صفحہ اول | CJIATF435 | امن کی کونسل کے ارکان کا پروان کے قید خانے کا دورہ

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

امن کی کونسل کے ارکان کا پروان کے قید خانے کا دورہ
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435

پروان صوبہ، افغانستان 20 دسمبر 2010 - ہائی پیس کونسل کی ذیلی کمیٹی کے ارکان نے 19 دسمبر کو افغان امن اور اصلاح کے پروگرام کا پروان کے قید خانے میں دورہ کیا تا کہ قید خانے اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

دورے کے بعد ہائی پیس کونسل کے رکن رحمت اللہ وحید یار نے کہا کہ ہم ڈی ایف آئی پی کا دورہ کرنے کے موقعے فراہم کرنے کو سراہتے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں قیدیوں سے انسانی سلوک ہی کیا جاتا ہے۔

ڈی ایف آئی پی، ایک جدید ترین تھیٹر قید خانہ ہے جو قیدیوں کے محفوظ، انسانی اور موئثر بندوبست کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے اور قیدی چاہیں تو گروپ سرگرمیوں، تعلیمی اور تربیتی پروگراموں میں بھی شرکت کر سکتے ہیں۔

کونسل کے ارکان نے دورے کا آغاز کھیت سے کیا جہاں قیدی زرعی اور کاشت کی ٹیکنیکس سیکھ رہے تھے تا کہ رہائی کے بعد اپنے گاوں جا کر ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ قید خانے میں قیدیوں کو داری، پشتو اورانگریزی زبان کے علاوہ روٹی بنانے اور کپڑے سینے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ڈی ایف آئی پی میں قیدیوں کو دوبارہ سماج میں شامل ہونے کے قابل اور ان کی بحالی کے پروگرام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کونسل کے ارکان نے مختلف سوالات بھی کیے۔

اس کے بعد کونسل کے ارکان نے قیدیوں کو قید خانے میں لانے کا طریقہ کار جاننے کے لیے سروس برانچ کا دورہ کیا۔ ڈی ایف آئی پی میں اس کے طریقہ کار میں قیدیوں کی زاتی تفصیلات ایک کمپیوٹر میں شامل کی جاتی ہیں۔ بائیومیٹرک معلومات ہر انسان کی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اور انہیں افراد کی شناخت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس موقعے پر کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ یہ اچھی چیز ہے کیونکہ اس کے ذریعے آپ اچھے اور برے کی تمیز کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں کونسل ممبران نے قیدیوں کی رہائش کے حالات جاننے کے لیے ان کے ہائوسنگ یونٹس کا دورہ کیا۔ ڈی ایف آئی پی میں چار ہائوسنگ یونٹس ہیں جن کا انتظام جنوری 2010 میں دستخط شدہ یادداشتوں کے مطابق امریکی اور افغان افواج متعلقہ افغان وزارتیں چلا رہی ہیں۔ معاہدے کے تحت زمینی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈی ایف آئی پی کا انتظام افغان حکومت کے سپرد کیا جائے گا۔ افغان قومی فوج کی ملٹری پولیس نے جون میں ڈی ایف آئی پی میں کام کا آغاز کیا تھا۔

پروان اور پُلِ چرخی کی ملٹری پولیس بریگیڈ کو ڈی ایف آئی پی میں کام کرتے ہوئے دیکھ کر وحید یار کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ امریکی حکام فسیلیٹی کو افغانستان کے حوالے کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور انصاف افغان قوانین کے تحت ہی کیا جائے گا۔

ڈی ایف آئی پی میں کونسل کے ارکان کے دورے کا اختتام قانونی طریقہ ہائے کاروں اور پروان میں جسٹس سنٹر کے دورے پر ہوا۔ افغان ججوں نے جے سی آئی پی میں افغان قوانین کے تحت 28 قیدیوں کے مقدمات نپٹائے ہیں۔

ہائی پیس کونسل کا کام جرگے میں طے شدہ اہداف کے حصول پر عمل درآمد کی نگرانی کرتا ہے جس میں امن کا قیام اور باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ شامل ہیں اور یہ کونسل مذہبی رہنمائوں، قبائلی سرداروں، اراکین اسمبلی اور سابقہ جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔

ذیلی کمیٹی کا کام غلط معلومات یا ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر قید افغان شہریوں کی رہائی کو ممکن بنانا ہے۔ وحید یار نے حراست میں لینے کے معیار کے بارے میں سوالات کیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا دورہ نہایت معلوماتی تھا اور ڈی ایف آئی پی میں قید کے طریقہ کار اور پروگراموں کے بارے میں ان کے بہت سے شکوک رفع ہو گئے۔

ایچ پی سی ذیلی کمیٹی کے ارکان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بالخصوص لیگل آفس کے ذریعے ڈی ایف آئی پی کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں تاکہ قیدیوں کے اصلاح میں اپنی رائے شامل کر سکیں۔ ڈی آر بی میں تعین کیا جاتا ہے کہ آیا فلاں قیدی حراست میں رکھنے کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں اور یہ نظر ثانی جب تک کہ وہ قید میں رہیں کسی قیدی کے پروان قید خانے میں پہنچنے کے 60 روز کے اندر اور اس کے بعد ہر چھ ماہ کرنی لازمی ہوتی ہے۔ قیدیوں کو بیان دینے کے ہر موقعے میں شامل، معلومات دینے، گواہوں کو بلانے اور ان کے خلاف جمع کرائی جانے والی معلومات کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+