صفحہ اول | خبریں | افغان پولیس کے سپاہی کی جان بچاتے ہوئے بحری فوج کے سپاہی نے جان دے دی
افغان پولیس کے سپاہی کی جان بچاتے ہوئے بحری فوج کے سپاہی نے جان دے دی
منجانب Sgt. Mark Fayloga, RCT-7
 100827marine
تیسری رجمنٹ کی تیسری بٹالین کی کیلو کمپنی کےایک گرینیڈ چلانے والے لانس کورپورل جوشوا لیونتھال سارجنٹ جو ایل ـ رائٹسمین کی میدان جنگ کے کراس کو 30 جولائی کو گشتی اڈے جیکر، افغانستان میں ایک یادگاری تقریب میں جوتے اور شناختی علامت رکھ کر مکمل کررہے ہیں۔ رائٹسمین 18 جولائی کو ایک جنگجو کارروائی کی مدد کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

گشتی اڈہ جیکر، افغانستان (24 اگست، 2010) – 18 جولائی کو دریائے ہلمند میں افغان پولیس کے ایک  ڈوبتے ہوئے سپاہی کو بچانے کی کوشش میں کورپورل جو رائٹسمین نے اپنی جان دے دی اور جبکہ آخر کار دونوں شدید لہروں کا نشانہ بن سکتے تھے، رائٹسمین کی کوششیں بیکار نہیں گئیں۔

رائٹسمین کے دستے کا مشن ایک ایسے علاقے میں علاقائی جاسوسی کیلیے گشت کررہا تھا جسکے بارے میں یہ خبر تھی کہ یہاں دشمن فوجیں موجود ہیں اور شاید ہی دستے میں موجود کسی نے دستے کے قائد سے زیادہ ایک ممکنہ لڑائی کےبارے میں سوچا تھا۔ رائٹسمین نے ایک چنا ہوا پیادہ فوج کا سپاہی اور ایک پختہ کار جنگجو تھا اور ان تمام سالوں کے دوران اپنی چوتھی تعیناتی پر تھا۔  

افغانستان میں دو ماہ سے زاید قبل پہنچنے کے بعد سے رائٹسمین اپنے سپاہیوں سے موقعوں پراس کام کے بارے میں بات کرنے کیلیے جو وہ کررہے تھے، وقت نکالتا تھا۔ تیسری بٹالین کی تیسری رجمنٹ شاید اتنی حرکت نہیں دیکھ رہی تھی جتنی کہ علاقے کی دوسری بٹالین نے دیکھی تھی مگر وہ چاہتا تھا کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک اچھا کام کررہے ہیں۔ آج اگرچیکہ ایک  بڑی  لڑائی کا موقعہ تھا – جو کہ ہر غصَے سے بھرے ہوئے کا خواب ہوتا ہے، رائٹسمین پرجوش تھا اور اسکے کام کے اصولوں اور مسکراہٹ کی طرح یہ جوش بھی چھوت کی طرح لگنے والا تھا۔

ایک کیلو کمپنی کے ٹیم کے قائد، لانس کورپورل مائیکل بارن ہاؤس جسکی رائٹسمین  دو سال سے زیادہ سرپرستی کرچکا تھا نے کہا کہ وہ بالکل ایسا ہی تھا اور بحریہ کی فوج اسکی زندگی تھی۔

دستہ وقت کی میعاد میں تھا اور جب یہ اندازہ لگایا گیا کہ وہ شاید وقت پر پہلے چیک پوائنٹ تک نہ پہنچ پائیں گے، رائٹسمین نے موڈ کو بہتر بنانے کیلیے ایک لطیفہ سنایا۔ وہ ہمیشہ یہی کیا کرتا تھا شگوفے چھوڑنا اور بیکار باتیں کرنا۔ وہ چاہتا تھا کہ اسکے سپاہی ارام سے مگر سرگرم رہیں۔ وہ یہ جانتا تھا کہ کب کھیلنا ہے اور کب کام کرنا ہے۔

بارن ہاؤس نے کہا کہ وہ ہم سب کیلیے ایک باپ کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ ہمیں اپنے سائے میں رکھتا تھا اور اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی۔  اگر ہم سے کو ئی غیطی ہوتی تو وہ ہمارے اوپر چلاتا نہیں تھا بلکہ ہمیں بتاتا تھا کہ ہم نے کیا غلطی کی ہے اور اسکو کیسے سدھارا جائے۔

