واشنگٹن (فروری 02، 2010) - وزیر دفاع کے افسران نے بدھ کو کہا کہ، 101stکی ایر بورن ڈویژن کی4thبرگیڈ کامبیٹ ٹیم افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے لیے بھیجی جا رہی ہے ۔فورٹ کیمبل میں تعین 3،200 فوجیاور 900 بشمول ریزرو فوجی گرمیوں کے آخر میں بھیجے جائیں گے۔
"یہ اہم یونٹ میں ہونے والا آخری اعللان تھا" پینٹاگان کے ترجمان آرمی کے لیفٹینینٹ کرنل مارک رائٹ نے کہا۔
یہ سلسلہ صدر اوباما کی نومبر کی تقریر سے شروع ہوا جس میں انھوں نے پاکستان-افغانستان کی نئ پالیسی کا اعلان کیا۔ طالبان کے بڑھتے قدم روکنے اور القاعدہ کو اس علاقے میں شکست دینے کے لئے مزید 30000 امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان اوباما نے کیا تھا۔
دسمبر 7 کو پینٹاگان نے اعلان کیا کہ مزید 16000 امریکی فوجی اور مرین اس بڑھت کے حصے کے طورپر افغانستان بھیجے جائیں گے۔ ان فوجیوں میں سے بیشتر کا تعلق لیجیون کیمپ نارتھ کیرولائنا؛ فورٹ ڈرم نیویارک، اور کیمپ پینڈلٹن کیلیفورنیا سے تھا۔کرسمس سے ذرا پہلے ڈیپارٹمنٹ نے دوبارہ فورٹ کیمبل سے مزید 6000 فوجی بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔12 جنوری کو پینٹاگان نے3100 مزیدفوجی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق فورٹ ہوڈ، ٹیکساس سے تھا، اُن کو افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا۔
آج کے اعلان کے بعد افغانستان میںبڑھت کے ضمن میںبھیجی جانے والی مزید امریکی فوجوں کی کل تعداد 29،200 ہو گئ ہے۔سرکاری اہلکاروں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجیں کہاں استعمال ہوں گی۔ "یہ ان [انٹرنیشنل سیکوریٹی اسیسٹنس فورس] کے کمانڈر پر منحصر ہے،" رائٹ نے کہا۔"اور اِن فوجیوں کے ملک میں داخل ہونے کے وقت تک تبدلیاں أ سکتی ہیں۔"توقع ہے کہ گرمیوں تک افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد عراق میں موجود فوجیوں سے بھی بڑھ جاۓ گی۔