| مرینزاور ملاحوں کی افغان عورتوں اور بچوں کو طبی امداد کی فراہمی |
منجانب Cpl. Megan Sindelar, Regimental Combat Team 7 شئیرمتعلقہ خبریں
مارجہ، افغانستان (21 جولائی، 2010) – افغان ثقافتی روایاتیں عورتوں کے طبی علاج معالجے کو انتہائی مشکل بنا سکتی ہیں اور ان کو صوبہ ہلمند کے لشکر گاہ کے دارالخلافہ اور یہاں تک کہ ملک کی سرحدوں کے پار پاکستان جانے پر مجبور کرتی ہیں۔ 5 جولائی کو افغانی معاشرے کے اس حصے کی زندگی کا معیار بلند کرنا اور ان کو صحت کی سہولیات باہم پہنچانے کے لیۓعورتوں پر مشتمل مرینز اور ملاحوں کی ایک ٹیم مارجہ کے دس دن کے دورے کی مہم پر اس لیے نکلی تاکہ افغان لوگوں تک طبی سہولیات پہنچا سکے۔ اس طبی مقصد کے لیۓ ملاقات کے ذریعے خواتین پر مشتمل ٹیم نے بہت سی افغان عورتوں کو پہلی دفعہ طبی سہولیات فراہم کیں ہیں۔ اس ٹیم میں رجمنٹل لڑاکا ٹیم 7 خواتین پر مشتمل مرینز انگیجمنٹ ٹیم اور لڑاکا نظامی بٹالین 5 کا طبی عملہ شامل تھا جنہوں نے مارجہ میں چار جگہوں پر دو، دو دن کے طبی خیمے لگاۓ تھے۔ طبی افسران اور کورمین نے 97 مریضوں جن میں سے بیشتر عورتیں اور بچے تھے انکا علاج کیا۔ پہلی جگہ: ابتدائی مایوسی 5 جولائی کو ٹیم دیر شام سے لڑاکا آؤٹ پوسٹ کوٹو پر پہنچنے کے بعد خیمے میں اپنے عارضی بستروں پر سو گئی تاکہ اپنی پہلی طبی ذمہ داری سے پہلے آرام اور شدید ضروری نیند حاصل کی جا سکے۔ اگلے دن اپنے دو خیمے لگانے اور طبی آلات کو تیار کرنے کی جدوجہد کے بعد مرینز نے مریضوں کے آنے کا سات گھنٹوں تک انتظار کیا۔ ان کو یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ کوئی بھی وہاں نہیں آ رہا تھا اورانھوں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دن مرینز یہ امید کرتے ہوۓ واپس آئے تاکہ طبی امداد کے ضرورت مند افغانی شاید وہاں پر آہی جائیں۔ سی ایل بی-5 کے طبی آفیسر بحریہ لیفٹیننٹ ہیسن ہاہن نے کہاکہ اگر ہم ایک شخص کو بھی وہاں پاتے تو یہ فتح کے برابر ہوتا۔ 13 لوگ وہاں پر پہنچے اور یہ دن کامیاب رہا۔ مرینز دونوں خیمے اتارنے اور طبی آلات سمیٹنے کے بعد اگلی صبح کی روانگی سے پہلے آرام کے لیۓ سی او پی واپس چلے گۓ۔ دوسری جگہ : مذید دو چار مرینز 7 جولائی کو صبح سویرے کے کانواۓ پر چڑھ گۓ جو کہ سی او پی رائیلی کی طرف جا رہا تھا۔ شام کو وہاں دیر سے پہنچے کے بعد انھوں نے اپنی نئی جگہ کو تیار کرنے سے پہلے آرام کیا اور سو گۓ۔ مرینز صبح تقریباً 6 بجے اٹھے تیار ہو کر باہر نکلے اور ایک دفعہ پھر اپنے طبی خیموں کو تیار کرنے کے لیۓ چل پڑے۔ اس جگہ پر پہلے دن پانچ افغانی آۓ، جن میں ایک چھوٹی افغان بچی بھی شامل تھی جس کا تمام جسم خوفناک قسم کی خارش سے بھرا ہوا تھا۔ یہ خسرے کی طرح معلوم ہوتی تھی لیکن اس کے پاؤں پر سے کھال اتنی بری طرح اتر رہی تھی کہ وہ چل بھی نہ سکتی تھی۔ لانس کارپورل وین یومول ایک خاتون انگیجمنٹ ٹیم کی رکن نے کہا کہ مجھے اس پر بہت ترس آیا کیونکہ وہ بہت تکلیف میں معلوم ہوتی تھی۔ مرینز نے اپنے خیمے سمیٹنے اور سیاپین پٹرول اڈے کی طرف جاتے ہوۓ کانواۓ پر چڑھنے سے پہلے چھ مذید افغانیوں کا علاج کیا۔ تیسری جگہ: آگے بڑھنے میں مشکل 11 جولائی کو سیا پین پہنچنے پر مرینز اپنا سامان شیلٹر کے نیچے پھینکنے کے بعد اور سیدھے اگلی جگہ کے لیۓ روانہ ہو گۓ اور ایک شدید صحرائی طوفان نے ان کو آ گھیرا اور ان پر ٹوٹے پھوٹے سامان کا ڈھیر لگا دیا۔ انھوں نے جب تک کہ کلیاں اور ریت کی بوریاں اس کو سہارنے کے لیۓ نہ لائی گئیں، خیمے کے ہر سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ مرینز یہ جانتے ہوۓ کہ گاؤں والے اسی صحرائی طوفان میں ان کے پاس نہیں آئیں گے واپس پٹرول چھاونی پر چلے گۓ۔ ٹیم کے لیۓ اگلے دو دن بہت کامیاب رہے اور انھوں نے تقریباً 70 مریضوں کو خیموں کے اندر آتے دیکھا۔ مرینز کئی گرو میں بٹ گۓ اور کچھ طبی سہولت کی جگہ میں داخل ہونے سے پہلے افغانیوں کی تلاش میں نکل گۓ اور کچھ بچوں کے ساتھ کھیلنے اور پشتو بولنے لگے جو کہ انھوں نے اپنی تربیت کے دوران سیکھی تھی۔ یومول جو کہ لاس اینجلس کی پیدائشی ہیں اُنھوں نے کہا کہ ہم نے خاندانوں کے ساتھ بہت اچھے مراسم قائم کیے ہیں اور یہ مراسم یہاں سے صرف مزید بہتری ہی کی طرف جا سکتے ہیں۔ جب بچوں کی مائیں علاج وصول کرنے میں مصروف تھیں یومول اور ٹیم کے دوسرے ارکان نے اس دوران کھلونے اور کھانے پینے کی چیزیں بانٹیں، کچھ بچے مرینز کے کیولر ہلمٹ پہن کر ہنستے ہوۓ ارد گرد دوڑدتے رہے۔ ہاہن نے کہا کہ ان کو یہاں آ کر ہم سے مل کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ یہاں ذیادہ خواتین ڈاکٹر موجود نہیں تھیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم نے افغانی خواتین کو اپنے آپ سے مانوس کرا لیا ہے اور وہ ہماری وہاں پر موجودگی کی شکر گزار تھیں۔ چوتھی جگہ: مذید ترقی، بہتر تعلقات طبی انگیجمنٹ دورے کا آخری ٹھراؤ لڑاکا آؤٹ پوسٹ سستانی تھا جہاں پر لیما کمپنی، 3 بٹالین، 7ویں مرین رجمنٹ مرینز ٹیٹوں میں کام کرنے کی بجاۓ کام کے لیۓ ایک عمارت کو پا کر بہت خوش ہوۓ۔ مرینز نے جو دو دن وہاں پر گزارے ان میں دس مریضوں کا علاج کیا۔ انھوں نے ذیادہ افغان مرد اور بچوں کو کھیتی باڑی کی وجہ سے دردوں کی شکایات کے لیۓ دیکھا۔ ایک عورت کوبہت ہی خوفناک قسم کا پھوڑا نکلا ہوا تھا اور اس کو ریڑھی میں ڈال کر وہاں تک لانا پڑا۔ اینیڈ اوکلاہوما کی ہاہن نے محسوس کیا کہ ان کی ٹیم نے مقامی ضرورت مندوں کو شاندار طبی امداد پہنچائی۔ انھوں نے کہا ہم نے یقینی طور پر ایک مثبت اثر چھوڑا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