لوگ چیک پوائنٹ پر وقتسے پہلے ہی پہنچ گئے۔ رائٹسمین نے اپنے لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے یہ سکھایا تھا کہ کس طرح ہر چیز کو ایک چھوٹا سا مقابلہ بنادیا جائے اور جب وہ پیچھے رہ رہے ہوتے تو یہی ذہنیت انکے کام آتی تھی۔

رائٹسمین کے ایک اور سپاہی لانس کورپورل تھامس مورٹن نے کہا کہ وہ ہمیشہ سب سے پہلے ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ ہمیشہ ہم پر مقابلوں میں دوسرے دستوں کو شکست دینے کیلیے زور دیتا تھا اور اس سے ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ ہم کوئی مختلف شے ہیں۔ ہم ایک طرح کے سنہرے بچے تھے۔

سپاہی دریائے ہیلمند کی طرف بڑھتے گئے۔ بارن ہاؤس کی جنگجو ٹیم گشت پر تھی مگر رائٹسمین دریا کو پہلے پار کرنے کیلیے آگے بڑھا۔ وہ اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھا کہ دریا محفوظ تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے سپاہیوں کی دیکھ بھال کرتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ بٹالین کے آبائی اسٹیشن ہوائی میں بھی وہ مستقل اپنے دستے کے لوگوں کی تمام غلطیوں کو اپنے سر لیتا رہتا تھا اور انکے نظم و ضبط کو قائم رکھتا تھا۔

لارنس کورپورل مائیکل شاء نے کہا کہ وہ کبھی کسی کو ہمارے اوپر آنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اس نے ہمیشہ ہمارا خیال اس سے زیادہ رکھا جو بظاہر وہ اپنے لیے رکھتا تھا۔

رائٹسمین نے  پانے دستے کو بتا یا تھا کہ وہ ایک اچھا پیراک نہیں تھا۔ بہت ساری چیزوں کی طرح وہ اسکو بھی مذاق میں لیتا تھا۔ مگر اسکے دستے کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا کہ جونز بورو، لوزیانا کا 23سالہ رہائشی پانی سے کتنا ڈرتا تھا۔ وہاں ہوائی میں ایک دستے کے قائدین کے کورس میں شرکت کے دوران رائٹسمین اور اسکے ساتھی طالب علم پول میں جسمانی تربیت کے دورانیے کیلیے جاتے تھے، وہ ہمیشہ اس بات کو پسند کرتا تھا کہ اسے دو مرتبہ زمین پر پٹخ دیا جائے بجائے تاکہ اسکو پانی میں پاؤں نہ ڈالنے پڑیں۔

مگر رائٹسمین نے کبھی خوف کو اپنے ساتھیوں کی دیکھ بھال میں رُکاوٹ کی اجازت نہیں دی۔ اس نے دریا کو پہلے پار کیا۔ وہ تیر کر پہلے پار اترا اور پھر دوسرے اسکے پیچھے گئے۔ بارن ہاؤس کی ٹیم نے پھر پوزیشن سنبھالی مگر دریائے ہیلمند موڑکھاتا ہے اور بل کھاتا ہے۔ زیادہ دیر نہیں گذری کہ دستے کو دوبارہ پار کرنے کی ضرورت پڑی۔ رائٹسمین نے ایک مرتبہ پھر قیادت سنبھالی۔ اس مقام پر دریا کی لہریں زیادہ شدید تھیں۔ عبور کرنے کے مقام پر دریا کی گہرائی ٹخنوں  سے اوپر کمر تک آگئی۔  تاہم رائٹسمین نے اسکو عبور کرلیا اور دستے کے باقی لوگوں نے جوڑوں کی شکل میں عبور کرنا شروع کیا۔  

رائٹسمین کے پیچھے اگلے دو ایک مترجم اور ایک افغان پولیس کا سپاہی واحداللہ فدا محمد تھے۔ سپاہی اکثر افغان قومی پولیس کی شراکت داری میں گشت کیا کرتے تھے اور انہوں نے واحداللہ کے ساتھ آنا پسند کیا۔ وہ اسکو تربوز کا بادشاہ کہا کرتے تھے اسکی اس خصوصیت کی وجہ سے کہ گشت میں  وقفے کے دوران وہ کہیں سے بھی تربوز پیدا کرکے لے آتا تھا۔

