| مولن: امریکہ، مصر نے مضبوط ملٹری تعلقات برقرار رکھے |
منجانب Cheryl Pellerin, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںقاہرہ، مصر 8 جون 2011 – بحری ایڈمرل مائک مولن نے آج یہاں کہا کہ امریکی فوج مصر کی مسلح فورسز کے ساتھ 30 سالہ روایت کو برقرار رکھتے ہوۓ مضبوط دو طرف تعلق رکھنے پر بدستور قائم ہے۔ مشترکہ افواج کے سربراہ نے کاروبار اور تعلیمی لیڈروں اور ملٹری افسران سے دن بھر کی میٹنگوں کے بعد مصری اور بین القوامی صحافیوں سے بات کی۔ مولن نے کہا کہ میری حکومت کی جمہوریہ مصر کے ساتھ مضبوط تعلق کی خواہش میں مصری ملٹری کی صلاحیت کو جدید زمانے مطابق بنانے کے لیے مفید امداد شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ ملٹری مشقیں، روز مرہ کی گفتگو، سالانہ کانفرنسیں اور تعلیمی مواقع ، اس جاری امداد کا حصہ ہیں۔ مولن نے کہا کہ تعلقات اہمیت رکھتے ہیں اور اس بات کو سمجھنا چاہیۓ کہ یہ رابطہ کتنا اہم ہے اور ان کی مصری مسلح فورسز کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سمیع حافظ عنان کے ساتھ اس وقت سے بات چیت جاری ہے جب جنوری میں مصری انقلاب پیدا ہوا۔ چیئرمین نے کہا کہ میں جنرل عنان کی قیادت اورجس طرح مصری ملٹری فورسز نے اپنے آپ کو پیشہ ورانہ طور پر موافق بنایا، اس کے لیے ایک بار پھر تاکید سے ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ملٹری اپنے لوگوں اور ان اداروں کے ساتھ مخلص رہی جن کو وہ سمجھتے تھے کہ انہیں آگے بڑھنے کی ضروت ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھا۔ مولن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آنے والے وقتوں میں سخت کام کرنےکی ضرورت پڑے گی۔ اس نے کہا کہ امریکی یہ جانتے ہیں کہ جمہوریت کتنی دشوار ہے۔ میرے خیال کے مطابق سپریم کونسل اس چلینج کو جانتی ہے جس کا اسے سامنا ہے ، وہ دباؤ جس کے یہ شکار ہیں اور لوگوں کی توقعات کا بھی احساس ہے ۔ جہاں تک ہمارا کردار ہے، امریکی فوج اور امریکی حکومت اس تبدیلی کی حمایت اور مدد کرے گا جو مصری خود لائیں گے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے بارے میں سوالات کے جواب میں مولن نے کہا کہ اس وقت حالات بہت غیر یقینی ہیں۔ کسی بھی ملک میں جو کچھ چل رہا ہوتا ہے اس کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے چاہے وہ یہاں ہو یا ٹونیسیا میں ہو یا شام میں ہو یا لبیا میں اور خاص طور پر فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کے دیر پا حل پر بھی اثر ہوتا ہے۔ لیبیا میں جہاں نیٹو فورسز لیبیا کے لوگوں کو ان کی اپنی ہی حکومت کی طرف سے دیۓ جانے والے نقصان سے بچانے کے لیے لڑ رہی ہیں مولن نے کہا کہ ہم بہت سست رفتاری سے بہتری دیکھ رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ افراد جو کہ [لیبیا کے سربراہ معمر قذافی] کی رجیئم سے تعلق رکھتے ہیں وہ خرابی پیدا کر رہے ہیں اور جن میں سے کچھ ملٹری میں ہیں۔ پچھلے ہفتے نیٹو فورسز نے وہاں آپریشن مزید 90 دن بڑھانے کا فیصلہ کیا، ستمبر 25 تک اور نیٹو کے دفاعی وزراء جو آج بیلجئم میں مل رہے ہیں انہوں نے اس فیصلے کی منظوری دی۔ چیئر مین نے مزید کہا کہ نیٹو اور دوسرے ممالک کا رد عمل اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ آگے کے طویل عرصے میں قذافی کا لیبیا میں [رہ جانا] ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ تو لیبیا کے لوگوں اور نہ ہی خود لیبیا کے مستقبل کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کے تناظر میں میں جو کچھ بھی دیکھ رہا ہوں وہ مسلسل ملٹری کاروائیاں جاری رکھنے کا اشارہ ہے تاکہ قذافی کو جانے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جاۓ۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوۓ مزید کہا کہ ہر شخص جو اس کوشش میں شامل ہے اس نتیجے کو جلد از جلد دیکھنا چاہے گا۔ شام میں حکومت مظاہرین کے خلاف جارہانہ رد عمل کر رہی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ امریکہ کے صدر اور کئی دوسروں نے اپنے ہی لوگوں کو مارنے پر صدر پشیر اسد کی مزمت کی۔ شام کے لوگوں کے اپنے مستقبل سے متعلق بہت سے سوالات ہیں اور میرا خیال ہے کہ صدر اسد اور شام کے قائدین کو ان کے جوابات تلاش کرنے ہیں لیکن جواب میں لوگوں کو کچلنا نیہں ہے۔ مولن نے کہا کہ اس نے یمن میں 'بڑھتے ہوئے بے قابو ماحول کی وجہ سے جس میں دہشتگرد تنظیمیں اور خاص طور پر جزیرۂ عرب میں القاعدہ کام کرنے کے قابل ہوئی ہیں، پر کئی سالوں سے توجہ مرکوز رکھی۔ مولن نے کہا کہ القاعدہ جس کی نشو نما یمن میں ہوئی، نے ایک بہترین قیادت اور اچھے وسائل کے ساتھ اپنی کاروائیوں اور جاری جنگی ارادوں سے واضح کیا ہے یہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں اور مغربی یوروپی لوگوں کو مارنے کے لیے سخت کام کر رہی ہے۔ چیئر مین نے کہا کہ یمن میں مظاہرین کی پیدا کردہ مسلسل افراتفری اور حکومت کے رد عمل نے وہاں پر موجود انتہائی خطرناک القاعدہ تنظیم کواور بھی خطرناک کر دیا ہے۔ مولن نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی نے یمن میں کچھ پرسکون دن دیۓ ہیں اور وہ اس چیلنج کے اطراف کے قائدین کو اس مسئلے کا پر امن طریقے سے حل ڈھونڈنے پر زور دیں گے۔ چیئر مین نے کہا کہ زیادہ پرتشدد اور بے چینی کی بڑھتی ہوئی حالت نہ صرف یمن کے لیے بری ہے بلکہ یہ خطے اور دنیا کے لیے بھی بری ہے اس لیے ہم اس کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















