| طبی انخلا کا عملہ ایک خطرناک پکار کا جواب دیتا ہے |
منجانب Capt. Richard Barker and Sgt. Daniel Schroeder, 25th Combat Aviation Brigade Public Affairs
12 جنوری، 2012 کو ریڈیو پر ایک طبی انخلاء کے عملے کے لیۓ کال کی گئی، ایک 3سالہ افغان لڑکی کے لیۓ جو ایک بندوق کی گولی کے زخم اور بم کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئی تھی
طبی انخلا کا عملہ خطرناک پکار کا جواب دیتا ہے کیمپ ڈور، افغانستان (1 جون، 2012) – لڑائی کے دوران، جرات اور بہادری کے اعمال کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کبھی کبھار وہ نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی ان فوجیوں کی کہانی میں ہوا جنہوں نے مرین لانس کارپورل ونڈر پیریز کو بچایا۔ 12 جنوری، 2012 کو ریڈیو پر ایک طبی انخلاء، یا میڈ ایویک کے عملے کے لیۓ کال کی گئی، ایک سالہ افغان لڑکی کے لیۓ جو ایک بندوق کی گولی کے زخم اور بم کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئی تھی۔ اپنے موجودہ مشن کے اہلکاروں اور سامان کو اتارنے کے بعد، وہ اس جگہ کی طرف لوٹے تاکہ اس بچی کو نکالا جاۓ۔ ہدایت کی براہ راست فریکوئنسی پر زمین کے عملے سے رابطے کے بعد، زخمی بچی کو اٹھانے کی جگہ بدل گئی تھی۔ مریض کا پیہ لگانے کے لئے طبی انخلا کی درخواست اور محفوظ طریقے سے لینڈنگ کی توثیق کرنے کے بعد، لینڈنگ زون کا کنٹرولر ریڈیو پر آیا اور ایک اونچی اور گھبرائی آواز کے ساتھ کوئی چلایا کہ "مریض کے پاس ان پھٹا بارودی مواد ہے!" مریض کوئی لڑکی نہیں تھی، یہ پیریز نام کا فوجی تھا جس کی ٹانگ کے نچلے حصے میں ایک گرینیڈ نصب تھا. آر-پی -جی ابھی تک پٹھا نہیں تھا، مطلب ایک بھی غلط قدم سے وہ پھٹ سکتا تھا۔ " سارجنٹ رابرٹ ہارڈسٹی،سی کمپنی، فرسٹ بٹالین،171ویں فضائیاں رجیمنٹ، نیو میکسیکو نیشنل گارڈز، جو 25ویں فضائیاں کامبیٹ بریگیڈ کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا کے ساتھ ایک عملے کے چیف ہیں، نے کہا کہ "یہ کال مجھے زندگی بھر یاد رہے گی" ۔ " پہلے آپ لینڈ کرتے ہیں یہ سوچتے ہوۓ کہ یہ ایک چھوٹی بچی ہے اور پھر یہ پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک میرین ہے جس کے جسم میں ایک ان پھٹا آر-پی-جی پھنسا ہوا ہے۔" سپیشل مارک ایڈنز، جو سی/1-171 کے ساتھ ایک فضائی طبی عملے کے رکن ہیں، نے پیریز کے جسم میں پھنسے آر پی جی کو سب سے پہلے دیکھا۔ اس موقعے پر عملے کو فیصلہ کرنا تھا۔ میجر کرسٹوفر ہالینڈ، سی/1-171 کے کمانڈر نے کہا کہ خطرے کی سطح کی وجہ سے، اگر عملہ پیریس کو زمین پر چھوڑ جاتا اور اسے نہ اٹھانے کا فیصلہ کرتا، تو کوئی بھی ان کو قصوروار نہیں ٹھہراتا ۔ ہم سب سمجھ جاتے ۔ اس مشن کی کمانڈ کے ذمہ دار کیپٹن کیون ڈو، اور عملے کے پائلٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیریز کو لے کر ہی جائیں گے اگرعملے نے اس بات پر اتفاق کیا۔ ڈو نے کہا کہ اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں تھا کہ ہم اس مرین کو لے کر جائيں گے اور اس کی زندگی بچانے کے لئے ضروری طبی امداد مہیا کریں گے ۔ اس صورت حال میں يہ معلوم نہیں ہوتا کہ کوئی بھی لمحہ آپ کا آخری ہو سکتا ہے۔ مریض کی ٹانگوں سے اٹھارہ انچ دور ہوائی جہازوں کے لیئے 360 گیلن کا تیل تھا۔ عملے نے جتنی جلدی ہو سکا پیریز کو تیزی سے محفوظ طریقے سے وہاں سے نکالا، پیریز کو آر-پی-جی لگنے کے 24 منٹ بعد فارورڈ آپریٹنگ بیس ایڈنبرگ پر لینڈنگ کی۔ ڈو نے کہا کہ لانس کارپورل پیریز کو بلیک ہاک پر چڑھانے کے بعد، مجموعی طور پر 11.2 منٹ کی پرواز تھی جہاں پر ہر منٹ ایک گھنٹے کی طرح گزرا ۔ اس وقت کے دوران، ہم اپنے ساتھیوں سے ریڈیم پر ہم آہنگی پیدا کر رہے تھے، دھماکہ خیز مواد کی ٹیم اور طبی عملہ جو پیریز کے علاج کے لئے آ رہے تھے۔" عملے کی ہم آہنگی کام آئی۔ ہم آہنگی میں ہیلی کاپٹر کے مسلح افراد یہ بتانا کہ اپنی حفاظت کے لئے ایک اچھا فاصلے پر رہنا، آر پی جی کو نکالنے اور پھاڑنے کو ہینڈل کرنے کے لیۓ ای او کی ٹیم کو بلانا ، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ طبی عملہ اس بات سے آگاہ اور تیار تھا جس صورت حال سے وہ نمٹنے والے تھے، شامل تھا۔ آر پی جی کی خبر سننے کے بعد، طبی ٹیم نے اس کو مناسب طریقے سے نکالنے کے لئے ایک منصوبہ بنایا اور انھوں نے ضروری استعمال کی چیزیں جمع کیں جب انھوں نے لینڈنگ زون میں طبی انخلا کے عملے سے ملاقات کی۔ جب پیریز ایف او بی ایڈنبرگ پر پہنچے، وہ ایک محفوظ علاقے میں لے جایا گیا جہاں [آر پی جی کو] نکالنے کے لیۓ صرف ضروری اہلکار موجود تھے۔ لیفٹیننٹ کمانڈر جیمز جینری محکمے کے انچارج، سرجیکل کمپنی بی، سیکینڈ سپلائی بٹالین، نے دیکھا کہ پیریز کے زخم ان کی زندگی کے لیۓ خطرناک تھے۔ اگر ان کو طبی انخلا کی رفتار سے نہ لایا گیا ہوتا، تو وہ ان زخموں کے سبب مر چکے ہوتے۔ ان کے جسم سے بم نکالنے اور زخموں کو بند کرنے کے بعد، پیریز کو مزید دیکھ بھال کے لئے بیشن اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ اسی عملے جس نے ان کو میدان جنگ سے نکالا تھا وہ نے اسے اگلے اعلی طبی سہولت تک منتقل کیا۔ اگرچہ اب آر پی جی راؤنڈ پیریز سے میلوں دور تھا، ان کے اور عملے کے لیۓدیگر مسائل نے جنم لیا۔ ان کے وینٹیلیٹر نے پرواز کے دوران کام کرنا بند کر دیا جس سے ان کی آکسیجن کا بہاؤ رک گیا۔ اس وقت، ایڈنز اور ہارڈسٹی نے تیزی سے کام لیا اور دستی طور پر ان کو آکسیجن دینے اور اس میرین کو واپس مستحکم حالت میں لاۓ۔ گیناری نے کہا کہ استحکام کے بعد، میں ںے سپیشلسٹ ایڈنز اور سارجنٹ ہارڈسٹی کو ایک پرسکون، ٹھنڈے، اور پیشہ ورانہ طریقے سے اس مریض جس کو آکسیجن وینٹیلیشن کی مشین کے نقصان کے باعث دوسر مرتبہ ایک تباہ کن حالت کا سامنا کرنا پڑا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیۓ کام کرتے دیکھا ۔ مجھے واضح طور پر یاد ہے کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ڈسٹ آف اس مریض کو ہمارے پاس لانے میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے تھے، میں کم از کم اتنا کر سکتا تھا کہ اس چیز کو اس کی ٹانگ سے باہر نکالتا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















