صفحہ اول | خبریں | مکرسٹل کا افغانستان میں ترقی کا مشاہدہ
مکرسٹل کا افغانستان میں ترقی کا مشاہدہ
منجانب , American Forces Press Service

استنبول (فروری 4، 2010) – اگرچہ اہم نیٹو اور یو ایس کمانڈر افغانستان میں ان فوجیوں کو جو کہ طالبان کے زیر قبضہ مشکل ترین علاقوں میں پیش قدمی کے لیۓ تیار کر رہے ہیں،  یہ نہ کہ سکے کہ بد ترین حالات گزر چکے ہیں، البتہ انہوں نے یہ کہا کہ اب حالات مزید خراب نہیں ہو رہے ہیں۔

 انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس اور یو ایس افغانستان فورس کے کمانڈر آرمی جنرل سٹینلے مکرسٹل نے کہا "میں یہ نہیں بتا رہا ہوں کہ اب حالات میں مکمل تبدیلی آ چکی ہے، بلکہ میں یہ کہ رہا ہوں کہ حالات واقعی میں کافی سنجیدہ ہیں۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہم نے 2009 میں حالات کو بہتر بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے، اور۔۔۔2010 میں ہم اصل ترقی حاصل کریں گے۔" 

جنرل نے ان اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیا جو کہ وزیر دفاع رابرٹس گیٹس کے ساتھ استنبول میں اتحادی وزراء دفاع کے اس اجلاس میں شرکت کے لیۓ آے تھے جس میں یہ طے پانا تھا کہ مزید کتنے وسائل درکار ہیں، اور اگرکوئ درکار ہوۓ تو وہ اس میں کتنا حصہ افغانستان کی جنگ کے لیے مخصوص ہو گا ۔ 
 

پچھلی گرمیوں میں مکرسٹل نے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاؤس یہ کہتے ہوۓ کہ حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، ایک تلخ وضاحت کی اور کہا کہ طالبان کا اثر رسوخ بڑھ رہا ہے اورافغانستان کے لوگوں کا  امریکی کوششوں پر سے اعتبار کم ہو رہا ہے۔

صدر براک اوباما نے ایک نئی تعمیر کردہ حکمت عملی کا حکم دیا تھا، جس میں تبدیلی کے حصے کے طور پر، اوباما نے ان گرمیوں تک 30،000 مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔  
 

مکرسٹل نے 2010 کو ایک اہم سال قرار دیا، جس میں شدت سے مطلوب فوجی اتنی تیزی سے ملک میں آیئں گے جتنی تیزی سے ان کے لۓ اڈوں اور عمارتوں کی تعمیر ہو سکے گی۔ ان گرمیوں کے آخر مین جب یہ تمام فوجی آ جائیں گے تو امریکی فوجیوں کی تعداد 100،000 تک ہو جاۓ گی۔  افسران نے کہا کہ نیٹو نے بھی 9000 فوجیوں کا وعدہ کیا ہے، لیکن آئ ایس اے ایف کو ابھی بھی 4،000 مشیروں اورتربیت کے لیۓ فوجیوں کی کمی ہے ۔

64 مشیروں کی ٹیمیں اس وقت افغانستان کے پانچوں خطوں میں کام کر رہی ہیں۔  آئندہ چند مہینوں یں 80 مزید ٹیموں کے آنے کی امید ہے، مگراس سال سیکیوریٹی فوجوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ 20 مزید ٹیموں کی ضرورت ہو گی۔
 

مکرسٹل کی افغانستان کی ترقی کے بارے میں پیشن گوئ اس وقت سامنے آئ ہے جب اتحادی فوجیں مرکزی ہلمند صوبے، کے ان حصوں میں اتحادی اور افغانی فوجی اکٹھے کر کے تشدد پسندوں کے خلاف ایک بڑی کاروائ کی تیاری کر رہے ہیں ، یہاں آئ ایس اے ایف نے ابھی کاروائ نہیں کی تھی۔ یہ فوجی کمانڈر کا طریقہ نہیں ہوتا کہ وہ عام طور پر کاروائ  سے پہلے اس کے بارے میں اعلان کریں مگر جنرل نے کہا کہ وہ اس کے زریعے ایک پیغام بھیجنا چاہ رہے تھے۔

"ہم افغان لوگوں کو ہی اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے علاقے میں سیکیوریٹی کو بڑھا رہے ہیں۔ ہم تشدد پسندوں کو بھی یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں ۔۔۔کہ اب تبدیلی آنے والی ہے،"  مکرسٹل نے کہا۔

