صفحہ اول | خبریں | مولن نے عراق کی پریشان کن حالت کے بہتر ہونے کے بارے میں بیان دیا
مولن نے عراق کی پریشان کن حالت کے بہتر ہونے کے بارے میں بیان دیا
منجانب , Armed Forces Press Service

بغداد یکم ستمبر، 2010 – یہاں آتے ہوۓ آج امریکی فورسز کی قیادت میں تبدیلی اور امریکہ کے لڑاکا مشن کی شہریوں کی زیر قیادت آپریشن نیو ڈان (آپریشن نئی صبح ) کو سرکاری منتقلی کی تقریب کے لیۓ مشترکہ افواج کے سربراہ اس ترقی کے بارے میں بات کرنے کے لیۓ رکے جو انُھوں نے عراق میں 2007 میں اپنا عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک دیکھی۔

بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن نے اپنے سفر کے پہلے حصے کے دوران جو کہ انھوں نے یہاں آج کی تقریب کے لیۓ کیا رپورٹروں کو بتایا کہ ایک بات جو میرے خیال میں ہمیں بھول جانے کی عادت ہے وہ یہ ہے کہ ہم فوجوں کی تعداد میں بڑھت سے پہلے کتنے پریشان تھے اور میں یقینا" اس ترقی کو جو ہم نے کی ہے کی اہمیت کو نہیں سمجھے۔

صرف اس سال کے دوران چئیر مین نے کہا امریکی فوجیوں کی تعداد 70،000 کی تعداد میں کم ہوئی ہے۔

مولن نے کہا کہ ہم نے تقریبا" 500 اڈے بند کر دیے ہیں اور ہم نے 38000 کے قریب فوج کے ساز و سامان کو عراق سے نکال دیا ہے۔ ایک مہینہ پہلے جب میں وہاں تھا میں ائیر پورٹ سے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر کیمپ وکٹری تک جانے کے لیے اڑا اور میں صفائی کا عالم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں اس بات پر حیران  تھا کہ وہاں 2004 سے لے کر میرے ہر چکر تک وہاں کتنا عملہ تھا جو اب وہاں موجود نہیں ہے۔

انھوں نے مذید کہا کہ میں بغداد ڈاؤن ٹاؤن میں ایک گول چکر پر پھنس گیا جس کو میں عام ٹریفک کہوں گا۔ ہمیں اب بھی عراق میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے لیکن وہاں اس موقعے کے لیۓ جانا اہم ہے۔

مولن نے کہا کہ اس ترقی کے لیۓ فوجی جنرل رے منڈ اوڈیرنو کے ساتھ ساتھ امریکی اور عراقی فورسز اور امریکی سفارتخانے کو کریڈٹ جاتا ہے جو آج امریکی فورسز عراق کی قیادت آرمی جنرل لائڈ جے۔ آسٹن III کو سونپ رہے ہیں۔

چئیرمین نے کہا کہ میں عراقی سیکیوریٹی فورسز کی کامیابیوں سے خاص طور پر پچھلے ایک سال کے دوران بات سے متاثر رہا ہوں۔ وہ اب کافی مہینوں سے قیادت سنبھالے ہوۓ ہیں اور ہم نے بہت سے القاعدہ کے لیڈروں کو عراقی سڑکوں سے اٹھا لیا ہے اور انھوں نے ان کاروائیوں کی قیادت کی ہے۔

مولن نے کہا کہ ان کی اب سب سے بری پریشانی یہ ہے کہ عراق کے سیاسی قائدین اپنے آپس کے تفرقات کو ختم کر کے نئی حکومت تشکیل دیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف یہ ایک مثبت بات ہے کہ عراق کی سب سے بڑی مشکل ایک سیاسی مسعلہ ہے کیونکہ دو تین سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ اس حکومت کی تشکیل میں بہت سی کوششیں شامل ہیں اور مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا ہو جاۓ گا۔

چئیرمین نے توجہ دلائی کہ عراق میں تشدد کی شرح 2003 سے لے کر اب تک سب سے کم رہی ہے۔ انھوں نے مذید کہا کہ کچھ ایسے حملےجاری رہے جنہوں نے کافی توجہ حاصل کی اورجو کہ تمام پریشانی کا باعث ہیں لیکن یہ حکومت یا ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے قریب بھی نہ پہنچ سکے۔

