صفحہ اول | خبریں | مکرسٹل نے امریکی فوج سے مثالی کردار کی درخواست کی ہے
مکرسٹل نے امریکی فوج سے مثالی کردار کی درخواست کی ہے
منجانب , American Forces Press Service

جنرل اسٹینلے مکرسٹل نے درخواست کی کہ امریکی دستے تعیناتی کے عرصہ میں اپنے افغان ساتھیوں کے لئے مثال بنے رہیں۔ ایس پی سی۔ برینڈن جون افغان قومی پولیس کے ایک کارکن کو ایف او بی ریمروڈ میں میدان جنگ کی مشق کے دوران سیکھا رہے ہیں۔
واشنگٹن (2 مارچ 2010) – مزید امریکی اور اتحادی دستوں کی افغانستان میں آمد کے موقع پر ان کے اعلیٰ افسر نے ان سے کچھ گزارشات کی ہیں کہ وہ اپنے ہر عمل کے اثرات کا جائزہ لیں، اور جب افغان سیکوریٹی فورسز اپنے رہنما چُنیں تو اپنی صفوں کو بدعنوانی سے پاک کرنے میں مصروف عمل ہوں تاکہ ان کے لئے اپنے کردار سے ایک مثال قائم کرسکیں۔

فوجی جنرل اسٹینلے مکرسٹل نے امریکی دستوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی توجہ مشن پر مرکوز کریں اور یاد رکھیں کہ یہ جنگ روایتی نہیں ہے۔ مکرسٹل نے افواج کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن رپورٹر گیل میکیب سے انٹرویو کے دوران کہا کہ "یہ روایتی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ عوام کے لئے لڑی جا رہی ہے،" ۔ اس جنگ کے مقاصد عوام کی حفاظت اور اس عمل کے دوران حکومت کے لئے ان کی حمایت حاصل کرنا ہیں۔"

 

مکرسٹل نے کہا کہ "عدم اعتماد" کی کیفیت جو افغان عوام کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے، اب ہمارا مشن افغان حکومت، اتحادی اور افغان سیکوریٹی فورسز کی حمایت کے لئے دوبارہ اعتماد بحال کروانا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ "آپ ٹوپی ڈرامہ کر کے ایسا نہیں کرسکتے، بلکہ اس کے لئے آپ کو حقیقی اقدامات کرنا ہوں گے۔"

 

"امریکی اور اتحادی دستے اگر اس مقصد کو ذہن میں رکھ کر کارروائی کریں تو موثر ترین ثابت ہوسکتے ہیں۔ ذہانت کے ساتھ طاقت استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت اور اضافی نقصان کی شرح کم کرنا بھی اسی مقصد کا حصہ ہے۔"

 

انہوں نے زور دیا کہ امریکی افواج کا "نہ صرف یہ حق بلکہ ذمے داری ہے کہ انہیں اپنے اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے جن ذرائع کی ضرورت ہو وہ بلا دریغ استعمال کریں" مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے "وسیع تر منظر" پر نظر رکھنے کی درخواست کی کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں اس کے ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا: "اگر ہم [افغانیوں] کی حمایت حاصل نہ کرسکے تو ہم کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ اس لئے ہماری طرف سے کیا جانے والا ہر عمل ِاسی سیاق و سباق میں ہونا ضروری ہے۔"

 

"غیر معمولی کارنامے انجام دیتے ہوئے بہادری کے ساتھ لڑنے اور مرنے"  والی افغان سیکوریٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے مکرسٹل نے کہا کہ افغان قومی آرمی اور افغان قومی پولیس کو ابھی اور سربراہوں کی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے کہا: "ان کے پاس سربراہ بہت اچھے ہیں مگراُن کی تعداد تسلی بخش نہیں ہے۔" اس کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو تربیت کاروں کی افغان قومی سیکوریٹی فورسز کے درمیان موجودگی سے سربراہوں میں اضافے کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔

 

مکرسٹل نے امید ظاہر کی کہ نئے دستے افغانیوں کی مدد کریں گے تاکہ وہ اپنی صفوں میں سے بدعنوانی ختم کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ "بدعنوانی وہ کینسر ہے جس کو ختم نہ کیا گیا تو یہ فوج کو ختم کر دے گا۔ سربراہ اس حقیقت سے واقف ہیں اور وہ اس کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں اور ہم ہر ممکنہ طریقے سے ان کی مدد کریں گے۔"

 

مکرسٹل نے بدعنوانی کو افغان حکومت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا: "میرے خیال میں یہ غالباً بغاوت سے بد تر ہے، حالاں کہ بغاوت فوری طور پر واضح ہو جاتی ہے جب کہ بدعنوانی آہستہ آہستہ مُلک کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔"

 

انہوں نے امریکی اور اتحادی دستوں سے کہا کہ افغانیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے خود کو دیانت داری کی مثال بنایں، اور جہاں کہیں بدعنوانی نظر آئے، نہ صرف اِس کی نشاندہی کریں بلکہ اس کی درست راہ نکالیں۔

 

ہم اس لئے افغانستان میں نہیں آئیں ہیں کہ کھڑے کھڑے بدعنوانی دیکھتے رہیں اور اس کی رپورٹ نہ بھیجیں بلکہ ہمیں بدعنوانی کو منظر عام پر لانا ہے۔" انہوں نے کہا: "ایک مثال بنئیۓ۔ ایک دوسرے کو سکھائیے، [بہلائیے] اور اس کی رپورٹ کرنے کے لئے ہر ایک مختلف طریقہ استعمال کیجیۓ۔

 

مکرسٹل نے کہا: "بالآخر بدعنوانی کا حل افغانی ہی نکال سکتے ہیں، ہم یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتے یہ مسئلہ اِنہی کو حل کرنا ہوگا، مگر ہمیں مدد فراہم کرنی ہوگی، ہمیں دباؤ ڈالنا ہوگا اور بدعنوانی کا تعاقب کرکے اِن کو سہارا دینا ہوگا۔"

 

مکرسٹل نے کہا کہ اپنے عہدے پر تقریباً ایک برس گزارنے کے بعد وہ مانتے ہیں کہ ان کی ٹیم "اپنے کام سے مانوس ہو رہی ہے" اور ذاتی و پیشہ وارانہ تعلقات قائم کرنے کے ساتھ ساتھ جو قبولیت امریکی حکمت عملی کے لئے ضروری ہے وہ حاصل کررہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کامیابی کا پیمانہ بالآخر افغانیوں کو ملنے والی رائے عامہ کی آزادی ٹھہرے گا جب وہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کس طرح کا ملک چاہتے ہیں، تب ان کا ملک روزمرہ زندگی کی پریشانیوں اور حکومت کی ترجیحات پر اثرانداز ہونے والے عسکریت پسندوں سے آزاد ہو گا۔

 

مکرسٹل نے کہا: "اس کے بعد ہی، میں سمجھتا ہوں کہ ہم خود کو کامیاب قرار دے سکتے ہیں۔ اِس لمحے ہمارے افغان شریک کار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں گے۔"

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+