جنرل نے یہ بھی کہا کہ وہ طالبان اور دوسرے ان تشدد پسندوں کو جو لڑنا نہیں چاہتے یہ موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔ "اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو ظاہری طور پر یہ ہی نتیجہ نکلے گا۔ لیکن اگر انھوں نے نہ لڑنے کا ارادہ کیا تو وہ بھی ٹھیک ہے۔" ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ ہم نے کتنے طالبان مارے ہیں بلکہ ہم یہ پسند کریں گے کہ طالبان ناگزیرکو دیکھیں اوریہ قبول کریں کہ اب تبدیلی آ رہی ہے۔"  جنرل نے کہا کہ وہ اس کاروائ کو "اگلا قدم" تصور کرتے ہیں جیسے جیسے نیٹو فوجیں افغان نیشنل سیکیوریٹی فورسز کے حجم اور استعداد کو وسعت دینے کے لۓ کام کر رہی ہیں۔

پچھلے چند مہینوں میں، مکرسٹل نے کہا، آئ ایس اے ایف نے اندرونی کمانڈ میں تبدیلیاں کی ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ، وزارت سے لے کر مقامی سطح تک شراکت شروع کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ترقی ہو رہی ہے اب جب حکومت سیکیورٹی کی فراہمی کی منصوبہ بندی کو براہ راست مخاطب کررہی ہے ۔

مکرسٹل نے کہا کہ افغان فوجوں مین بھرتیوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود  چھوڑ جانے والوں کی تعداد میں افسران کے نہ چاہتے ہوئے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اس تعداد میں اب کمی آ رہی ہے۔ جنوری اور فروری میں 11،000 سے زائد ممبر بنے تھے۔
 

دسمبر تک، افغان فوجوں کے پاس 100،000 سے زیادہ فوجی تھے، اور افسران اس تعداد کو اکتوبر 2011 تک بڑھا کر 171،000 کرنا چاہتے ہیں۔ دسمبر تک افغان پولیس کے پاس 100،000 تک کی نفری تھی، اور افسران اس تعداد کو اکتوبر 2011  تک 134،000 تک لے جانا چاہتے ہیں۔

مکرسٹل نے کہا کہ افغان حکومت فوجوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ مہارت کو بھی ترقی دینا چاہتی ہے۔ افغان ملٹری اکیڈمی ایک چار سالہ کورس کی جماعت کے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور ّولیس اکیڈمی نے تین سالہ تربیتی پروگرام کے بعد جماعت کو فارغ کیا ہے۔  اس سے پہلے صرف ایک چوتھائ افغان نیشنل پولیس نے رسمی تربیت حاصل کی تھی۔ اس تربیت کا اب تمام ملک میں ایک معیار قائم ہو گا۔ افغان پولیس کی تربیت کے قیادت کے انتظام کے لیے اٹھ رہے ہیں۔

عملی قابلیت ایک مسلہ ہے، مکرسٹل نے کہا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھرتی شدہ تربیت کے قابل نہیں ہیں۔

"بے علم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ذھین نہیں" انھوں نے کہا، "اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ کو لکھنے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔"  طالبان بھی تو ان پڑھ ہیں۔

تاہم
خواندگی کے مسائل بھرتی شدہ لوگوں کو جدید آلات کی تربیت کو مشکل بنا دیتے ہیں" جنرل نے اعتراف کیا۔ تاہم، انھوں نے کہا، فوجوں میں علم کی مہارت کو بڑھانے کے لۓ پروگرام مرتب کۓ جا رہے ہیں۔

مکرسٹل نے مشاہدہ کیا کہ افغان لوگ دھایئوں کی جنگ حتم ہونے کو دیکھنے کے لۓ تیار ہیں اور 2010 کو "غیر معمولی طور پراہم سال" قرار دیا جائے گا۔ جنرل نے 2011 کی موسمِ گرما  امریکی فوجوں کے انخلاء کے شروع ہونے کی قریب آتی تاریخ، کے بارے میں پیشن گوئ کی کہ افغان سیکیوریٹی فورسز کی تعداد میں اہم اضافہ ہو جائے گا۔
امریکی فوجی کتنی تعداد میں اور کتنی تیزی سے افغانستان سے روانگی کرتے ہیں، مکرسٹل نے کہا، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اب سے لے کر اس وقت تک کتنی ترقی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ "میں یہ کہنے کو تیار نہیں ہوں کہ ہم جیت رہے ہیں۔ میں یہ کہنے کو تیار ہوں کہ ہم پوری طرح مشغول ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس سال میں ہم اہم ترقی دیکھیں گے۔"

اس ترقی کی ایک قیمت دی گئ ہے، مکرسٹل نے اعتراف کیا۔

" ہم نے جو ترقی نے کی ہے اس کی قیمت ہم ادا کر چکے ہیں،" جنرل نے کہا۔ "ہم نے اس کی قیمت فردا فردا چکائی ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+