| مشرقِ وسطیٰ کے انقلاب سے القاعدہ اور ایران کمزور |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
1مارچ 2011 پینٹاگون میں بحری ایڈمرل مشترکہ افواج کے سربراہ مائیک مولن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ گیٹس اور مولن نے مشرقِ وسطیٰ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا اور دو اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی نامزدگی کا اعلان کیا۔ تصویر منجانب چیری کولن۔ واشنگٹن 02 مارچ 2011 ۔۔ وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں انقلاب کی لہر میں سب سے زیادہ شکست خوردہ القاعدہ اور ایران کو ہوئی ہے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور بحریہ کے ایڈمرل مائیک مولن جو کہ مشترکہ افواج کے سربراہ ہیں نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بہت پُر امید ہیں۔ وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ پہلی بات میں سمجھتا ہوں کہ تیونس اور مصر اور دیگر ملکوں میں ہونے والے مظاہرے جن کا نتیجہ ان کی حکومتوں میں وسیع اصلاحات کی صورت میں نکلا ہے، القاعدہ کی بہت بڑی شکست ہیں۔ اس سے القاعدہ کا یہ تصور غلط ثابت ہو گیا ہے کہ امرانہ حکومتوں سے نجات کا واحد راستہ انتہاپسندانہ تشدد ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ گیٹس نے مزید کہا کہ اصلاحات کی لہر ایران کے لیے بھی ایک شکست ثابت ہو رہی ہے۔ تیونس اور مصر کی فوجوں کا رویہ اور بحرین میں تشدد کی وقتی لہر کے سوائے، ان ظالمانہ رویے سے بالکل مختلف ہے جو ایران اپنے ملک میں مظاہرین سے روا رکھتا ہے۔ گیٹس نے مزید کہا کہ ان انقلابات کے مکمل اثرات جاننے میں کئی ماہ اور سال لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی تبدیلی کا عمل شروع ہوا ہے اور اگر یہ تبدیلی تشدد سے پاک رہی جیسے کہ ان مختلف ممالک میں ہوا ہے اور اس نے جمہوری حکومتوں کو جنم دیا، تو خطے کے عوام اور ہر کوئی اس سے فائدہ اُٹھا سکے گا۔ ایڈمرل نے گیٹس کی مثبت خیالی کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے جب وہ خلیج عرب کے سات ملکوں کے دورے پر گئے تھے تو انہیں ان تبدیلیوں کے اثرات براہ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات جس کی وجہ سے میں ہم خیالی کی توثیق کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر ملک میں معاملہ اس ملک کی عوام کا ہی ہے۔ یہ ان ملکوں کے اندر کی تبدیلی کا ہے۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو خود کو ان تبدیلیوں کے مطابق چلنا ہو گا اور ان سے رشتے بھی بدلیں گے۔ میں پُرامید ہوں کہ یہاں استحکام کا ایک ایسا موقعہ میسر آ رہا ہے جو کم از کم چار ہفتے پہلے تک موجود نہیں تھا۔ گیٹس نے لیبیا کو مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج صدر باراک اوبامہ کو مختلف طریقہ کار پیش کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف لیبیا کے صدر معمر قذافی مظاہرین کو قتل کر کے بغاوت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع پہلے ہی بحیرہ احمر میں تعینات یو ایس ایس کیئرسرگ اور یو ایس ایس پونس کو بحیرہ روم پہنچنے کا حکم دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری ویسل ہمیں ہنگامی انخلا اور امدادی کارروائیوں کا موقع فراہم کریں گے۔ کیئرسرگ نے 1400 میرین افغانستان اتارے ہیں اور امریکہ کے مرکزی کمان کی ریزرو فورس کے طور پر کام کر رہا تھا۔ جہاز پر موجود جوانوں کی مدد کے لیے گیٹس نے امریکہ سے 400 میرینز کو کیئرسرگ کے مشن میں معاونت کے لیے روانہ کیا ہے۔ وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ یقیناً ہم مختلف کاروائیوں پر غور کر رہے ہیں لیکن کسی بھی قسم کی کارروائی پر ابھی عمل نہیں کیا گیا۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد سے فوج طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں مل جاتی اور نیٹو میں طاقت کے استعمال پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















