| مولن: امریکہ نیٹو افغانستان میں صحیح سمت میں جا رہے ہیں |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
ڈیوڈ سینگر دائیں نیویارک ٹائمز کے سربراہ واشنگٹن نامہ نگار مشترکہ افواج کے سربراہ اور بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن سے 28 جون کو آسپن سیکیوریٹی فورم آسپن کولوراڈو میں انٹرویو لے رہے ہیں۔
واشنگٹن 29 جون، 2010 – امریکہ کے مشترکہ افواج کے سربراہ نے کل کہا کہ وہ اسی ہفتے افغانستان سے واپس آئے ہیں اور یقین دہانی کرواتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی اور نیٹو افواج وہاں صحیح سمت میں جا رہے ہیں لیکن علاقے میں دہشتگرد گروہوں میں بڑھتے ہوئے تعاون سے وہ فکرمند ہیں۔ بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن ان خیالات کا اظہار کل کولوراڈو میں آسپن انسٹیٹیوٹ کے ایک شعبے آسپن سیکیوریٹی فورم کے افتتاح کے موقعہ پر نیویارک ٹائمز کے واشنگٹن کے سربراہ نامہ نگار ڈیوڈ سینگر کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ مولن نے کہا کہ انکا افغانستان پاکستان اور اسرائیل کا دورہ فوجی جنرل اسٹانلے مکرسٹل پر ایک مجلے کے مکالمے کے مضر اثرات جنکی وجہ سے جنرل کو امریکی اور نیٹو افواج کی کمان سے استعفی دینا پڑا تھا اس سے پہلے ترتیب دیا گیا تھاـ مولن نے مکرسٹل کی برطرفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا اسکی وجہ سے ہوا اور یہ ایک یقین دہانی کا دورہ تھا۔ ہم بہت جلد وہاں ایک نیا رہنما دیکھیں گے اور وہاں پر ہمارے پاس وہاں ابھی بھی برطانوی لیفٹیننٹ جنرل نکولس پارکر کی شکل میں ایک بہت قابل نائب موجود ہیں اور ہماری حکمت عملی اور ہماری توجہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ مولن نے افغان صدر حامد کارزائی سے ملاقات کی جن سے انہوں نے کہا اور یقین دلایا کہ قیادت کی تبدیلی کا عمل ہموار ہوگا۔ امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر فوجی جنرل ڈیوڈ پٹریاس جنرل مکرسٹل کی جگہ لینے کیلیے منظوری کے عمل میں ہیں۔ مولن نے اپنے دورے کے بارے میں بتایا کہ میں اس بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں اور میں واضح طور پر آ کر یہ رپورٹ دے رہا ہوں کہ ہم اور وہ تمام لوگ جنکو میں مل کر آ رہا ہوں سب مشن پر اپنی توجہ قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ مولن نے کہا کہ مکرسٹل کی برطرفی صدر ابراہام لنکن اور ڈوائٹ آئزن ہاور کے ماتحت فوجی قائدین کی برطرفی سے مختلف ہے حتہ کہ یہ 2008 میں مرکزی کمان کے سربراہ بحریہ کے ایڈمرل ولیم فالن کے استعفی سے بھی ہٹ کر ہے کیونکہ وہ استعفی پالیسی کے اختلافات پر مبنی نہیں تھا۔ مولن نے کہا کہ اگرچیکہ انہوں نے مکرسٹل کو کبھی شہری رہنماؤں کے بارے میں منفی باتیں کرتے نہیں سنا تھا انکا استعفی مکالمے کی روشنی میں اہم تھاجس کے کچھ حصوں میں مکرسٹل اور اسکے عملے کے اراکین کو کچھ شہری انتظامیہ کے حکام سے بیزار دکھایا گیا تھا۔ مولن نے کہا کہ یہ بات 1770 تک جاتی ہے اور یہ ایک بنیادی اصول رہا ہے۔ ہمیں اب بیشمار خطرات ہیں مگر ہم میں سے کسی کیلیے بھی یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ ہم اپنی فوج پر شہری نگرانی کی اہمیت کو نہ دیں۔ چیرمین نے کہا کہ جہاں تک افغانستان میں کارروائیوں کا تعلق ہے وہ بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ واپس آئے ہیں کہ دہشت گرد گروہ ایک دوسرے سے زیادہ مل کام کر رہے ہیں اور یہ نہ صرف جنوب مغربی ایشیا، بلکہ یہ ان لوگوں کے ساتھ بی تعاون کر رہے ہیں جو کہ ڈیٹرائٹ اور نیویارک میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی کوششوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس علاقے میں دہشتگرد گروہوں کے آپس میں تعاون اور انکی ممکنہ تعداد میں امریکیوں کو مارنے اور نہ صرف امریکیوں کو بلکہ جنکو بھی وہ مار سکنے کے خواہش مند ہیں انکو مارنے کے اضافے پر میں زیادہ فکرمند ہوں ۔ مولن نے تقریبا ایک دہائی طویل جنگ کا اعتراف کیا مگر اسکی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہاں ایسا نہیں ہے جو جتنا جلد یہ جنگ ختم ہوسکے تواسکو ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا مگر دورے سے واپس آنے کے بعد میں علاقے میں دہشت گردی کے خطرے سےزیادہ فکرمند ہوں۔ کئی سالوں تک افغانستان کی جنگ کو بہت خراب ذرائع اور کم ذرائع میسر رہے ہیں اور اب ہم ایک ایسے مقام تک پہنچ رہے ہیں جہاں ]افغانستان میں [ حکومت اور بدعنوانیوں اور اسکے ساتھ ساتھ حفاظت کے مسائل سے جامع طریقے پر نمٹا جاسکنے کے لیے ہمیں وسائل میسر آنے والے ہیں۔ طویل عرصے کے دوران دہشتگردی کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے عالمگیر اقتصادیات سے متعلق ہے۔ انہوں نے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں سے نمٹنے کے مسائل کے بارے میں کہا کہ آپ ان سب کو ختم نہیں کرسکتے ہیں اورہمیں اس مقام تک جانا ہے جہاں ایک 15 سالہ لڑکا خودکش جیکٹ پہننے کے بجائے ایک زیادہ مثبت طریقہ زندگی اختیار کرے۔ مولن نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی بہت دور کی بات ہے اور طویل المدتی حل کیلیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان قیادت دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے مذہب کی بیحرمتی کے خلاف کھڑے ہوں۔ مختصر دورانیے کیلیے قندھار میں کارروائیاں جاری ہیں اور اسکے نتائج سال کے آخر تک ظاہر نہیں ہونگے۔ بعد میں ان گرمیوں میں بقیہ ایک تہائی امریکی اضافی افواج کے اپنی صحیح جگہ پہنچنے کے بعد وہاں کارروائیاں بڑھیں گی۔ چیرمین نے کہا کہ نیٹو مہم نے جس نے اس سال کے شروع میں ہیلمند صوبے میں مارجہ کو طالبان کے ہاتھوں سے لیا تھا اس نے ایک نئی مقامی حکومت کے قیام کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا مگر جبکہ مارجہ میں حفاظت کا مسئلہ موجود ہے اور مستقل ترقی ہو رہی ہے ادھر اسکول اور بازار کھل چُکے ہیں۔ مولن نے کہا کہ انہوں نے شروع سے اوبامہ کی افغانستان سے انخلا کی ابتدا کی جولائی 2011 کی تاریخ کے جدول کی حمایت کی ہے اور کیونکہ یہ افغان حکومت میں کنٹرول سنبھالنے کیلیے ہنگامی کیفیت کا احساس پیدا کرتی ہےاس وقت اور جولائی 2011 کے درمیان کے وقت میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