واحداللہ  اور مترجم نے دریا کو وسط تک عبور کیا تھا کہ دونوں علیحدہ ہوگئے۔  لہر بہت شدید تھی اور دریا کی تہہ مٹی اور چٹانوں کی بنی ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ بحری سپاہیوں کو بھی اپنے جنگی سامان کے بوجھ تلے دبے ہوئے ، اکثر اوقات دریا کی تہہ کے کھنچاؤ سے بچنے میں مشکل ہوتی تھی۔

تربوز کا بادشاہ کوئی لمبا چوڑا آدمی نہیں تھا۔ اس نے لہروں سے مخالف لڑتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر دریا میں مزید دھنستا چلا گیا۔ رائٹسمین واحداللہ کو کنارے تک آنے میں مدد کیلیے دوبارہ دریا میں اترا۔

ایک اور سپاہی سوائے سطح کے اوپر ایک ہاتھ کے دریا کو عبور کرتے ہوئے ٹکرا کر مکمل طور پر دریا میں غائب ہوگیا۔ سپاہیوں نے اسکی مدد کرتے ہوئے اسکو کھینچ کر باہر نکالا اور پھر تمام لوگوں نے دریا سے باہر واپسی شروع کردی سوائے رائٹسمین کے۔ وہ واحداللہ کی مدد کیلیے مستقل پانی میں ہچکولے کھاتا رہا۔

رائٹسمین بہتے ہوئے پولیس کے سپاہی تک پہنچ گیا اور اسکو پانی سے باہر کھینچ رہا تھا کہ اچانک دونوں مکمل طور پر غائب ہوگئے –  دریائے ہلمند نے انکو نگل لیا۔

بارن ہاؤس نے اپنے سرپرست کو غائب ہوتا دیکھنے کے بعد فوراً اپنا تمام سامان اتارا اور پانی کی طرف روانہ ہوا۔ دریا میں 25 میٹر چلنے کے بعد بارن ہاؤس نے رائٹسمین کا سر پانی سے باہر دیکھا۔ اسکے سر پر اسکا خَوَد نہیں تھا جب اسنے پکارا کہ میری مدد کرو۔

یہ آخری وقت تھا جب بارن ہاؤس نے اسے کبھی بھی دیکھا۔

وہ پاگلوں کی طرح اس طرف تیرا جہاں رائٹسمین نمودار ہوا تھا اور اسکے پیچھے دریا کے نیچے کی طرف تیرتا رہا۔ بارن ہاؤس نے دریا میں جدوجہد کی۔ جب وہ تیرنے کی کوشش کررہا تھا اسکے جوتے اسکو نیچے کی طرف کھینچ رہے تھےاور اسکی یونیفارم پانی کو کھینچ رہی تھی اور مزاحمت کررہی تھی۔ اسکو پانی کے اوپر رہنے میں مشکل ہورہی تھی اور اسنے ساحل کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا مگر  کامیاب نہ ہوسکا۔ وہ پانی سے شکست کھا گیا۔

اس نے کہا کہ میں یہ نہیں جانتا کہ میں  کتنی دیر پانی کے اندر رہا مگر میں اس قابل ہوگیا کہ اپنا سر پانی سے باہر واپس نکال سکوں اور میں نے کسی کو چیختے ہوئے سنا کہ یہ یہاں ہے- مگر میرے حواس اتنے خراب تھے کہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے بارے میں بات کررہے تھے کہ رائٹسمین کے بارے میں۔

بارن ہاؤس نے پرسکون رہنے کی کوشش کی جیسا کہ رائٹسمین نے ہمیشہ اسکو سکھایا تھا۔  وہ جانتا تھا کہ دریا سے باہر آنے کیلیے اسکو پرسکون رہنا ہوگا مگر پانی نے اسکو پھر قابو میں لے لیا۔

22 سالہ نے کہا کہ دوسری دفعہ جب میں نیچے گیا تو میں نے بڑی حد تک اپنے آپکو پرسکون بنا لیا۔ میں نے سوچا بس یہی ہے کہ میرے خیال میں ڈوبتے وقت ایسا ہی محسوس ہوتا ہے اور پھر میں نے اپنے آپ کو پانی سے باہر نکال لیا۔

