| مولن کی افغانستان میں مزید غیرفوجی طاقت کی درخواست |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
مشترکہ فوج کے سربراہ بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن نے یہاں کینساس اسٹیٹ یونیورسٹی میں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے لئے "اجتماعی سرکاری" طریقہِ کار کی ضرورت پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ جیسی"غیر فوجی" تنظیموں کی مزید مدد کے ساتھ پر زور دیا۔
مولن نے کہا کہ"صاف صاف کہوں گا، مجھے خوف یہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں تیزرفتاری سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی اب بھی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بجاۓ ہماری مسلح افواج اور دوسرے ملکوں میں موجود ہمارے جرنیلوں اور ایڈمرل پر کچھ زیادہ ہی انحصار کررہی ہے۔
مولن کی لینڈن لیکچر کے تبصروں کے دوران وہی جانی پہچانی گونج سنائی دی جس میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے امریکی خارجہ پالیسی میں "ملٹرائزیشن کا دبے پاؤں آنا" قرار دیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کو اس رویے کو الوداع کہنا چاہیے اور مسلح اورغیر فوج کی کوششوں میں توازن رکھنا چاہئے۔
چئیرمین نے یہ تجویز دیتے ہوئَے گیٹس اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی مزید مالی امداد اور غیر فوجی طاقت کی درخواست قبول کی، کہ امریکی دستوں کی روانگی دوسری سرکاری تنظیموں کی آمادگی سے مشروط ہونی چاہئے۔
اُنہوں نے کہا " میں زور دے کر کہوں گا کہ ہمیں مستقبل میں عسکریت پسندوں کے خلاف غیر متوازن ذرائع کے ساتھ کی جانے والی کوششوں کے دوران اپنے دستے مہیا کرنے سے پہلے یہ طے کر لینا چاہیے کہ ہم ایسا صرف اسی صورت میں کریں گے جب قومی طاقت کے دوسرے آلہء کار بھی اپنے حصے کا کردار کرنے کو تیار ہوں گے۔"
مولن نے قومی سیکوریٹی کی ضروریات کے تحت مسلح فوج کی تیزی سے تعیاری کے حامل ہونے کی قدروقیمت کو تسلیم کیا، مگرزیادہ زور اِس بات پر دیا کہ ساتھ میں دوسرے بین الایجنسی کے معاونین بھی اِن کا بوجھ ہلکا کریں۔
اُنہوںنے کہا کہ "ہنگامی حالت میں فوری طور پر تیار اور آمادہ ہونا ایک چیز ہے مگر کسی بھی مشکل میں اول کردار ادا کرنا ایک بالکل مختلف بات ہے۔"
کثیر الاقوامی حل پر زور دینے والے موضوعات کی ایک تقریر، جو کہ اسکول برائے بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ تھی، مولن نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے تمام تر سرکاری حکومت کی شمولیت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اتحادیوں اور دوستوں کی طرف سے بھرپور معاونت کی بھی ضرورت ہے۔
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ 42 قومیں امریکہ کے ساتھ افغان جنگ میں حصہ لے رہی ہیں انہوں نے کہا "امریکی حکومت کو اپنی فوج کا پورا وزن اٹھانے کے علاوہ، اپنے معاونین اور اتحادیوں کو بھی جنگ میں لانا ہوتا ہے۔"
اُنہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "چاہے رسمی اتحاد ہو یا غیر رسمی معاہدہ، کثیر الاقوامی شرکت نہ صرف اس کوشش کو زیادہ قابل اعتماد بناتی ہے بلکہ مقامی آبادیوں کو خاص ہنر اورعلم بھی فراہم کرتی ہے جو کہ ہمارے اکیلے نہیں کر سکتے ہیں۔"
مولن نے افغانستان میں مصروف سیکوریٹی اتحاد کا جائزہ لیتے ہوئے جو کہ اکثریت نیٹو کے ۲۸ اتحادی ممبران کے دستوں پر مشتمل ہے ایک دوہرا پیغام دیا اور کہا کہ نیٹو کی معاونت اس پیمانے پر نہیں جتنی کہ امریکہ کی ہے لیکن اتحادیوں کی قربانیاں اور کوششیں بہت اہم درجے پر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا "تاہم جو حقیقی اثر ان لوگوں نے ڈالا ہے، اس سے بھی انکار ممکن نہیں، اور اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہم ان سے مزید مدد کا مطالبہ نہ کرسکیں۔"
چئیرمین نے کثیرالاقوامی فوج کے عراق اور افغانستان میں کامیاب ہونے کی پیش گوئی کی، مگر اس کے ساتھ ہی یہ توقع رکھنے سے خبردار کیا کہ بغاوت کی سرکوبی کے لئے کی جانے والی کاروائی میں کوئی نئی حکمت عملی ایک جلد از جلد فتح کا سبب بن سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ " صاف بات ہے ہم جیتیں گے ضرور، مگر اس کے لئے وقت درکار ہوگا اور تقریباً مستقل طور پر بار بار جانچنےاور تبدیلیاں کرنے کے بعد یہ فیصلہ ایسی ضرب نہیں ہو گا کہ اگلے کو فوراً گرا دے بلکہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس سے محسوس ہو گا کہ جیسے کسی لمبی بیماری سے صحت یاب ہو رہے ہوں۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























