جاۓ گا۔ ضلع میں تعمیر ہونے والی چیزیوں میں صرف اسکول ہی نہیں ہیں۔ رہائشی علاقوں کے ارد گرد بند باندھے گۓ ہیں تاکہ دریا کے بڑھتے ہوئے پانی کے رخ کو موڑا جا سکے اورمقامی لوگوں کی نقل و حرکت کی آزادی کے لیۓ سڑکوں کو ہموار کیا جا رہا ہے۔ ہموار اور پکی سڑکوں کی وجہ سے قلعے موسٰی کے لوگوں کو لشکر گاہ شہر میں ان کی صوبائی حکومت تک پہنچنے میں آسانی ہوگی اور بازاروں تک اعلٰی معیار کا مال پہنچانے سے ان کی قیمت میں اضافہ ہوگا کیونکہ اب ناہموار سڑکوں کی وجہ سے تجارتی مالوں کو بغیر نقصان کے پہنچایا جاسکتا ہے۔
ضلع میں کی جانے والی بنیادی ڈھانچے میں بہتری کی علامت موسٰی قلعے میں تکمیل شدہ وادی چوراہا ہے۔ موسم سرما کے مہینوں میں قریبی وادی یا موسمی دریا کے پانی میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو سفر کو غیر فعال بنا دیتا ہے اور مقامی لو گوں کو حکومت کے مرکز اور مارکیٹ سے کاٹ دیتا ہے۔ اس کی تکمیل سے قبل کسان گاڑیوں میں دریا پار کرنے کی کوشش کرتے تھے، اکثر اوقات اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر مارکیٹ تک اپنی کاشت پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ 60 میٹر پر پھیلے دو حصے اس چوراہے کو مکمل کرتے ہیں جو کہ تقریباً 63 کنکریٹ کی سلوں سے بنایا گیا ہے اور موسٰی قلعے کے باشندوں کو اپنے مال بازار میں فروخت کرنے اور ضلعی حکومت کے مرکز میں سارا سال کاروبار کرنے کا موقع دیتا ہے۔ قلعے موسٰی کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ گورنر یار محمد نے کہا کہ ہمیں ضلع موسٰی قلعے میں بہت کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضلع موسٰی قلعے، جو پہلے دریا کی وجہ سے دو حصوں میں بٹا ہوا تھا، پل کا منصوبہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ موسٰی قلعے کے دونوں اطراف کو جوڑتا ہے۔ لوگ بہت خوش ہیں اور وہ ہمارے ساتھ آ کر بیٹھتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ایک کامیاب اور اہم منصوبہ ہے۔ میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ضلع موسٰی قلع ایک بہت متحد جگہ بن گیا ہے۔" ضلع موسٰی قلعے میں تبدیلیاں سیکورٹی کنٹرول کو بالآخرافغان فورسز کو منتقل کرنے کے حتمی مقصد کے لئے معروف ہیں۔ 2011 میں مقامی افغان حکام نے مستقبل میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ یوٹاہ کے مقامی اسٹاف سارجنٹ جوزف سپینسر راۓ نے کہا کہ ضلع کمیونٹی کونسلوں نے معاشرتی ترقی کے منصوبوں کو سنبھالنا شروع کر دیا ہے جو سیکینڈ میرین ڈویژن کے سول فوجی آپریشنز کے حصے (فارورڈ) میں ترقی کے سربراہ اور تعلیم کے افسر ہیں۔ "بزرگ اب فوجیوں کے پاس جانے سے پہلے افغان حکومت کے پاس جاتے ہیں۔ اس کے بعد کونسل اپنے شوری اس منصوبے کو فنڈ کرنے کے لیۓ سب سے بہتر طریقے انتخاب کرنے کے بارے میں بات کرے گی۔ لوگ جی-آئی-آر-او- اے جا رہے ہیں اور چیزوں کی مانگ کے لیۓ، اور جی آئی آر او اے ہماری مدد کے بغیر سہولت اور امداد فراہم کر رہا ہے ۔ موسٰی قلعے اور باقی جنوب مغربی افغانستان میں پیش رفت کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، افغان حکام کے ساتھ ویڈیو انٹرویو دیکھنے کے لیۓ "نیا سلسلہ افغان رہنماؤں کو ایک آواز مہیا کرتا ہے" دیکھیں یا ڈیفنس وڈیو اینڈ امیجری ڈسٹریبیوشن سسٹم کے صفحے پر جائیں۔ مدیر کا نوٹ : سیکینڈ میرین ڈویژن (فارورڈ) ٹاسک فورس لیتھر نیک، علاقائی کمان کے گراؤنڈ سے نمٹنے کے عنصر (جنوب مغرب کے سربراہ، اور انسداد بغاوت کی کارروائیوں پر عمل کرنے کے لئے افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کی افغان قومی سلامتی فورس اور حکومت کے ساتھ شراکت میں کام کرتا ہے۔ یونٹ افغان عوام کی حفاظت، باغی افواج کو شکست دینے اور اے این ایس ایف کی کارروائیوں کے اس علاقے کے اندر استحکام کے قیام میں مدد کے لیۓ سیکورٹی کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے، ترقی، اور جائز گورننس کی توسیع میں مدد کرنے کے لئے وقف ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