انھوں نے کہا کہ اس لیۓ ہم آج جہاں کھڑے ہیں اور عراق کی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بشمول سیکیوریٹی، اس بات پر بھروسہ ہے کہ وہ یہاں موجود ہیں۔

مولن نے عراق میں 50،000 سے بھی کم باقی رہ جانے والے فوجیوں کی مستقبل کی کاروائیوں کے بارے میں خاکہ کھینچا۔

انھوں نے کہا کہ ہم اب واضع طور "مشاورت اور مدد" کا کردار ادا کریں گے اور یقینا" عراقی فورسز کی دہشتگردی کے خلاف خاص اور اہم  کاروائیوں میں مدد کریں گے۔ انھوں نے مذید کہا کہ عراق میں موجودہ امریکیوں کی حفاظت بھی اس مشن کا حصہ ہو گی۔

ایڈمرل نے وضاحت کی کہ ہمار ے پاس شہریوں کا بڑا "نقش پا" موجود ہے۔ ہمارے پاس تبدیلی کا بہت تفصیلی منصوبہ موجود ہے جس میں زیادہ تر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور ہمارا سفارتخانہ مشن کی قیادت سنبھال لے گا اور ہم ان کی اس پر عمل درآمد میں حمائت اور مدد کریں گے۔

اگلے سال کے آخر تک تمام امریکی فوجیوں کے نکل جانے کے جدول کے باعث امریکہ اور عراق کے درمیان کسی بھی اہم اور لمبے عرصے کی شراکت کی تفصیلات کو عراقی حکومت کے قیام کا انتظار کرنا ہو گا۔ انھوں نے مذید کہا کہ آج کی منتقلی امریکہ کی عراق میں ٹائم لائن پر ایک اہم نقطہ ہے۔

مولن نے کہا کہ عظیم قربانیوں کے ذریعے ہم سامنے آ کے لڑے اور قیادت سنبھالی اور پھر ہم نے مل کر قیادت کی پھر عراقی فوجوں کی تربیت کی اور ان کو 660000 کے قریب تیار کیا تاکہ وہ قیادت کر سکیں اور اپنی حفاظت خود کر سکیں۔ اس تحفظاتی ماحول کا حصول جو اس وقت موجود ہے نے ان کو دو دفعہ انتخابات منعقد کرنے اور عوام کی منتخب کردہ حکومت قائم کا موقع دیا اور ظاہری طور پر وہ اب یہی کر رہے ہیں۔

انھوں نے مذید کہا کہ بنیادی طور پر ان کے پاس بہت سے اقتصادی ممکنات ہیں اور صرف اس وجہ سے ان کے پاس بہت سے وسائل مہیا ہیں۔

مولن نے کہا کہ وہ فوجی جنرل ڈیوڈ پٹریاس جو کہ اب افغانستان میں کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں اور جنہوں نے اس سے قبل امریکی مرکزی کمان کی قیادت اور عراق اور افغانستان میں اتحادی فوجوں کی قیادت کی کے ہم خیال ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگوں کا کوئی واضع اختتام نہیں ہوتا۔

چئیر مین نے کہا کہ ہم اس وقت میں نہیں رہ رہے جہاں آپ اپنا ہدف حاصل کر کے دستخط کی تقریب میں حصہ لے کر رنگین اور مزئین پریڈ کے لیۓ گھر آ جائیں۔ وہ پرانی جنگوں کے نقوش ہیں ہم اس وقت اس قسم کی جنگوں میں ملوث نہیں ہیں۔ اس کے بعد اگر آپ دو تین سال پہلے عراق پر نظر ڈالیں اور اس کا اب سے متوازنہ کریں تو اس میں دن اور رات کا فرق پائیں گے۔

انھوں نے مذید کہا کہ ان 26 کروڑ لوگوں کے لیۓ جو عراق میں رہتے ہیں بہت سے مواقع ہیں اور یہ اب ان پر ہے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
17,356+