منہ پر مٹی تھپی ہوئی، پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کی جدوجہد میں، بارن ہاؤس اپنے اطراف سپاہیوں کو یہ چیختے سن پایا کہ رائٹسمین کہاں ہے؟ کسی نے رائٹسمین کو دیکھا ہے؟

اس شام تھکن کے باعث یا شاید دل کے درد کی وجہ سے بارن ہاؤس کا جسم اسکے لیے مفلوج ہوکر رہ گیا اور اسکو طبی بنیادوں پر ہٹانا پڑا۔ رائٹسمین کی تلاش جاری رہی جبکہ بارن ہاؤس ۳۰ میل سے زائد دور کیمپ دائر کے صحتیابی کے کمرے میں بیٹھا رہا۔

وہ واقعات کو دہراتے ہوئے چھت کی طرف دیکھتا رہا اور اپنے آپ سے کہتا رہا کہ اصل میں یہ سب نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جب رائٹسمیں پانی سے باہر نمودار ہوا تھا اور چلایا تھا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے وہ خوفزدہ نہیں لگتا تھا۔

میرا خیال ہے کہ اسکا مطلب یہ تھا کہ مجھے اس شخص کو پانی سے باہر نکالنے میں مدد کی ضرورت ہے، بارن ہاؤس نے کہا کہ اسکو اپنی پرواہ نہیں تھی۔

بارن ہاؤس کے ذہن میں ایک نقشہ تھا۔ سپاہی اپنا راستہ بناتے ہوئے دریا کے اوپر تک گئے ہونگے اور وہاں رائٹسمین اپنی مخصوص مسکراہٹ تلے سگریٹ دبائے ہوئے ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح، کرشماتی سپاہی مذاق کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو چھیڑے گا کہ تم لوگوں نے اتنی دیر کیوں لگادی؟”

بارن ہاؤس اپنی اس امید پر زندہ رہا کہ وہ لوگ رائٹسمین کو زندہ تلاش کرلینگے۔ مورٹن اور شاء بھی اسی خوش فہمی میں تھے مگر رائٹسمین کو دریا میں مزید آگے پانی سے نمودار ہوتے دیکھنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ اسکو پہلے ہی کھوچکے ہیں۔

مورٹن رائٹسمین اور واحداللہ کے سب سے نزدیک تھا جب وہ پانی کے اندر گئے تھے۔ اس نے اپنا سامان پھینکا اور انکے پیچھے گیا مگر سب کی طرح لہروں میں تیرنے کی جدوجہد میں اپنے آپکو تھکا لیا۔ کسی طرح اس نے واپس ساحل پر پہنچنے کو ممکن بنایا جہاں اس نے اپنے جوتے اتارے کہ شاید دوبارہ اندر جانا پڑے اوررائٹسمین کو دیکھنے کی امید میں ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔

رائٹسمین اور واحداللہ کے اندر جانے سے پہلے شاء کو بھی دریا نے کھینچ لیا تھا مگر وہ جلد ہی ساحل تک اپنا راستہ واپس بنانے کے قابل ہوگیا تھا۔ ایش برن، ورجینیا کا رہنے والا شاء ایک بااعتماد پیراک ہے۔ اس نے اپنا سامان اتارا اور رائٹسمین کے پیچھے گیا۔ یہ 22 سالہ نوجوان اپنے فارغ اوقات میں فوم کے تختے کے سہارے پیراکی کرنا پسند کرتا ہے۔ اس کھیل نے اسکو لہروں کے ساتھ کھیلنے اور تند پانی میں اپنے آپکو سنبھالنا سکھا دیا۔ وہ تیزی کے ساتھ دریا میں راستہ بنانے کے قابل ہوا اور رائٹسمین کے قریب پہنچنے لگا۔

شاء اور مورٹن نے ملکر کوشش کی۔ مورٹن اور لانس کورپورل جوشوا لیونتھال ساحل کے کنارے کنارے محافظ کی طرح چلتے رہے، بلبلوں یا رائٹسمین کی کسی نشانی کی تلاش میں تاکہ وہ شاء کو اسکی طرف بھیج سکیں۔

رائٹسمین نے ایک آخری دفعہ پانی سے باہر اپنا راستہ بنایا، تقریباً اس جگہ سے 70 گز کے فاصلے پر جہاں وہ پہلی دفعہ باہر آیا تھا اور مدد مانگی تھی۔ مورٹن اور لیونتھال نےاسکی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں اسکو پکارنا شروع کر دیا۔

رائٹسمین تک شور پہنچا مگر اسکا صرف آدھا چہرہ پانی سے باہر تھا۔ اس نے سپاہیوں پر ایک نظر ڈالی آدھے سانس سے کراہا اور پھرپانی کے اندر چلا گیا۔

شاء سیکنڈوں میں اس جگہ پہنچا جہاں اسکے دستے کا قائد اندر گیا تھا۔

شاء نے کہا کہ میں نے نیچے جتنا غوطہ میں لگا سکتا تھا ۔ میں نے دریا کی تہہ کو محسوس کیا مگر اسکو نہ پاسکا۔ میں زیر آب رہا اور تہہ میں دریا کے ساتھ ساتھ تیرتا رہا۔ میں اوپر آتا اور واپس نیچے جاتا۔ میں غوطہ لگاتا رہا مگر کچھ نہیں پاسکا۔

ہر دستیاب سہولت کے ساتھافغانی اور امریکی رائٹسمین اور واحداللہ کو تلاش کرنے کیلیے ساتھ کام کرتے رہے۔

واحداللہ کی نعش اگلے دن ایک ریکوری ٹیم کو ملی۔ اس سے اگلے روز انہوں نے رائٹسمین کو تلاش کرلیا۔

30 جولائی کو گشتی اڈے جیکر میں رائٹسمین کیلیے ایک یادگاری تقریب منعقد ہوئی۔ اسکو ایک محبوب قائد کی حیثیت میں یاد کیا گیا اور اسنے بعد از مرگ  جنگجو قابلیت کی ترقی کے طور پر سارجنٹ کا عہدہ حاصل کیا۔

کیلو کمپنی کمانڈر کیپٹن شون ایس ـ بیلچر نے کہا کہ اسکا اپنے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بھائیوں کے ساتھ جنگ سے بھی آگے کا عہد تھا۔ وہ لوگوں کا خیال رکھنے میں یقین رکھتا تھا اور اسی طرح سے وہ اپنےدستے میں سے کسی کیلیے اپنے آپکو قربان کرتے ہوئے چل بسا۔

اگرچیکہ رائٹسمین اس دن واحداللہ کو نہیں بچا پایا تھا مگر صرف افغان پولیس کا سپاہی اکیلا نہیں تھا جسکو بچانے کی ضرورت تھی۔ رائٹسمین کے سپاہی اسکی پوجا کرتے تھے – حقیقی معنوں میں اس سے بھائیوں کی طرح محبت کرتے تھے۔ جب وہ دریا میں واحداللہ کے پیچھے گیا اسکے سپاہیوں نے وہی کیا جسکے لیے وہ اپنے آپ کوپابند پاتے تھے۔ اسکی مثال کی تقلید کہ وہ اسکو نہیں بچاسکے مگر انہوں نے متعدد مواقعے پر ایکدوسرے کو بچایا۔

اُنھوں نے ایک دوسرے کا اس لیے ساتھ دیا کہ رائٹسمین انکے لیے ہمیشہ وہاں موجود تھا۔ یہاں تک کہ پانی سے اپنے خوف کے باوجود اس نے ایک آدمی کو جو ایک دوسرے ملک سے تھا ایک دوسری وردی میں ملبوس تھا مگر ایک بھائی اور اسکے دستے کے تمام لوگوں کے برابر تھا بچانے میں کوئی تامل نہیں کیا۔

گاناوا کے ضلعی گورنر  حاجی عبد المناف نے یادگاری تقریب کے دوران کہا کہ اسکا وقف ہونا افغانستان کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلیے رہے گا اور ناوا کے لوگوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے۔

دریائے ہلمند نے تو اسکی لاش کو نگل لیا مگر سارجنٹ رائٹسمین اپنے سپاہیوں میں رہتا ہے۔

نیشول، ٹینیسسی کے رہنے والے مورٹن نے کہا کہ آپ یقینی طور پر ہمارے ٹیم کے قائدین پر رائٹسمین کی چھاپ دیکھیں گے۔ یہ سب اسکے ساتھ برسوں رہے ہیں۔ یہ سب اپنے ہی لوگوں کے آدمی ہیں مگر آپ ان میں رائٹسمین کو دیکھ سکتے ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
17,356+